کیا چکن کو سکن کیساتھ استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہے؟

ولائتی چکن دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی غذا ہے، کیونکہ یہ عموماً سستا اور کم چربی کا حامل ہوتا ہے، مرغی کا گوشت پروٹین سے بھرپور ہے اور وٹامنز اور منرلز کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس میں انسانی غذائیت کیلئے فائدہ مند چربی کی نمایاں مقدار بھی ہوتی ہے جو دل کی صحت اور شریانوں کو فائدہ دیتی ہے۔ لیکن چکن کے استعمال کے حوالے سے بہت ساری غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں جو کہ بنیاد ہیں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کی سکن یا جلد میں 32 فیصد چکنائی ہوتی ہے، یعنی ہر 100 گرام جلد میں 32 گرام چربی ہوتی ہے، ان چکنائیوں میں سے دو تہائی چکنائی ‘گڈ فیٹ’ کہلاتی ہےجو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن اس میں ایک تہائی حصہ اس چکنائی کا ہوتا ہے جسے ہم ‘بیڈ فیٹ’ یا بری چکنائی کہتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں بیڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھاتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم مرغی کے سینے کا 6 اونس گوشت سکن کے بغیر کھاتے ہیں تو ہم 284 کیلوریز استعمال کریں گے، جس میں 80 فیصد کیلوریز پروٹین اور 20 فیصد چربی سے آتی ہیں۔ لیکن کیلوریز کی اس تعداد میں البتہ بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا جب ہم اتنی مقدار کے گوشت کو جلد کے ساتھ کھائیں۔ یوں ہم 386 کیلوریز کھائیں گے، جس میں 50 فیصد پروٹین سے اور 50 فیصد چربی یا چکنائی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے عمومی تجویز یہ ہے کہ کھانے سے پہلے سکن کو ہٹا دیا جائے، تاکہ کھانے میں اضافی کیلوریز یا چربی شامل نہ ہو۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن کے گوشت کو ڈی فروسٹ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اسے فریزر سے نکال کر فریج میں رکھنا ہے۔
وزن گھٹانے کے سرزد ہونیوالی عام غلطیاں
وہ کہتے ہیں کہ کمرے کے درجہ حرارت پر چکن کے گوشت کو ڈی فروسٹ کرنے سے ان جراثیم کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے جو گوشت کو خراب کر سکتے ہیں۔ جبکہ فریج میں ڈی فروسٹ کا عمل تھوڑا آہستہ ہوتا ہے اور پوری مرغی کو نرم ہونے میں 24 گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں فریزر سے چکن نکالنے سے قبل ہی تیاری کر لینی چاہیے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ چکن کے گوشت کو کبھی بھی کمرے کے درجہ حرارت یا گرم پانے میں ڈی فروسٹ یا نرم نہیں کرنا چاہیے۔
