حکومت نے ایک اور بجلی بم گرا گیا، عوام چیخ اٹھے

حکومت نے عوام کی بجلی کے مزید جھٹکے لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام پر بجلی بم گرا دیا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے بنیادی ٹیرف پر وفاقی حکومت کی درخواست پرفیصلہ جاری کردیا۔فیصلے کے مطابق گھریلو صارفین کےلیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 42 روپے 72 پیسے تک پہنچ گئی جبکہ 200 یونٹ تک کے پروٹیکٹڈ صارفین کےلیے بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا۔

نیپرا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک سے 100 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کےلیے فی یونٹ بجلی 3 روپے مہنگی کردی گئی ہے اور ایک سے 100 یونٹ کے نان پروٹیکٹڈ صارفین کےلیے بجلی کی فی یونٹ نئی قیمت 16 روپے 48 پیسے ہوگی۔نیپرا کے فیصلے کے مطابق 101 سے 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کےلیے فی یونٹ بجلی 4 روپے مہنگی ہوگئی اور بجلی کی فی یونٹ نئی قیمت 22 روپے95 پیسے ہو گی۔

نیپرا کے فیصلے کے تحت201 سے 300 یونٹ ماہانہ کےگھریلوصارفین کےلیے بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے اور اس سلیب کیلئے نئی قیمت 27 روپے 14 پیسے فی یونٹ ہوگی جبکہ 301 سے 400 یونٹ ماہانہ استعمال پربجلی 6 روپے 50 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی ہے اور 301 سے400 یونٹ ماہانہ استعمال پربجلی کی نئی قیمت 32 روپے 3 پیسے ہوگی۔نیپرا کے فیصے میں کہا گیا ہے کہ 401 سے 500 یونٹ ماہانہ استعمال پربجلی کی نئی قیمت 35روپے24 پیسے فی یونٹ ہوگی، 501 سے 600 یونٹ ماہانہ استعمال پر فی یونٹ بجلی ساڑھے 7 روپے مہنگی ہو کر نئی قیمت 36 روپے 66 پیسے فی یونٹ ہوگی۔

نیپرا فیصلے کے مطابق 601 سے 700 یونٹ ماہانہ استعمال پر فی یونٹ بجلی ساڑھے7 روپے مہنگی کردی گئی ہے اور اس سلیب پر فی یونٹ بجلی کی نئی قیمت 37 روپے 80 پیسےہو گی جبکہ 700 یونٹ سے زائد ماہانہ استعمال پر فی یونٹ بجلی ساڑھے 7 روپے مہنگی ہو کر 42 روپے 72 پیسے ہوگئی۔700 یونٹ سے زائد استعمال پربشمول جی ایس ٹی فی یونٹ بجلی50 روپے سے زیادہ میں پڑے گی۔

نیپرا اعلامیے کے مطابق ٹائم آف یوز تھری فیز پیک آورز میں فی یونٹ بجلی کی نئی قیمت 41 روپے89 پیسےہوگی، ٹائم آف یوز تھری فیز آف پیک آورز میں فی یونٹ بجلی کی نئی قیمت 35 روپے57 پیسے فی یونٹ ہوگی جبکہ کمرشل، انڈسٹریز اور زرعی استعمال سمیت دیگر شعبوں کےلیے فی یونٹ بجلی ساڑھے7 روپے مہنگی کردی گئی ہے۔بجلی کی نئی قیمتوں کا نفاذ کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز پر ہوگا۔نیپرا نے فیصلہ نوٹیفکیشن کےلیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے اور بجلی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے ہوگا۔

پاکستان میں حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ تک اضافے کے بعد بجلی کے بلوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی شرائط کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ لیکن کم یونٹ استعمال کرنے والے غریب صارفین پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ 200 یونٹ تک کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، 63 فی صد گھریلو صارفین پر بوجھ نہیں پڑے گا، 31 فی صد صارفین کو جزوی سبسڈی دی گئی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے عام صارفین پر لازمی طور پر دباؤ پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق بجلی کی بنیادی قیمت میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ تک اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت کے دوران نیپرا حکام نے کہا کہ ٹیرف میں اضافے کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور ادائیگیاں ہیں۔

تجزیہ کار اور توانائی امور کے ماہر سمیع اللہ طارق کہتے ہیں کہ حکومت نے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو کچھ رعایت دی ہے۔ لیکن دیگر صارفین پر بہت زیادہ دباؤ ڈال دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے سے گھریلو کے ساتھ ساتھ کمرشل صارفین پر بھی دباؤ آئے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ اضافہ صرف آئی ایم ایف کے کہنے پر نہیں کیا بلکہ ایک عرصے سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جسے کنٹرول کرنے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔

سمیع اللہ طارق کا کہنا تھا کہ اس سے حکومت کو اربوں اضافی روپے جمع ہوں گے جو مشکل معاشی صورتِ حال میں مدد گار ہوں گے۔

رواں ماہ کئی علاقوں میں ایسی شکایات بھی آئی ہیں کہ جن علاقوں میں میٹر ریڈنگ مہینے کے وسط میں کی جاتی تھی وہاں 15 دن کی تاخیر سے کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے یونٹ بڑھ جانے سے بجلی کے بلوں میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے۔

 راول پنڈی کے وسیم ملک کے ساڑھے تین مرلے گھر کا بجلی کا بل 13 ہزار روپے آیا ہے۔ وسیم پرائیویٹ ملازمت کرتے ہیں اور ان کی ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’جولائی کا بجلی کا بل دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو چکے ہیں، بس یہی سوچ رہا ہوں کہ ادا کیسے کروں گا، کسی یار دوست کی منت کر کے ادھار لوں گا۔’گرمیوں کے چار ماہ بجلی کا خرچہ پورا کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے، جسے واپس ادا کرنے میں چھ سے آٹھ مہینے لگ جاتے ہیں۔‘پاکستان کے طول و عرض میں بجلی صارفین شدید پریشان ہیں اور گھریلو صارفین بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہے۔

ٹیکسی ڈرائیور محمد کلیم کا بجلی کا بل نو ہزار روپے آیا، جس پر وہ سراپا احتجاج ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے گھر میں صرف دو پنکھے اور دو بجلی کے بلب ہیں، پانی کے لیے بجلی کی موٹر نہیں، صرف شادی بیاہ پر ضروری کپڑے استری کیے جاتے ہیں، اے سی لگانے کی حیثیت نہیں، پھر بھی بجلی کا بل نو ہزار روپے آیا ہے۔ عوام نے حکومت سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ

خواجہ آصف نے عمرانڈوز کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟

اضافہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Back to top button