حماس نےغزہ خالی کرنےکااسرائیلی منصوبہ نسل کشی قرار دیدیا

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے غزہ کو خالی کرانے کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے اور ان کی نسلی کشی کی نئی سازش قرار دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی کے شہریوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ دراصل لاکھوں فلسطینیوں کو جلا وطن کرنے اور ان کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کی ایک تازہ مہم ہے۔

حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ میں خیمے اور پناہ گاہیں قائم کرنے کی تجویز کھلا دھوکا ہے۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ انسانی امداد کے نام پر خیموں کی فراہمی کا مقصد صرف اسرائیلی فوج کے مظالم کو چھپانا ہے جو وہ آنے والے دنوں میں کرنے جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی غزہ میں شہریوں کی منتقلی کے لیے خیمے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ انہیں "محفوظ” مقامات پر لے جایا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں غزہ سٹی پر قبضے کے لیے نئی کارروائی کا عندیہ دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

Back to top button