امریکی ویزا فیس بڑھنے سے پاکستانیوں کو کتنا فرق پڑے گا؟

غیرملکی ہنرمندوں کے لیے ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر کرنے کی نئی امریکی پالیسی نے پاکستانی نوجوانوں کے امریکہ یاترا کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے H‑1B ورک ویزا کی فیس میں 500گنا اضافے نے نہ صرف عالمی سطح پر ہنر کی آزادانہ گردش پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ اس نئی پالیسی سے محدود وسائل کے باوجود اپنی تعلیم اور قابلیت کی بنیاد پر امریکہ جانے کے خواہشمند افراد پر ہمیشہ کیلئے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی ویزا فیس میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سب سے زیادہ چیخیں بھارتی نوجوانوں کی نکل رہی ہیں کیونکہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکا جانے والے ہنرمند افراد کی فہرست میں انڈیا پہلے نمبر پر ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران سکلڈ ویزا کے تحت انڈیا سے سب سے زیادہ ہنرمند سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور پروگرامنگ سے تعلق رکھنے والے افراد امریکا گئے۔ جو ان کے کل ویزوں کا قریباً 65 فیصد بنتا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر اس ویزا کے تحت امریکا جانے والے افراد میں چینی شہری شامل ہیں، پھر اس کے بعد کینیڈا، تائیوان، جنوبی کوریا، میکسیکو، نیپال، برازیل اور پھر نواں نمبر پاکستان کا آتا ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران پاکستان سے صرف 0.8 فیصد ہنرمند پاکستانی ایچ ون بی ویزا کے تحت امریکا گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایچ ون بی ویزا کے تحت سب سے زیادہ انڈیا اور چین سے امریکا جانے والے ہنرمند افراد متاثر ہوں گے۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی ویزا پالیسی سے پاکستانی کتنے متاثر ہونگے؟ماہرین کے مطابق اس نئی فیس کا پاکستان پر براہِ راست اثر محدود ہو گا، کیونکہ ایچ ون بی ویزا پر امریکہ جانے والےپاکستانیوں کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہے کیونکہ پاکستان سے زیادہ تر سافٹ ویئر انجینیئرز اور آئی ٹی پروفیشنلز امریکی ایچ بی ون ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ویزا، انٹرویو، دستاویزات کی تصدیق اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے پہلے سے ہی یہ عمل انتہائی مشکل ہے اب ویزا فیس میں ہوشربا اضافے کے بعد یہ سلسلہ مزید محدود ہو جائے گا تاہم ویزوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بہت کم پاکستانی اس سے متاثر ہونگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی امریکی پالیسی پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے ایک اور رکاوٹ بن سکتی ہے، انفرادی سطح پر یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ نئی پالیسی کے تحت ایک لاکھ ڈالر کی فیس کا بوجھ کمپنیوں پر پڑے گا، جو ممکنہ طور پر پاکستانی امیدواروں کی بجائے مقامی یا کم خرچ ٹیلنٹ کو ترجیح دیں گی۔’اس کے علاوہ امریکی ویزا پروگرام میں پہلے سے موجود مسائل جیسے انٹرویو میں تاخیر، ریجیکشن ریٹ اور جغرافیائی سیاسی پالیسیاں پاکستانی نوجوانوں کی امریکہ یاترا کو مزید مشکل بنا دیں گی۔ تاہم آئی ٹی سیکٹر میں بے روزگاری کا شکار پاکستانی نوجوان اب کینیڈا یا یورپ جیسے متبادل ممالک کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ H‑1B ویزا پالیسی برسوں سے انٹرنیشنل ٹیلنٹ کے لیے امریکہ کا ایک مرکزی دروازہ رہی ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 19 ستمبر 2025 کو جاری کئے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ملازمت کے لیے امریکا آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے سالانہ ویزا فیس 1500 ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کردی گئی ہے۔  H‑1B ویزا فیس میں بھاری اضافہ اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ اب اپنی معیشت میں غیرملکیوں کی شمولیت کو محدود کرنے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کو "مقامی ملازمتوں کے تحفظ” کے جواز میں پیش کیا جا رہا ہے، مگر ناقدین اس فیصلے کو عالمی ہنر مندی کی منڈی کو محدود کرنے اور صرف امیر ممالک کے افراد کو مواقع دینے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایچ ون بی یعنی سکلڈ ویزا کے تحت زیادہ تر ہنر مند افراد انڈیا، چین، پاکستان اور دیگر ممالک سے امریکا جاتے ہیں۔ نئی پالیسی کے نفاذ سے جہاں ان ممالک کے نوجوانوں کو شدید دھچکا لگا ہے وہیں اس فیصلے سے سب سے زیادہ ایسی امریکی ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی، جو زیادہ تر ان ممالک کی سکلڈ افرادی قوت پر انحصار کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد امریکہ جانے کیلئے ایچ ون بی ویزا اب تک کی سب سے مہنگی امیگریشن کیٹیگری بن گیا ہے۔ موجودہ فیس جو صرف چند سو ڈالر تھی، اب 500 گنا تک بڑھ گئی ہے۔  ٹرمپ نتظامیہ کے مطابق ویزا فیس میں اضافہ تمام ممالک کے شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی تاہم یہ فیس صرف نئی درخواستوں پر سالانہ بنیادوں پر نافذ ہوگی، جبکہ موجودہ ویزا ہولڈرز یا تجدیدپر نئی اضافی فیس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ نئی ویزا فیس کے نفاذ سے بھارت، چین، پاکستان سمیت تمام ممالک کے شہری متاثر ہونگے۔ تاہم بھارت اور چین جیسے ممالک کو سب سے بڑا دھچکا لگے گا، جہاں سے ہر سال لاکھوں درخواست دہندگان امریکہ جاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ یہ ویزا فیس انفرادی امیدواروں کی بجائے کمپنیوں کو ادا کرنی ہوگی، جس کے نتیجے میں کم کمپنیاں غیر ملکی ٹیلنٹ کو سپانسرشپ فراہم کریں گی۔

Back to top button