سیلابی تباہ کاری سے پاکستان 30 برس پیچھے کیسے چلا گیا؟

وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور بربادی پھیلی ہے کہ پاکستان 30 برس پیچھے چلا گیا ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی تباہی سے ہونے والا زرعی نقصان تقریباً ایک ارب ڈالرز تک جا چکا ہے جس کے دوگنا ہونے کا امکان ہے۔ اسی لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سیلابی تباہی کی وجہ سے معاشی طور پر 30 برس پیچھے چلا گیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی آن ریکارڈ تسلیم کر لیا ہے کہ سال 2025 کی تباہ کاریوں سے ملک ہر لحاظ سے 30 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے کل جی ڈی پی کا تقریباً 25 فیصد شعبہ زراعت وابستہ ہے۔ سب سے ذیادہ پاکستانی برآمدات بھی ٹیکسٹائل سے وابستہ ہیں، جن کی مالیت تقریباً 18 ارب ڈالرز ہے۔ یہ پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 60 فیصد ہے جس کا سب سے زیادہ انحصار کپاس کی اچھی پیداوار پر ہوتا ہے۔ لیکن سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اس برس پاکستان بھر میں کپاس کی فصلیں بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں اور کپاس کی پیداوار میں 40 فیصد تک کمی ہونے کا امکان ہے۔
اسی طرح پاکستان ہر سال تقریباً 3 ارب 30 کروڑ ڈالرز مالیت کے باسمتی چاول برآمد کرتا ہے۔ لیکن اس سال 60 فیصد سے زائد چاول کی فصل سیلاب میں بہہ گئی ہے لہذا چاول کی پیداوار میں بھی بڑے پیمانے پر کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔ کسان کے لیے کپاس کے بعد گنا دوسری بڑی کیش دینے والی فصل ہے لیکن سیلاب کے نتیجے میں گنے کی فصل بھی 35 فیصد تک متائثر ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ کپاس، چاول اور گندم ملک میں تقریباً 45 فیصد روزگار کا ذمہ دار بھی ہے۔
اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ زراعت پر انحصار کرنے والا پاکستان اس برس کپاس چاول اور گنے کی فصلوں کی تباہی کی وجہ سے شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہونے جا رہا ہے۔
تاہم رائس ملز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین فیصل جہانگیر سیلابی تباہ کاریوں کی وجہ سے کپاس، گندم اور چاول کی فصلوں کو ہونے والے نقصان کے حکومتی اعداد و شمار سے متفق نہیں۔ انکے مطابق فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے حکومتی اعداد و شمار بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے حکومتی اداروں کو اعداد و شمار دینے سے پہلے سٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہیے۔ ہماری ایسوسی ایشن میں کسان بھی ہیں اور ایکسپورٹرز بھی ہیں۔ سب ایک فیملی کی طرح ہیں۔ اگر ایک بھائی کو مالی نقصان ہو گا تو سب سے پہلے فیملی ممبرز کو پتہ چلے گا نہ کہ سرکار کو۔
رائس ملز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کے مطابق سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں ابھی تک چاول کی فصل کو ہونے والا نقصان 10 سے 15 فیصد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جو اعداد و شمار دیے ہیں وہ غلط ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اعداد و شمار دینے میں بے احتیاطی سے ہمارے بین الاقوامی کسٹمرز پریشان ہوتے ہیں۔ اگر آپ 60 فیصد فصلوں کی تباہی کی غلط خبر دیں گے تو انٹرنیشنل کسٹمر تو پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلا جائے گا۔‘ فیصل جہانگیر کہتے ہیں کہ ’پنجاب ٹوٹل چاول کا 40 فیصد پیدا کرتا ہے۔ اگر پورے پنجاب کا چاول بھی بہہ جائے تو نقصان 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ لہذا سیلاب کی بنیاد پر پنجاب میں 60 فیصد فصلوں کی تباہی کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’10 سے 15 فیصد نقصان کے باوجود بھی اس سال چاول کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت کافی بہتر ہو گی کیونکہ اس برس چاول کی کاشت کا رقبہ 12.3 ملین ایکڑ تک بڑھ گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پچھلے سال 11.8 ملین ایکڑ رقبے پر چاول کاشت ہوا تھا۔ پچھلے سال چاول کی پیداوار تقریباً 9.7 ملین ٹن تھی جبکہ اس سال 12 ملین ٹن سے زیادہ پیداوار متوقع تھی۔ اگر سیلاب کی وجہ سے پیداوار میں کمی آئی بھی تو اسنکی پیداوار پچھلے سال سے زیادہ ہی ہو گی۔ لہذا سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے 30 برس پیچھے چلے جانے اور 60 فیصد فصلوں کی تباہی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
ادھر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے بتایا کہ سیلاب سینٹرل پنجاب میں آیا ہے اور پانی جنوبی پنجاب سے اپر سندھ کی طرف جا رہا ہے۔ سینٹرل پنجاب میں کپاس کی کٹائی تقریباً مکمل ہو چکی ہے، یہاں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ جنوبی پنجاب اور سندھ میں کپاس کی فصل تیار کھڑی ہے۔
انکے مطابق اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ان علاقوں میں سیلاب کہاں تک جاتا ہے۔ اگرسیلاب کی یہی شدت رہی تو کپاس کا نقصان 30 فیصد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان میں کپاس کی مقامی اوسط پروڈکشن تقریباً 55 لاکھ بیلز ہے۔ چنانچہ 30 فیصد کے حساب سے تقریباً 16 لاکھ بیلز کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ رقم تقریباً 40 کروڑ ڈالرز بنتی ہے۔ یوں ایک نقصان کسان کا ہو گا اور دوسرا دباؤ ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑے گا۔ پہلے ہی پاکستان تقریباً 25 لاکھ بیلز درآمد کرتا ہے۔ مزید 16 لاکھ بیلز درآمد کرنے سے ڈالرز ذخائر پر دباؤ پڑے گا اور اگر آج آرڈر بک کروائیں تو ڈیلیوری ٹائم تین ماہ کا ہے۔ چنانچہ ایکسپورٹ آرڈرز متاثر ہو سکتے ہیں۔ یوں تین طرفہ نقصان ہو گا جس دے کسانوں میں غربت بڑھے گی، درآمدات کے لیے ڈالرز پر دباؤ آئے گا اور برآمدات کم ہونے سے بھی ڈالرز ذخائر کم ہوں گے۔
لیکن اپٹما کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے فصلوں کا اصل نقصان کتنا ہوگا اس کا درست اندازہ چند ماہ تک لگایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احسن اقبال نے کس بنیاد پر پاکستان کے 30 برس پیچھے جانے کا دعوی کر دیا، یہ وہی بتا سکتے ہیں لیکن میرے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔
اسی طرح کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکر نے کہا کہ ’نقصان تو بہت زیادہ ہوا ہے۔ صرف کپاس، چاول اور گنے کا نقصان نہیں ہوا بلکہ چارا، سبزیاں اور فش فارمنگ کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔‘ خالد کھوکر نے کہا کہ ’ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق سبزیوں کا 25 فیصد، کاٹن 1.7 فیصد، گنا 5 فیصد، چاول 10 فیصد، مکئی 6.4 فیصد، تل 5.4 فیصد اور گھاس 7.2 فیصد تک متاثر ہوئے ہیں۔ فش فارمرز کا تقریباً 50 ہزار ایکڑ کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے 30 برس پیچھے چلے جانے والی بات درست نہیں۔ اب تک ہونے والا سارا نقصان صرف ایک سال میں پورا کیا جا سکتا ہے۔ سال 2022 میں سیلاب کی شدت اور نقصان آج سے زیادہ تھا لیکن مشترکہ کوششوں سے نقصان کا ازالہ ممکن ہو گیا تھا۔
