عمران دور میں فیض نے میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہن سازی کیسے کی؟

یوں تو پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی اسٹیبلشمنٹ کی روش بڑی پرانی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے دور حکومت میں یہ روش آخری حدوں کو چھو گئی۔ اس دور میں عمران اور فیض کی اسٹیبلشمنٹ کے ناقد صحافیوں کو گولیاں مارنے، انہیں اغوا کرنے اور گرفتار کروانے کے علاوہ دباؤ ڈال کر مرضی کے پروگرام یا خبریں نشر کروانے کا کلچر فروغ پایا۔ فیض نیٹ ورک کا حصہ نہ بننے والے صحافیوں کو سبق سکھانے کے لیے طرح طرح کے ظالمانہ ہتھکنڈے تو استعمال کیے گے۔ لیکن اس دور میں اہم کاروباری شخصیات کے پیسوں سے میڈیا ہاؤسز بھی خریدے گے اور نئے ٹی وی چینلز بھی شروع کیے گئے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کا پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مخالف بیانیہ آگے بڑھایا جا سکے اور لوگوں کی عمران خان اور تحریک انصاف کے حق میں ذہن سازی کی جا سکے۔
اس سلسلے کا آغاز دراصل سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے دور میں ہوا جب شعیب شیخ کے ذریعے بول ٹی وی شروع کیا گیا۔ تاہم جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور سابق ایڈیشنل آئی جی سندھ مرحوم شاہد حیات کے ٹرائیکا نے بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کا جعلی تعلیمی ڈگریوں کے دھندے کا بھانڈا پھوڑ کر اس پراجیکٹ کو لانچ ہونے سے پہلے ہی نیست و نابود کر دیا۔
جنرل ظہیر الاسلام کے بعد جنرل فیض کے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی وی کے سابقہ پروڈیوسر غضنفر علی سے زور زبردستی انڈس ٹی وی کے نام سے منسوب متعدد ٹی وی چینلز کے لائسنس ہتھیا کر اردو اور انگلش زبان میں نیوز چینلز لانچ کیے۔ حال ہی میں معروف صحافی ابصار عالم کے ساتھ فیض حمید کی گفتگو کی وائرل ہونے والی آڈیو میں جن ٹی وی لائسنز کی بات ہو رہی ہے وہ دراصل انہی دو نیوز چینلز کے متعلق تھی۔ یہ چینلز بعد میں آپ ٹی وی اور انڈس انگلش نیوز کے نام سے لانچ کروائے گے۔ اس حوالے سے ابصار عالم نے کچھ دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں جن کے مطابق انڈس ٹی وی کے پاس ٹوٹل چار چینلز کے لائسنسز تھے جن میں سے دو لائسنسز انڈس ٹی وی کے مالک پر تشدد کر کے بزور طاقت حاصل کیے گئے۔ ٹی وی چینلز کے لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی یعنی پیمرا کے ریکارڈ کے مطابق انڈس ٹی وی کے 3 ہزار شیئرز بالترتیب غضنفر علی، الطاف حسین شاہ اور مس زرمینہ علی کے نام پر فی کس ایک ہزار کے حساب سے درج تھے۔ ان شیئرز کو 29 اکتوبر 2018 کو اینکر پرسن آفتاب اقبال اور ان کے قریبی عزیزوں کے نام پر ٹرانسفر کروا دیا گیا۔ شیئرز کی تقسیم کچھ اس طرح سے کی گئی کہ آفتاب اقبال کے نام پر 2697 شیئرز ٹرانسفر ہوئے، مس شانزے نور کے نام پر 150 شیئرز، اور مس نیہا نور کے نام پر 150 شیرز ٹرانسفر کیے گئے۔۔بتایا جاتا یے کہ بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض، ٹاپ سٹی کے مالک کنور معیز اور کراچی کے معروف بزنس مین عبدالکریم ڈھیڈی سے ہتھیائے گئے پیسوں سے آپ ٹی وی اور انڈس نیوز انگلش کی شروعات کی گئی۔
پیمرا چیئرمین کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والے ابصار عالم نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آپ ٹی وی سے وابستہ معروف صحافی عمران میر نے بتایا تھا کہ اس کے سامنے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا "کار خاص”برگیڈیئر غفار ایک ارب 45 کروڑ کی خطیر رقم کیش کی صورت میں آپ ٹی وی کے ہیڈ افس ڈلیور کر کے گیا تھا. ابصارعالم نے افتاب اقبال پر قومی اداروں میں تقسیم، نفرت، اور سیاسی تعصب بڑھانے اور لوگوں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے الزامات بھی لگائے۔ ابصار نے افتاب اقبال کوطعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دھرتی کے بیٹے ہیں تو بیرون ملک کیوں فرار ہو گئے ملک میں رہ کر ان الزامات کے جواب کیوں نہیں دیتے۔اس پر افتاب اقبال نے اپنے ایک وی لاگ میں ان الزامات کو رد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ابصار ان الزامات کے ثبوت مہیا نہیں کرتے اور ان سے اور قوم سے معافی نہیں مانگتے تو وہ انہیں عدالتوں میں گھسیٹیں گے۔تاہم افتاب اقبال نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے دونوں ٹی وی چینلز فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر شروع کیے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ ایک بزنس مین ہیں اور انہیں کوئی بھی چینل شروع کرنے کا کہے گا تو وہ پیشہ ور صحافی کے طور پر سب کے لیے حاضر ہیں۔ یاد رہے کہ آفتاب اقبال نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے یمما پر جو دو ٹی وی چینلز شروع کیے تھے وہ صرف 10 ماہ بعد ہی بند ہو گئے تھے۔
