وزیراعلیٰ آفریدی کاعمران خان سے عشق کتناعرصہ چلےگا؟

عشقِ عمران میں جان نچھاور کرنے کے دعوے کرنے والے خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں تحریکِ انصاف کے باغی رہنما شیر افضل مروت نے ایک معنی خیز پیشگوئی کر دی۔

مروت کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ بظاہر بھولے بادشاہ دکھائی دیتے ہیں، مگر وہ بھی عشقِ عمران کے اسی خمار میں مبتلا ہیں، جو میرے سمیت کئی مخلص کارکنوں کو سیاسی انجام تک پہنچا چکا ہے۔ شیر افضل مروت نے طنزیہ انداز میں کہا: “وقت آنے پر سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت بھی خود عمران خان ہی اتاریں گے— اس لیے مشتری ہوشیار باش۔”

ناقدین کے مطابق پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنے آئین، منشور اور جمہوری اصولوں سے زیادہ شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ لیڈر کی خوشنودی ہی سیاست کا محور بن جاتی ہے، اور اختلافِ رائے بغاوت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ پارٹیوں میں موجود غیر جمہوری رویوں، شخصی سیاست، اور مڈل کلاس کارکنوں کے استحصال کی وجہ سے وہ کارکن جو لیڈر کے عشق میں سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے، اقتدار کے کھیل میں نہ صرف اسے ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے بلکہ وقت آنے پر اسے ٹشو پیپر کی طرح کوڑے دان کی نذر بھی کر دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں سامنے آنے والے خواجہ سعد رفیق اور شیر افضل مروت کے تازہ ٹویٹس نے پاکستانی سیاست کے ایک ایسے ہی پہلو کو بے نقاب کیا ہے جہاں جذباتی وابستگیوں کے بل پر سیاست میں آنے والے مڈل کلاس کارکنوں کو استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق اپنے ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ محترم شیر افضل مروت سے پہلی اتفاقیہ ملاقات چند ماہ پیشتر سپیکر چیمبر میں ہوئی، وہاں دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔ وہ جارھے تھے اور میں آرھا تھا۔ مصافحہ کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات کہوں ، بولے ضرور! عرض کیا جب عمران خان جیل سے واپس آئیں گے تو جس شخص کو سب سے پہلے پی ٹی آئی سے نکالیں گے وہ شخصیت آپ ہونگے۔ دو ماہ نہیں گزرے تھے کہ پارلیمنٹ لاجز میں گزرتے ہوئے پھر آمنا سامنا ہوگیا، اس وقت تک عمران خان شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال چُکے تھے۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کردیا، شیر افضل بولے آپکی پیش گوئی وقت سے پہلے ہی پوری ہوگئی، میں نے پوچھا اتنا جلدی کیسےہوا؟ بتایا کہ میرا اخراج عمران خان کی محترمہ ہمشیرہ اور اہلیہ محترمہ کی باہمی گروپنگ نہ جوائن کرنیکا شاخسانہ ہے۔ شریف افضل مروت نے مزید کہا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ بھولے بادشاہ لگتے ہیں، وہ بھی عشق ِعمران میں مبتلا ہیں۔ یہ کم بخت مڈل کلاسیے سیاسی کارکن پارٹی لیڈر اور جماعت کے عشق میں لڑتے لڑتے تنِ تنہا تلوار سونت کر مخالف کی صفوں میں گھُس جاتےہیں اور سب سے پہلے مارے جاتےہیں۔ خوش قسمتی سے بچ کر واپس آجائیں تو انھیں اپنے مار دیتے ہیں۔ ان غیر منظم اور نیم جمہوری جماعتوں میں سازشی جیتتے ہیں جبکہ تلخ سچ بولنے والے ہار جاتے ہین۔ مڈل کلاسیوں کو تھپکی لڑنے کیلئے دی جاتی ہے، حکمرانی کیلئے نہیں۔ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ وقت آنے پر سہیل آفریدی صاحب کے عشق کا بھوت خود عمران خان صاحب ہی اتاریں گے۔’’ مشتری ہوشیار باش۔‘‘

انصار عباسی کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے نہایت خوبصورتی سے مڈل کلاس کارکن کے المیے کو بیان کیا ہے جس کو استعمال کرنے کا رجحان کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ن لیگ سمیت تقریباً ان تمام پارٹیوں میں ہے۔ انصار عباسی نے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق کے ٹوئٹ کے جواب میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ’’محترم خواجہ سعد رفیق صاحب،آپ نے میرے بارے میں جو لکھا، حقیقت پر مبنی ہے اور میں اس سچائی پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ گزشتہ تین برسوں میں مجھے تین مرتبہ نکالا گیا، اور ہر بار کارکنان کے بھرپور ردِعمل پر واپس لیا گیا۔ یہ محض ادوار نہیں تھے؛ یہ وہ دروس تھے جو اکثر سیاست دان تین دہائیوں میں سیکھتے ہیں، مجھے تین برس میں مل گئے۔ مگر ایک حقیقت اور بھی تلخ ہے: کارکنوں کی محبت اور وابستگی کو کمزور کرنے کیلئے جب میرے خلاف سوشل میڈیا پر منظم کردارکشی کی گئی، تو یہ زخم دل میں رہ گیا۔ میں اسے نہ بھول سکا، نہ معاف کر سکا۔ غالب گمان ہے کہ یہی دراڑ میری پی ٹی آئی میں دوبارہ شمولیت کے راستے میں مستقل رکاوٹ بنی رہے گی۔ مروت کا مزید کہنا تھا کہ قیادت کی جانب سے عمران خان کا پیغام بھی ملا کہ وہ مجھے واپس لینا چاہتے ہیں؛ لیکن اب میں چوتھی بار نکالے جانےکے امکان کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ مجھے عجلت میں نکالا گیا، مگر اب میں کسی کیلئےاستعمال ہونے کیلئے دستیاب نہیں کیونکہ سیاست میں خاموشی بھی ایک بیانیہ ہوتی ہے، اور میرا بیانیہ اب وقار، خودداری اور سکونِ دل ہے۔ میں نے خود کو تقدیر کے حوالے کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں آنے والے دن کیا ورق پلٹتے ہیں۔

عمران خان سے ملنا میرا حق ہے،ملاقات میں رکاوٹیں پیدا نا کریں ، سہیل آفریدی

ناقدین کے مطابق خواجہ سعد رفیق اور شیر افضل مروت کے بیانات نے ایک ایسا سیاسی منظرنامہ پیش کیا ہے جو بظاہر ذاتی تجربات پر مبنی ہے مگر دراصل ہمارے سیاسی نظام کی ایک گہری خرابی کی عکاسی کرتا ہے۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے شیر افضل مروت کی پیشگوئی قابلِ غور ہے: مڈل کلاس پس منظر کے اس نئے لیڈر کے اندر بھی وہی خمار ہے جو کئی مخلص کارکنان کو سیاست کے میدان میں تباہ کر چکا ہے، اور شاید آخرکار اسی خمار کا زبردست احتساب عمران خان خود کریں۔ مروت کا طنزیہ انتباہ — "مشتری ہوشیار باش” — محض مزاح نہیں بلکہ ایک تلخ سچائی کی تنبیہ ہے کہ جب ضرورت پوری ہو جائے گی تو سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت بھی خود عمران خان ہی اتاریں گے۔

 

Back to top button