وزن اٹھاتے پورٹرز، کوہ پیمائوں کی لائف لائن کیسے بنتے ہیں؟

کوہ پیمائوں کو بلندو بالا چوٹیوں کو سر کرنے میں مدد دینے والے پورٹرز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن کسی بھی پہاڑی کو سر کرنے کے بعد کوئی کوہ پیما ان کا زکر کرتا سنائی نہیں دیتا، ایک پورٹر اپنے سفر کا 30 سے 40 ہزار روپے وصول کرتے ہیں جوکہ ہائیکنگ ٹرائوزر کی قیمت سے بھی کم ہیں۔آسمان کو چھوتے پہاڑوں کے دامن میں پاکستانی پورٹرز کا الگ تھلگ قافلہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان پورٹروں نے چوٹی سر کرنے کا ارادہ رکھنے والے کوہ پیماؤں کیلئے زندہ مرغیاں اور لان میں رکھنے والا فرنیچر اٹھا رکھا ہے، یہ تقریباً 12 دن کا سفر ہے جس میں ہر پورٹر تقریباً دو لاکھ 70 ہزار قدم اٹھاتا ہے، انہوں نے پلاسٹک کے جوتے پہن رکھے ہیں، جبکہ سر پر رنگین پگڑیاں ہیں۔ وہ تیندوے کے پرنٹ والے پاجاموں میں ہیں۔ وہ گلیشیئر پر چڑھ رہے ہیں یہاں سے دنیا کا سب سے دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی چوٹی ہے، جو 8611 میٹر (28251 فٹ) بلند ہے۔پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت انہیں یہ خطرہ مول لینے پر مجبور کرتی ہے، جس میں بعض اوقات کچھ ہاتھ بھی نہیں لگتا، صحافیوں کے ہمراہ ایک ٹور گروپ کے لیے 180 انڈوں کا ڈبہ لے جانے کی ذمہ داری نبھانے والے 28 سالہ یاسین ملک کا کہنا ہے کہ ’مجھے پہاڑوں سے محبت ہے، میرے دادا، ماموں، والد سبھی یہی کام کرتے تھے، اب میری باری ہے تاہم وہ ایک ہی سانس میں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ روایت نوجوان نسل کو منتقل نہیں کی جائے گی۔42 سالہ پورٹر سخاوت علی نے کہا کہ ’اب اس کام سے مجھے گھریلو ضروریات کا خرچ اٹھانا مشکل ہو رہا ہے، میرے پاس یہاں آنے اور سخت محنت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں لیکن جب وہ پہاڑوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کی آواز بلند ہو جاتی ہے۔ پورٹرز میں نوجوانوں سے لے کر پنشن کے قابل عمر تک کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دو ہزار میٹر کی بلندی تک 35 کلو گرام تک وزن اٹھاتے ہیں، جس کے لیے زیادہ تر نیلے رنگ کے کیمیکل سٹوریج کرنے والے ڈرم اور دھاتی بکس شامل ہوتے ہیں۔پورٹر خادم حسین کہتے ہیں کہ ’کبھی سردی ہوتی ہے، کبھی بارش ہوتی ہے، کبھی موسم سخت ہوتا ہے۔نوجوانی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا تھا، کسی بھی چیز سے کوئی خوف نہیں آتا۔ میری عمر اب وہ نہیں ہے۔ میری عمر گزر چکی ہے۔الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ابو ظفر صادق کے مطابق آج کل کے ٹو بیس کیمپ میں پلاسٹک کے مصنوعی پھلوں کے پیالے، شراب کے گلاس اور آرائشی روشنیاں پائی جاتی ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ ’وحشی پہاڑ‘ کو تجارتی قوتوں نے پورٹرز کی پیٹھ پر سوار ہو کر قابو میں لے لیا ہے، یہ پورٹر کوہ پیماؤں کی لائف لائن ہیں۔بالتورو گلیشیئر پر اردوکاس کا مقام جو عقاب کے گھونسلے کی طرح بلندی پر واقع ہے۔ یہ جگہ برف اور پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں ایک تختی لگی ہوئی جس پر سیاحت کی خدمت کے الفاظ درج ہیں۔ یہ تختی ان پورٹروں کو خراج عقیدت پیش کرنے لیے لیے لگائی گئی ہے جنہوں نے 2011 میں جان گنوائی۔یہاں پورٹرز جشن منانے کے لیے گانے اور رقص کا اہتمام کرتے ہیں جس پر وہ جیری کین کو ڈھول کی آواز پیدا کرنے کے بجاتے ہیں جس پر رقص ہوتا ہے۔42 سال ہیڈ پوہرٹر ولی خان کہتے ہیں کہ ’پہاڑوں سے میرا تعلق ایک چھوٹے بچے کا اپنی ماں کے ساتھ تعلق کی طرح ہے، ’یہ ایک جنون جیسا ہے۔ ہمارے بہت سے کوہ پیما یہاں برف کے نیچے دب چکے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ کسی دن مر جائیں گے، لیکن پھر بھی انہیں جانا تھا، ولی خان کے مطابق ’ان کے دل جڑے ہوئے تھے۔ جس طرح آپ کا دل کسی
محبوب ہستی کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
