تحریک لبیک بارے فائز عیسیٰ کا موقف کیسے درست ثابت ہوا؟

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تحریک انصاف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قومی مفاد کے نام پر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو سو جوتے اور سو پیاز کھانے والے محاورے کے عین مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں جب جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اس حکم کو بجا لانے کی بجائے الٹا اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے قاضی فائز عیسی کو نشانے پر رکھ لیا تھا۔ دراصل تب اسٹیبلشمنٹ تحریک لبیک کی پشت پر تھی اور اس کے ذریعے منتخب حکومتوں کو دباؤ میں لانے کا کام لیتی تھی۔تاہم اب اسٹیبلشمنٹ کی لائی ہوئی حکومت کے لئے مسائل کھڑے کرنے والی تحریک لبیک کو قومی مفاد کے نام پر کالعدم قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ بھائی لوگ نہیں چاہتے کہ انہیں کی بنائی ہوئی کوئی تنظیم اب انکی بنائی ہوئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ تحریک لبیک پر پابندی کے فیصلے سے ثابت ہوا کہ سچ ہمیسہ قومی مفاد سے برتر ہوتا ہے کیونکہ قومی مفاد بدلتے مفادات کے ساتھ بدلتا رہتا یے لیکن سچ ہمیشہ سچ ہی رہتا ہے اور کبھی جھوٹ ثابت نہیں ہوتا۔ تحریک لبیک کے معاملے میں بھی یہی ثابت ہوا کہ قومی مفاد کے نام پر اس کو فروغ دینے کی پالیسی غلط تھی اور سچ یہی تھا کہ اس شدت پسند مذہبی تنظیم کی کارروائیاں ملک و قوم کے لئے نقصان دہ تھیں۔ سچ یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے کارروائیاں کرنے والی جہادی تنظیموں اور شدت پسند مذہبی اور لسانی تنظیموں نے ملک کے امیچ کو بے پناہ نقصان پہنچایا اور ان کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔ لیکن ماضی میں ان پر ہاتھ ڈالنا قومی مفاد کے خلاف تھا اور اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے انہیں دیوار سے لگانا عین قومی مفاد میں ہے۔ قومی مفاد کا تازہ ترین شکار تحریک لبیک ہے جسے کبھی اسٹیبلشمنٹ نے خود ہی پروان چڑھایا تھا اور اب اسکو قابو کرنے کے لیے اسی اسٹیبلشمنٹ کو سو جوتے بھی کھانے پڑے ہیں اور سو پیاز بھی۔ اس محاورے کی اصلیت کچھ یوں ہے کہ کسی جگہ کسی جرگے نے مجرم کو سزا سنائی کہ اُسے یا تو 100 جوتے کھانے پڑیں گے یا 100 پیاز۔ مجرم نے کہا کہ وہ سو پیاز کھائے گا۔ جب سزا پر عمل درآمد شروع ہوا تو مجرم نے ارادہ بدل لیا اور سو جوتے کھانے کی فرمائش کر ڈالی۔ کہتے ہیں کہ بار بار ارادہ بدلنے پر آخری وقت تک مذکورہ مجرم کو سو پیاز بھی کھانے پڑے اور سو جوتے بھی۔
اگر پاکستانی ریاست فیض آباد دھرنا کیس میں قاضی فائز عیسی کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے تحریک لبیک اور ان کے ہینڈلرز کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتی تو آج اسے سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ان بدترین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا مگر کپتان اور اسکی ساتھی اسٹیبلشمنٹ نے قاضی فائز عیسی کو ملعون مطعون کرتے ہوئے نہ صرف انکے فیصلے کو چیلنج کیا بلکہ انہیں عدلیہ سے نکلوانے کی بھرپور کوشیں بھی کیں جو ایک صدارتی ریفرنس کی صورت میں تاحال جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جسٹس فائز عیسی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا گٹھ جوڑ ماضی میں ان کی جانب سے دی گئی سچی رولنگز خصوصا فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کی وجہ سے ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2017 میں فیض آباد کے مقام پر دیے گئے دھرنے کے خلاف از خود نوٹس کے فیصلے میں جہاں ایک جانب سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے وہیں اس دھرنے میں عسکری حکام کے پس پردہ کردار پر بھی کافی تنقید کی تھی۔جسٹس فائز عیسی اور جسٹس مشیر عالم پر مبنی دو رکنی بینچ نے اپنے 43 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ عام تاثر ہے کہ آئی ایس آئی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو کسی خفیہ ادارے کے دائرہ کار میں نہیں آتیں، جیسے سیاست۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فوج کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں لیے گئے جس سے آئی ایس آئی کا سیاست میں ملوث ہونے کا تاثر زائل ہو سکے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا کہ تمام خفیہ اداروں بشمول آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی اور فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کر سکتے ہیں، نہ ہی یہ ادارے ٹی وی چینلز اور اخبارات کی نشرواشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ عسکری اداروں اور خفیہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا تاثر نہ دیں کہ ان کی کسی سیاسی جماعت سے ہمدردی ہے۔ ایسا کرنے والا کوئی بھی شخص اگر سیاسی معاملات میں ملوث ہوتا ہے یا میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ عسکری اداروں کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے۔ فیصلے کے آخر میں دی گئی تجاویز میں عدالت نے آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔
تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپریل 2019 میں عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائرکی جس میں انھوں نے قاضی فائز عیسی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے کے خلاف سنائے گئے ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم جب فرانس کے سفیر کو ملک سے نکوالنے کے لیے تحریک لبیک نے حکومت کو آنکھیں دکھائیں تو اسے قومی مفاد کے نام۔پر کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو سپریم کورٹ میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیا جاتا ہے اور اسی لئے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ان سے جان چھڑوانے کے کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے اور یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ حکومت نہیں چاہتی کہ جسٹس قاضی فائز عیسی 2023 میں چیف جسٹس پاکستان بنیں۔
