ٹرمپ کی خوشامد کرتے شہباز نے مرزا غالب کو کیسے مات دی؟

معروف لکھاری اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ میں ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی ساڑھے پانچ منٹ کی تقریر میں جو کر دکھایا وہ ایک شاہکار فن پارہ تھا لہذا خدارا اس کو خوشامد مت کہا جائے۔ یہ ایک فنکار کی جانب سے اپنے فن کا اظہار تھا۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تجزیے میں محمد حنیف کہتے ہیں بہتر ہو گا کہ شہباز شریف نے جو کیا اسے سفارت کاری بھی نہ کہا جائے۔ اُن کے فن کے اس مظاہرے کو بچے سکولوں میں دیکھا کریں گے، وہ سرکاری افسران کے ٹریننگ سکولوں میں سلیبس میں شامل ہو گا، اسکی آرٹ گیلریز میں نمائش ہو گی۔ انکا کہنا ہے کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں مبالغہ آرائی کر رہا ہوں تو دوبارہ سوچیں کہ مبالغہ آرائی وہ کر رہے تھے یا میں۔
اگر یقین نہیں آتا تو شہباز شریف اور ٹرمپ والی ویڈیو دوبارہ دیکھیں۔ میں نے ریوائنڈ کر کے دیکھی، آواز بند کر کے دیکھی، پھر ایک گیارہ سالہ بچے کو دکھائی۔ وہ بھی مبہوت ہو کر چاچو شہباز کو سُنتا رہا، کبھی میری طرف دیکھے کبھی شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی جوڑی کی طرف دیکھے اور حیرت کے ساتھ سر ہلاتا جائے۔یہ ہوتا ہے فن، اسے کہتے ہیں فنکار۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ بند کمروں میں ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خوشامد کر لیتا ہے، پبلک فورم پر نپے تلے انداز میں سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں لیکن فنکار کا اصلی امتحان اُسی وقت ہوتا ہے جب سٹیج بڑا ہو اور سُر سنگیت کو سمجھنے والے سامنے بیھٹے ہوں۔ غزہ میں دو سال کی خون آشام تباہی کے بعد صدر ٹرمپ امن معاہدے کا میلہ سجاتے ہیں اور دُنیا میں مسئلہ کوئی بھی ہو صدر ٹرمپ اُس کا حل ایسے ہی ڈھونڈتے ہیں کہ ہر چیز اُن کی ذات کے گرد گھومے جیسے آج میرے منّے کی سالگرہ ہے۔
شرم الشیخ میں بادشاہ بیٹھے ہیں، شہزادے، ترکی کے مردِ آہن، مصر کے ڈکٹیٹر، برطانیہ، فرانس، اٹلی کے منتخب حکمران لیکن اس دربار میں اُن کو کوئی نہیں بھاتا۔ وہ پہلے اپنے فیورٹ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو یاد کرتے ہیں اور پھر ہمارے وزیراعظم شہباز شریف سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جو خوبصورت باتیں تم نے مُجھ سے پہلے کی تھیں اب ذرا دوبارہ سُناؤ۔
محمد حنیف کا کہنا ہے کہ اگر یہ سین کسی فلم میں ہوتا تو وہاں وائلن بجنے لگتے، گلاب کے پھولوں کی ڈالیاں ایک دوسرے کی طرف جھکنے لگتیں۔ راز و نیاز کی باتیں پھر بھری محفل میں کہنے پر شاید محبوب شرما جاتا لیکن شہباز شریف بڑے اعتماد کے ساتھ مائیک پر آئے، سلام علیکم اور گُڈ ایونگ کے بعد ادھر اُدھر دیکھ کر ایک آدھ برادر لیڈر کا نام لیا لیکن 30 سیکنڈ میں ہی جان گئے کہ صاحب کا موڈ کیا ہے اور آغاز ہی اپنے نوبیل پیس پرائز والے آئٹم نمبر سے کیا۔ اس پر تالیاں بجیں، پھر سامعین میں بیٹھے اپنے برادر لیڈروں کو دیکھا اُن کا نام لیا، آپ نے نوٹ کیا ہوگا جیسے ہی انھوں نے دو تین نام لیے صدر ٹرمپ کا چہرہ تھوڑا اُترنا شروع ہوا۔ صدر ٹرمپ اُن کے پیچھے کھڑے تھے لیکن بڑے فنکار کے سر کے پیچھے بھی ایک آنکھ ہوتی ہے، شہباز شریف برادر لیڈروں کے نام بھول کر واپس پلٹے اور صدر ٹرمپ کو مسیحا ثابت کرنا شروع کر دیا، اس مرتبہ انہوں نے تان لمبی لگائی، اور فرمایا کہ صدر ٹرمپ نے ساتھ نہیں بلکہ آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔ اس دوران میرے اندر سے یہ آواز آنے لگی کہ بس کر پگلے، رُلائے گا کیا۔ لیکن سچا فنکار اپنی فنکاری سے خود کبھی متاثر نہیں ہوتا۔ اس لیے شہباز شریف رُکے نہیں اور ایک اونچا لیکن باریک سُر لگایا۔ بولے کہ اگر صدر ٹرمپ انڈیا اور پاکستان جیسی نیوکلئیر پاورز کی جنگ نہیں رکواتے تو شاید کوئی بھی نہ بچتا۔ ہر امریکی اپنے آپ کو تھوڑا بہت سُپر ہیرو سمجھتا ہے اور صدر ٹرمپ نے تو پوری دُنیا کو تباہی سے بچا لیا۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ بڑے دربار میں قصیدہ پڑھنا ایک پرانی روایت ہے، اسکا اختتام دعائیہ ہوتا ہے۔ مرزا غالب نے اپنے بادشاہ سے وظیفہ بڑھوانے کی کوشش میں یہ شعر کہا تھا:
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
لیکن محمد حنیف کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے شہباز شریف غالب کو بھی مات دے گئے۔ اُس کے بعد جب ٹرمپ نے کہا کہ مُجھے اتنی تعریف کی اُمید نہیں تھی لہذا اب گجر چلتے ہیں، تو مُجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ شہباز شریف کو بھی ساتھ اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں تاکہ اُن کی باتیں خاتونِ اوّل کو بھی سُنوا سکیں۔ لیکن شہباز شریف کو لوٹ کر گھر آنا تھا، سو آ گئے کیونکہ ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل تو گھر ہی بیٹھے تھے اور کچھ تعریف ان کی کرنا بھی ضروری تھی۔
