پاکستان کے بعد وجود میں آنے والا چین ترقی میں اتنا آگے کیسے نکل گیا؟

1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے دو برس بعد 1949 میں آزادی کی نعمت حاصل کرنے والے ہمسایہ ملک چین نے پچھلی چار دہائیوں میں جس برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کی ہیں وہ بلاشبہ ایک حیران کن حقیقت ہے جس سے پاکستان کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ حال ہی میں چینی قونصل خانے کی جانب سے بیجنگ، شینزن اور گوانزو بھیجے گئے پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد نے چین کی بے مثال ترقی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چین کی ترقی کی وجوہات کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ اقتصادی اصلاحات ہیں جن کی بدولت چین چار دہائیوں کے مختصر عرصے میں دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت بن کر اُبھرا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق چین دنیا بھر میں سب سے مضبوط اقتصادی طاقت کے منصب پر پہنچ چکا ہے جس کا اب صرف رسمی اعلان ہونا باقی ہے۔
کیا کملا ہیرس اپنے حریف ٹرمپ کو ہرانے کی پوزیشن میں آگئی ہیں؟
یاد رہے کہ چین نے اَسّی کی دہائی کے اوائل میں اپنی ریاستی پالیسی اور معاشی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ چین کے نظام میں بڑی تبدیلیوں اور اصلاحات کا محور دراصل چین کا معاشی نظام تھا جو باقی دُنیا سے تقریباً الگ تھلگ تھا۔ چینی رہنماؤں کو ادراک ہوا کہ دُنیا میں تنہا رہ کر معاشی ترقی کا خواب مشکل سے شرمندۂ تعبیر ہو گا لہٰذا چین کی سیاسی قیادت اور معاشی ماہرین نے سوچ بچار کے بعد ایسی پالیسیاں وضع کیں کہ جن سے اُن کے لیے باقی دُنیا کے معاشی نظام میں ضم ہونے کی گنجائش پیدا ہو سکے۔ جب چین نے انقلابی اصلاحات پر عمل شروع کیا تو اس کے معاشی اشاریے تیزی سے بہتر ہونا شروع ہو گئے۔ ان اصلاحات کی بدولت چین نہ صرف بہت کم وقت میں دُنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر اُبھرا ہے۔ کچھ معاشی ماہرین کی رائے میں تو چین دنیا کی پہلی بڑی معیشت بننے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اسی وجہ سے امریکہ اس سے خائف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی حیرت انگیز ترقی کا پہلا راز اس کی سیاسی قیادت کی دور اندیشی میں مضمر ہے۔ انکے مطابق علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں چینی قیادت کی دانش مندی اور دور اندیشی نمایاں نظر آتی ہے۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ چین کے سیاسی معاملات پر اختلافات ہیں اور کئی دہائیوں سے تعلقات میں مستقل سرد مہری ہے لیکن اس کے باوجود چین نے اُن ممالک کے ساتھ نہ صرف تجارتی، معاشی و اقتصادی تعلقات قائم کر رکھے ہیں بلکہ مسلسل اُن میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کے ساتھ چین کے سرحدی معاملات پر اختلافات ہیں اور جن کی وجہ سے کئی بار دونوں ملکوں کی افواج کے مابین جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج آج بھی لداخ سیکٹر سمیت کئی مقامات پر آمنے سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے مابین تجارت نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دیگر کئی ممالک کے ساتھ بھی چین کی سیاسی مخاصمت ہے یا وہ چین کے ساتھ کئی معاملات پر اختلاف رکھتے ہیں لیکن اُن کے ساتھ بھی چین بہت دُور اندیشی، دانش اور احتیاط سے ڈیل کرتا ہے۔ چین کے بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ معیشت کو سب سے بڑی ترجیح سمجھتا ہے اور اِس دُور اندیشی ہی میں چین کی منفعت پنہاں ہے۔
ملک میں غربت پر مکمل قابو پانا بھی چین کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی یے۔ جس طرح چین نے انتہائی کم وقت میں غربت کا خاتمہ کیا ہے‘ اُس سے نہ صرف وہ دُنیا میں ایک مثال بلکہ ایک کامیاب ماڈل بن کر بھی اُبھرا ہے۔ چین جدید دُنیا کی تاریخ کا شاید واحد ملک ہے جس نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وہاں اب انتہائی غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ صرف چار دہائیوں میں ممکن ہوا ہے کہ لوگ انتہائی غربت کے چنگل سے آزاد ہوئے۔ چین میں انتہائی غربت کے خاتمے کی وجہ سے دُنیا کی غربت 70 فیصد تک کم کرنے میں بھی مدد ملی۔ یوں چین نے نہ صرف 77 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا بلکہ عالمی سطح پر بھی تین چوتھائی غربت کا خاتمہ کرنے میں مدد کی؛ یعنی چین کی طرف سے اپنے ہاں غربت کو ختم کرنا، عالمی سطح پر بھی غربت کو کم کرنے کے مترادف تھا۔ غربت کے خلاف چین کی جنگ انسانی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اِس جنگ میں کامیابی صرف تسلسل سے جاری رکھی جانے والی پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہوئی۔ غربت کے خاتمے کے لیے چین نے وسیع تر معاشی اہداف طے کیے، لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے، اوسط آمدن کو بڑھا نے میں انہیں مدد فراہم کی۔ چین نے ایک سکیم کے تحت پہلے پسماندہ ترین علاقوں کو ترقی دی اور پھر خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں پر توجہ مرکوز کی۔ سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ اس پالیسی کو ایک تسلسل کے ساتھ لاگو کیا اور جاری رکھا گیا۔ چین میں غربت کے خاتمے کیلئے زراعت کے شعبے نے نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ بڑی حد تک چین کی غربت کے خاتمے کی کوششوں کا مرکز زراعت، کسان اور دیہی علاقوں کی ترقی جیسے اقدامات تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایسے ملک میں ہوا جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے‘ یعنی چین کو غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کا چیلنج بھی درپیش تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی مثالی ترقی میں گورننس سسٹم کا بھی گہرا عمل دخل ہے۔ یہ سسٹم چین کی سب سے بڑی جماعت کمیونسٹ پارٹی کا مرہونِ منت ہے۔ چین میں اصلاحات اور عمومی ترقی پر کمیونسٹ پارٹی یکسو ہے۔ وہ مختلف اداروں میں ترقی و خوشحالی کے لیے سفارشات تیار کرنے میں مدد کرتی ہے اور اُن پر عمل درآمد کا لائحہ عمل بھی طے کرتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کردار کو چین کا آئین تحفظ دیتا ہے اور اِس طرح یہ چین میں سیاسی استحکام کی بھی ضامن ہے۔ چین کا گورننس ماڈل مؤثر کارکردگی پر انحصار کرتا ہے۔ نظام میں مسلسل اصلاحات کا عمل جاری رہتا ہے جس سے حکومتی مشینری کی استعداد بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ دنیا میں بہت سے ناقدین چین کے گورننس سسٹم اور اکلوتی کمیونسٹ پارٹی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں کہ چین کا نظام دُنیا میں رائج دیگر نظاموں سے مختلف اور منفرد ہے لیکن بہت سے دانشور چین کی غیر معمولی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کے معترف ہیں۔ چین کی قیادت اور پارٹی کے زعما بھی اِس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ گورننس کے معاملے میں کسی قسم کی ناکامی درحقیقت پارٹی کی ناکامی تصور ہو گی اور گورننس کی ناکامی پارٹی کی ساکھ اور قانونی حیثیت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ چین کا گورننس سسٹم ایسا منفرد سسٹم ہے جو پارٹی اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون سے چلتا ہے جس کو عرفِ عام میں پارٹی گورنمنٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ چین میں سیاسی اور معاشی استحکام کی وجہ پالیسی کا تسلسل اور مؤثر گورننس سسٹم ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کے جو لوگ اِس نظام سے مستفید ہو رہے ہیں‘ اُن کا ریاست اور نظام پر اعتماد پختہ ہوا ہے۔
لہذا اگر پاکستانی سیاسی قیادت بھی چاہتی ہے کہ ہمارا ملک بھی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے تو اسے چین سے بہت کچھ سیکھنا یو گا۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو سیکھنا ہو گا کہ چین کی سیاسی قیادت نے کس طرح چین کے وژن اور مقاصد طے کیے اور کیسے اُن مقاصد کے حصول کے لیے واضح حکمت عملی مرتب کی۔ ہماری قیادت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ چینی قیادت نے کس طرح بروقت فیصلے کر کے سبک رفتاری سے ترقی کے بڑے منصوبے مکمل کیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کچھ دہائیوں پہلے تک سیاسی تنہائی کے شکار چین کو اسکی لیڈرشپ نے کس طرح ایک ایسا ملک بنا دیا ہے جس سے ساری دُنیا کے ممالک سیاسی، سفارتی، تجارتی اور ثقافتی روابط رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر سیکھنا چاہے تو پاکستانی سیاسی قیادت بھی ہمسایہ ملک چین کی لیڈرشپ سے محنت، جانفشانی، یکسوئی اور دانش سیکھ سکتی ہے جس کے پیچھے ہزاروں سال کے تجربات چھپے ہوئے ہیں۔
