چیف جسٹس عیسی کو دھمکی دینے والا TLP رہنماپکڑا کیوں نہیں جا رہا؟

حکومت کی طرف سے بلند و بانگ دعوؤں اور پے درپے پریس کانفرنسز کے باوجود چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو قتل کی دھمکیاں دینے اور ان کے سر کی قیمت مقرر کرنے والا مرکزی ملزم ظہیر الحسن تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ حالانکہ پولیس کی جانب سے دو روز قبل ہی ٹی ایل پی رہنما ظہیر الحسن کی شیخوپورہ سے گرفتاری کا جھوٹا دعوی کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کا مطلوبہ مرکزی رہنما پنجاب سے فرار ہو کر خیبرپختونخوا میں چھپ گیا ہے۔ جس کی گرفتاری کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کیا کملا ہیرس اپنے حریف ٹرمپ کو ہرانے کی پوزیشن میں آگئی ہیں؟

خیال رہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان نے اتوار کو لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا جس میں چیف جسٹس آف پاکستان کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے علاوہ اُن کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں دہشت گردی اور مذہبی منافرت پھیلانے، کارِ سرکار میں مداخلت، اعلٰی عدلیہ کو دھمکیاں دینے سمیت دیگر دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے کے اندراج کے بعد چیف جسٹس کے سر کی قیمت مقرر کرنے والے ظہیرالحسن کی گرفتاری کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تاہم پنجاب پولیس کے مطابق ظہیرالحسن کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

واضح رہے کہ 24 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف مذہبی تنظیموں کی طرف سے دی گئی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے احمدی کمیونٹی کے فرد مبارک احمد ثانی کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔مختلف مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اجتجاج کا اعلان کیا تھا۔مبارک احمد ثانی پر الزام تھا کہ وہ احمدی کمیونٹی کی جانب سے قرآن کی تفسیر ‘تفسیرِ صغیر’ کی اشاعت اور تقسیم میں ملوث تھے۔ اس حوالے سے چھ دسمبر 2022 کو پنجاب کے شہر چنیوٹ کے تھانہ چناب نگر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مبارک احمد ثانی کو جنوری 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔مبارک احمد کی گرفتاری کے بعد ایڈیشنل سیشن جج اور بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اعلیٰ عدالت نے چھ فروری 2024 کو فیصلہ سناتے ہوئے مبارک احمد ثانی کو پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض فوراً ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ نظرِثانی اپیل کے بعد بھی بدھ کو عدالتِ عظمیٰ نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس فیصلے کیخلاف ٹی ایل پی نے اتوار کو احتجاج کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فوری طور پر ریفرنس دائر کر کے ان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم ٹی ایل پی کے لاہور کے احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

وفاقی وزرا خواجہ آصف اور احسن اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد سے مقدمہ میں نامزد تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر ظہیرالحسن سمیت چند کارکنوں کی گرفتاری بارے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران بتاتے ہیں کہ پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے اُن کارکنوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے جو مقدمے میں نامزد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش، آپریشن اور سی آئی اے کی ٹیمیں اِس معاملے پر کام کر رہی ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن کے مطابق مقدمے میں نامزد ٹی ایل پی کا نائب امیر اور مرکزی ملزم ظہیر الحسن تاحال روپوش ہے جس کے باعث پولیس اُنہیں گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کا کہنا تھا کہ اِس کیس کے سلسلے میں پولیس پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ایک کام خلافِ قانون ہوا ہے جس پر دباؤ جیسے فیکٹر تو ہوتے ہیں لیکن اگر دباؤ ہوتا تو مقدمہ ہی درج نہ ہوتا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اِس وقت پولیس کی یہی کوشش ہے کہ مرکزی ملزم سمیت تمام ملزموں کو گرفتار کر لیا جائے۔تاہم صورتحال سے باخبر ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ پیر ظہیر الحسن شاہ پیر کی رات پنجاب سے خیبر پختونخواہ فرار ہو گئے ہیں۔ وہاں پر انتطامی عدم تعاون کے باوجود مرکزی ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

Back to top button