ڈیل میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی میں شدت آ گئی

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کوئی قومی مسئلہ نہیں ہے، حکمراں پارٹی میں بھی بہت اختلافات ہیں لیکن اس پر کھل کر بات نہیں ہوتی، پی ٹی آئی میں موجود لوگ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اب ان کے درمیان اختلاف رائے نظر آرہا ہے۔ فواد چوہدری پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ہیں اس لئے ان کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

حامد میر کے مطابق مشکل وقت میں پارٹی چھوڑنے والے اب پی ٹی آئی پر تنقید کررہے ہیں، پارٹی کے اندر جن لوگوں میں اختلاف ہے ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں وہ سب عمران خان کے نام کے محتاج ہیں، ان دونوں گروپوں میں اختلاف اس بات پر ہے کہ عمران خان ابھی تک رہا کیوں نہیں ہوئے۔ایک گروپ کہتا ہے کہ عمران خان رہا نہیں ہوئے تو پارٹی کے چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور دیگر عہدیدار ذمہ دار ہیں، اصل لڑائی یہ ہے کہ ایک گروپ دوسرے گروپ پر الزام لگارہا ہے کہ تم جو ڈیل کروانے کی کوشش کررہے ہو وہ کامیاب کیوں نہیں ہورہی۔ حامد میر کے بقول حقیقت یہ ہے کہ عمران خان عوام کو اپنے اور نواز شریف کے درمیان فرق بتانا چاہتے ہیں، نواز شریف اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے لیکن میں ڈیل کر کے باہر نہیں آؤں گا صرف عدالتی فیصلے سے باہر آؤں گا۔

عمران خان نے بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی دے دی

دوسری جانب سینئر صحافی حیدر شیرازی کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے پارٹی میں دو گروپس کا اقرار کیا ہے لیکن میری اطلاعات کے مطابق پارٹی میں دو سے زیادہ گروپس ہیں اور ان گروپس کے درمیان عمران خان کی رہائی کے علاوہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے بھی شدید اختلافات ہیں۔حیدر شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دونوں گروپوں نے اختلافات کی تردید وقتی طور پر کی ہے، عمران خان اپنے وکلاء کے ذریعہ پیغام دیا تھا کہ جو لوگ اس وقت بہت جوش سے پارٹی میں گفتگو کرتے نظر آرہے ہیں ان کے نام مجھے دیئے جائیں اگلے انتخابات میں انہیں ٹکٹ نہیں دیں گے۔

تاہم سینئر صحافی و تجزیہ کار منیب فاروق کے مطابق سانحہ نو مئی کو سوا سال ہوگیا مگر اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی سے کوئی گفتگو کرنا نہیں چاہتی جو مایوس کن بات ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی سے اسٹیبلشمنٹ کے گلے شکوے پہلے دن کی طرح آج بھی قائم ہیں، بدقسمتی سے کوئی راستہ بنتا نظر نہیں آرہا جس کی وجہ سے تحریک انصاف میں دن بدن فرسٹریشن بڑھ رہی ہے اسی وجہ سے پی ٹی آئی رہنما آمنے سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔منیب فاروق کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ذات کے علاوہ تحریک انصاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے، تحریک انصاف کی سیاست میں اہمیت ہے اسی لیے پارٹی آج بھی زیرعتاب ہے، عمران خان آج بھی مقبول اور پی ٹی آئی آج بھی مضبوط ہے، میری اطلاعات کے مطابق اس وقت عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ تاہم سینئر صحافی عمر چیمہ کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافات کو بڑھانے میں عمران خان کا اپنا کردار بھی ہے، عمران خان پارٹی میں لڑائی نہیں چاہتے تو ذمہ داروں کیخلاف فوری ایکشن لیتے۔

Back to top button