پاکستان میں اب جمہوری نہیں ہائبرڈ نظام چلے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کا کہنا ہے مستقبل قریب میں ملکی نظام حکومت میں کوئی بڑی تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا، جیسے ماضی میں چلتا رہا ہے۔ پاکسان کی جمہوری قوتوں نے میدان خالی چھوڑ دیا ہے اور طاقتوروں کی بالادستی قبول کر لی ہے، ”ہمارے سیاست دانوں نے نئی صورتحال کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لیا ہے۔ ان کو اقتدار میں ان کا حصہ درکار ہے وہ مل کر حکومت کرتے رہیں گے۔ اب عمران، نواز بلاول جو بھی آئے اسے نئی صورتحال میں ہائبرڈ نظام میں ہی چلنا ہو گا۔‘‘
ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق امتیاز عالم سمجھتے ہیں کہ ”سویلین سپرمیسی‘‘ اب محض ایک نعرے کی حد تک باقی رہ گئی ہے۔ سیاست دانوں نے اپنی سپیس دوسروں کو دے کر معاملات طے کر لیے ہیں، ”نگران حکومتیں طاقتور سائے کے نیچے پورا معاشی نظام چلا رہی ہیں اور ہمارے منتخب وزیر اعظم فخر سے اپنے آپ کو اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارہ قرار دیتے رہے ہیں اس سے اندازہ لگا لیں معاملات کس طرف جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں کس کی مرضی چلے گی۔‘‘
خیال رہے کہ اکانومسٹ انٹٰلیجنس یونٹ کی طرف سے جاری ہونے والے جمہوریت کی عالمی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے جمہوری ملکوں کی درجہ بندی میں پاکستان کافی پیچھے ہے۔ ای آئی یو نے پاکستان کے نظام حکومت کو ‘ہائبرڈ‘ قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ہائبرڈ نظام والے ممالک میں کافی انتخابی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان کے بعض حلقوں میں ‘ہائبرڈ نظام’ کا عام مطلب سویلین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کار جاوید فاروقی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ملک میں ہائبرڈ سسٹم ہی دیکھنے کو ملے گا۔ ان کے خیال میں نہ تو سیاسی جماعتیں اتنی طاقتور ہیں کہ اپنی بات منوا سکیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ اتنی کمزور ہے کہ کہ وہ پیچھے ہٹ جائے۔ تاہم جاوید فاروقی اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مرضی سے نگران حکومت تشکیل دے لی ہے ان کو یقین ہے کہ نگران حکومت کے معاملات میں پاکستان مسلم لیگ نون مکمل طور پر’آن بورڈ‘ ہے۔جاوید فاروقی کا مزید کہنا ہے کہ ہائبرڈ نظام کی واحد ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ ان کے بقول سیاسی جماعتوں میں کپیسٹی کے ایشوز بھی ہیں، ”ہم نے دیکھا ہے کہ منتخب حکومتوں کو بھی سیاسی اور معاشی بحرانوں میں اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔‘‘
جاوید فارووقی سمجھتے ہیں کہ آنے والی حکومت بھی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکے گی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی حکومت بنا لینے کی استعداد میں اضافہ ہو چکا ہے۔ان کے مطابق اگلے الیکشنز میں ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آ سکتی ہے اور اس ضمن میں آزاد اراکین پارلیمنٹ اور چھوٹے پریشر گروپس کا رول کافی اہم ہو سکتا ہے، ”جاوید فاروقی کے مطابق جب پیپلز پارٹی بہت مقبول تھی تو اسے کمزور کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کو لایا گیا۔ جب مسلم لیگ ن بہت مقبول جماعت تھی تو اس کے مقابلے کے لیے عمران خان کو لایا گیا۔ اب جبکہ عمران خان بہت مقبول ہیں تو صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان اگلے الیکشنز میں انتخابی میدان میں ہوں گے یا نہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں جاوید فاروقی نے بتایا کہ عمران خان کو اس حال تک پہنچانے میں عمران خان کا اپنا کردار بھی کچھ کم نہیں ہے، ”ان کی متنازعہ پالیسیوں اور بہت سی دوسری غلطیوں کے باوجود ان کی سولو فلائٹ کی خواہش اور اپنے آپ کو طاقت کا مرکز بنا لینے سے ان کی پارٹی کمزور ہوئی اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا‘‘
نگران حکومتیں اپنے روزمرہ کے امور نپٹانے اور الیکشن کمیشن کی مدد کرنے تک محدود رہیں گی یا پھر وہ اپنا دائرہ کار بڑھا لیں گی؟ اس سوال کے جواب میں جاوید فارووقی کہتے ہیں کہ اس کا حتمی جواب جاننے کے لیے ہمیں صرف چند دن اور انتظار کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول دکھائی یوں دیتا ہے کہ اب الیکشن اگلے چھ ماہ میں ہو جائیں گے کیونکہ اگر مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے الیکشن سے پہلے عام انتخابات نہ ہوئے تو اس سے کئی آئینی اور
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 5.1 شدت کا زلزلہ
معاشی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔
