جنرل عاصم منیر اور عمران خان کی جنگ کیسے ختم ہو گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ہماری سیاست کا مسئلہ فیثا غورث یہ ہے کہ جیسے جیومیٹری میں زاویے کا تناسب درست نہ ہونے سے مسئلہ حل نہیں ہو پاتا، اسی طرح پاکستان میں بھی ریاستی اور عوامی طاقت کا توازن بگڑنے سے ملک مسائل کا شکار رہتا ہے۔ طاقت کی اس جنگ میں کبھی فوج غالب آ جاتی ہے تو کبھی سیاستدان اوپر آ جاتے ہیں لہذا کبھی بھی بیلنس برقرار نہیں رہتا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے استعاراتی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے پاکستانی سیاست کے دو مرکزی کرداروں عمران خان اور جنرل عاصم منیر کو حروف تہجی کے پیرائے میں “عین‘‘ کی جنگ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق عین سے شروع ہونے والے نام عاصم کا مطلب ایک محافظ یا نگہبان ہوتا ہے جبکہ عمران نام کا مطلب خوشحالی اور ترقی ہے۔ علمِ ابجد کی رو سے دونوں نام ایک ہی حرف سے شروع ہوتے ہیں، اور یہی مماثلت ان کے درمیان مستقل ٹکراؤ کا سبب ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق جب دو ’’عین‘‘ آمنے سامنے ہوں تو ان کے درمیان مفاہمت مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ دونوں اپنی انا کے اسیر ہوتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ دوسرا پہلے جھک جائے۔ اگر اس رمز کو سیاسی اصطلاحات میں سمجھا جائے تو ایک طرف ریاست اور ادارہ جاتی نظم و نسق کی طاقت ہے اور دوسری جانب مقبولیت اور بیانیے کی قوت ہے۔ پاکستانی سیاست میں یہی بنیادی تصادم ہے یعنی طاقت بمقابلہ بیانیہ۔
سہیل وڑائچ نے اس کشمکش کے ساتھ ساتھ 27ویں آئینی ترمیم کا ذکر بھی کیا ہے جسے وہ آئندہ ریاستی توازن کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر یہ ترمیم واقعی آئین کے بنیادی ڈھانچے، وفاقی اختیارات یا اداروں کے دائرۂ کار کو متاثر کرتی ہے تو یہ صرف ایک آئینی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے نظام کی تشکیل نو بھی ہو گی۔ یہ ترمیم اگر شفاف بحث کے بغیر، خاموشی سے منظور کی گئی تو اس کے نتائج متنازع ہوں گے، کیونکہ آئین کی قوت اس کے تقدس میں نہیں بلکہ اتفاقِ رائے میں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ تمام صوبوں، قومیتوں اور مکاتبِ فکر کی منظوری کے بغیر کی گئی آئینی تبدیلیاں قومی یکجہتی کو کمزور کر دیتی ہیں۔ تو ہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آئین میں ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب آئینی اصلاحات کو طاقت کی بجائے مکالمے اور عوامی شمولیت کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ اصلاحات بھی طاقت کے کھیل کا حصہ بن جائیں گی، اور ’’دو عینوں‘‘ کی کشمکش مزید شدت اختیار کر جائے گی۔
ان کے مطابق یہ لڑائی صرف بیانیوں یا نعرے بازی سے ختم نہیں ہو گی۔ اسکا حل خاموشی میں پوشیدہ ہے، یعنی مفاہمت تب ہی ممکن ہے جب ایک فریق اپنی انا کو قربان کرتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کر لے۔لیکن پاکستانی سیاست میں یہ قربانی سب سے زیادہ نایاب ہے۔ فی الحال ریاست اپنی طاقت کے بل پر آگے بڑھ رہی ہے جبکہ عوامی سطح پر عمران خان کا دائرہ اثر بھی بدستور قائم ہے۔ اس صورتحال میں 27ویں آئینی ترمیم اگر ریاستی طاقت کو مزید مرکزیت کی طرف لے جاتی ہے تو یہ سیاسی تنازع کو مزید طول دے گی۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست کا ’’مسئلۂ فیثا غورث‘‘ تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک طاقت اور عوامی تائید کے درمیان توازن پیدا نہ کیا جائے۔ اگر ریاست مکالمے کے ذریعے آئینی ترمیم کا بیانیہ آگے بڑھانے کا راستہ اختیار کرے تو شاید دونوں ’’عین‘‘ کسی وقت ایک دوسرے کے مقابل ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بھی چل سکیں۔ بصورتِ دیگر یہ کشمکش طویل ہو جائے گی کیونکہ پاکستانی سیاست میں طاقت وقتی طور پر تو جیت سکتی ہے، مگر دیرپا اثر ہمہشہ بیانیہ ہی چھوڑتا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم : وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے نام شارٹ لسٹ
سہیل وڑائچ کی اس تحریر کو ایک نیوز انلسز کی شکل دیتے ہوئے پاکستانی سیاست پر فوکس کرنا ہے ۔ بتانا ہے کہ عمران یعنی عین اور جنرل عاصم یعنی دوسرے عین کی لڑائی کیا ہے اور 27ویں ائینی ترمیم سے پاکستان اس کی سیاست اور ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
سہیل وڑائچ شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان کی شخصیت کا علم ابجد کے حساب سے جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شین کی ابجد ویلیو 7 ہے۔ ایسے میں اگر عین یعنی عمران اور ش یعنی شہباز کا مقابلہ ہو تو عین جذب کرتا ہے جبکہ شین بھڑکتا ہے۔ عین آہستہ آہستہ جیتتا ہے جبکہ ش بہت جلد فتح کے چبوترے پر پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح لفظ مریم کی ابجد ویلیو 70 ہے۔ میم گہری، اندرونی قوت رکھنے والی اور انا کو کنٹرول کرنیوالی شخصیت ہوتی ہے، اس کے علاوہ میم ابجد کے تمام حروف سے زیادہ نفسیاتی اثر رکھتی ہے۔ میم کا مقابلہ شین سے ہو تو میم آہستہ آہستہ غالب آتی ہے جبکہ شین تیزی سے فتح کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔ مگر میم جذب کر کے استحکام کی طرف جاتی ہے۔ میم اور عین کی لڑائی ہو تو میم رد عمل نہیں دکھاتی اور لڑائی کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو کے نام کے پہلے حرف یعنی ب کی ابجد ویلیو 2 ہے۔ میم کی طاقت ب سے زیادہ ہے مگر ب زیادہ عملی ہے۔ میم روحانی ہے۔ اگر چھوٹا مقابلہ ہو تو ب جیتے گی اور لمبا مقابلہ ہو تو میم فتح پائے گی۔
