کیا کملا ہیرس اپنے حریف ٹرمپ کو ہرانے کی پوزیشن میں آگئی ہیں؟

امریکی صدارت کے لئے صدر بائیڈن کی جگہ ان کی بھارتی نژاد سیاہ فام نائب صدر کملاہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کنونشن سے صدارتی انتخاب کیلئے نامزدگی حاصل کرنے سے قبل ہی اپنی تیز رفتار حکمت عملی اور سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف اپنی پارٹی کو بحرانی کیفیت سے نکال کر منظم کرلیا ہے بلکہ اپنے بارے میں امریکی سیاست کے تمام حلقوں اور ناقدین کوبھی حیران کر ڈالا ہے۔ جو حلقے ری پبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیاب اور کملاہیرس کو محض صدر بائیڈن کے تاخیری فیصلوں کے باعث انتخابی اور سیاسی ’’قربانی‘‘ اور ٹرمپ کی کامیابی کی پیشگوئی کررہے تھے اب ان کی تبدیل شدہ رائے کے مطابق ٹرمپ اور کملاہیرس کے درمیان امریکی صدارت کیلئے سخت مقابلہ کی توقع ہے۔

قیدی نمبر 804 نے "حافظ ہمارا بھائی ہے” کا نعرہ لگانے میں دیر کر دی

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدارتی الیکشن بارے تازہ سروے پولز میں ری پبلکن ٹرمپ کو 49؍ فیصد جبکہ ڈیموکریٹ کملا ہیرس کو 47؍ فیصد عوامی مقبولیت حاصل ہے جو صدر بائیڈن کی عوامی مقبولیت کے گراف سے بہت آگے اور بہتر ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹ قائدین بارک اوباما اور بل کلنٹن سمیت اہم قائدین نے دل کھول کر کملا ہیرس کی حمایت شروع کردی ہے ور ڈیموکریٹ ڈونرز نے انتخابی فنڈز کیلئے اپنے مالی پرس کے منہ کھول کر چند دنوں میں 900؍ ملین ڈالرز کے عطیات جمع کرادیئے ہیں۔ کملا ہیرس اپنے خطاب اور بیانات میں ڈونالڈ ٹرمپ کو مباحثہ کیلئے للکارنے اور جرائم سے ڈیل کرنے کیلئے بطور وکیل اور اٹارنی جنرل اپنے تجربہ اور طریقوں کا حوالہ دیتے سنائی دیتی ہیں۔

مبصرین کے بقول کملا ہیرس نے اپنے تندوتیز بیانات سے اپنے حریف امیدوار اور پارٹی پر دباؤ بڑھادیا ہے۔ ری پبلکن رہنما اور سابق گورنر اور سابق صدارتی امیدوار نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ کملا ہیرس کی صدارتی امیدوار کے طور پر انتخاب ٹرمپ کی انتخابی شکست کا پیغام لئے ہوئے ہے۔ مختصر یہ کہ صدر بائیڈن کی دست برداری اور کملا ہیرس کی امیدواری کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کیلئے مایوس کن صورتحال کو یکسر اور چند دنوںمیں تبدیل کر ڈالا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کے صدارتی انتخابات میں اب 100؍ دن سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے کملا ہیرس نے ان چند دنوں میں ٹرمپ کے مخالف کیمپ کو یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ امریکا میں عوامی مسائل کیلئے دو وژن ہیں اور وہ عام شہری کے مسائل کے لئے لڑ رہی ہیں انہوں نے امریکی سیاست میں موجودہ بحرانی کیفیت کا ذکر کرنے کے علاوہ اسقاط حمل، عورت کے جسم پر عورت کا اختیار، نسلی امتیاز، اقلیتی امور اور حقوق کو اپنا ایجنڈہ قرار دیکر پہلے مرحلہ میں اقلیتوں کے ووٹرز اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بکھرے ہوئے اور کنفوژن کے شکار حامیوں کو متحد اور متحرک کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس سلسلے میں کامیاب بھی رہی ہیں، کملا کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی نہ صرف متحرک نظر آتے ہیں بلکہ پارٹی کو عطیات دینے والے ڈونرز نے بھی آگے بڑھ کر فنڈز کے ڈھیر لگادیئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق کملا ہیرس امریکی سیاست کے لحاظ سے لبرل نقطہ نظر کی حامی ہیں ان کے سیاسی اور انتخابی حریف ڈونالڈ ٹرمپ انہیں ’’مارکسٹ فراڈ‘‘ اور دیگر ایسے ناموں سے پکارتے ہیں جو امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام میں انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کملا کی جیت سے جہاں امریکی سیاست میں متعدد تبدیلیاں رونما ہونگی وہیں دوسری جانب اگر کملا ہیرس صدر منتخب ہوگئیں تو پاکستان کو انسانی حقوق اور اقلیتوں کے امور کے بارے میں متعدد مطالبات اور دباؤکا سامنا کرنا ہوگا۔

Back to top button