IMFمعاہدہ:گیس 50فیصد، بجلی 4روپے فی یونٹ مہنگی؟

پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان آئندہ 9 ماہ کے لیے 3 ارب ڈالرز کے نئے پروگرام کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے جو ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب ملک کے غیر ملکی ذخائر تیزی سے سکڑ رہے تھے اور آئی ایم ایف کے 3 سالہ پروگرام کی مدت بھی گزر چکی تھی۔معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو پاکستان کے معاشی مسائل کا عارضی حل قرار دیاہے جبکہ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے پاکستان کو اپنے معاشی حالات بہتر کرنے کا موقع ملے گا۔ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی مدت ختم ہونے سے قبل قسط جاری نہ ہونے سے پاکستان کا ڈیفالٹ رسک بڑھ جاتا جو کہ اب نئے قلیل مدتی پروگرام سے کافی حد تک کم تو ہوگیا ہے لیکن اس پروگرام کی شرائط سے عوام کس طرح براہ راست متاثر ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2023-24 کے لیے 12؍ جولائی کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل گیس کی قیمت فروخت میں 45؍ تا 50؍ فیصد اور بجلی کے نرخ میں ساڑھے تین سے چار روپے فی یونٹ تک اضافہ کرنا ہوگا۔مذکورہ اضافہ اسٹاف سطح پر آئی ایم ایف سے متفقہ تین ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی راہ ہموار کرے گا۔
آئی ایم ایف سے ستاف لیول معاہدے بارے انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے لیے معیشت پر رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی شہباز رانا نے بتایا کہ ’پاکستان 6 عشاریہ 5 ارب ڈالرز کا پروگرام مکمل کرنے میں ناکام ہوا اور بغیر مکمل ہوئے ہی ایک بار پھر پاکستان آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہوگیا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس پروگرام میں سے 2 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے میں ناکام رہا کیوں کہ شرائط مکمل نہ کرنے کی وجہ سے پروگرام نامکمل ہی رہ گیا تھا۔
دوسری طرف ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر ساجد امین نے کہا کہ ’پالیسی میں تسلسل نہ ہونے اور شرائط پر عملدرآمد میں تاخیر کے سبب آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام نامکمل ہی اختتام پذیر ہوا‘۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہیے جنہوں نے اس نئے معاہدے کے لیے اقدامات کیے لیکن ساتھ ہی اس سے وزارت خزانہ اور دیگر متعقلہ وزارتوں کی ناقص کارکردگی بھی ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم کو خود اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔ڈاکٹر ساجد امین کے خیال میں پاکستان کو اب 9 ماہ سے زائد کی پلاننگ کرنی ہوگی کیوں کہ ممکن ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر 3 سالہ پروگرام کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے جس کے لیے معاشی طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ کس طرح عوام کو متاثر کرے گا؟شہباز رانا کہتے ہیں کہ قلیل مدتی نئے پروگرام کا فائدہ اس حد تک ضرور ہوگا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہوچکا ہے اور اس کی منظوری کے بعد پاکستان کو مزید قرضے ملنے کی بھی توقع ہے۔شہباز رانا سمجھتے ہیں کہ ’اس پروگرام کے منفی اثرات عوام پر کافی زیادہ پڑیں گے اور بجلی کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی بڑھنے کی صورت میں وہ براہ راست متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر آئے گا‘۔انہوں نے کہا کہ ’دوسری طرف جس طرح مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا تھا وہ شرح اب اتنی تیزی سے شاید نہ بڑھے کیوں کہ ایکسچینج ریٹ مستحکم ہونے کے باعث اب روپے کی قدر زیادہ نہیں گرے گی۔
ڈاکٹر ساجد امین کے مطابق اگر گزشتہ دور حکومت میں آئی ایم ایف کے پروگرام پر عملدرآمد کر لیا جاتا تو صورتحال کافی حد تک مختلف ہوتی لیکن اب نئے پروگرام کے اہداف حاصل کرنے کے لیے وہی سب کیا جائے گا جو کہ ماضی میں نہیں کیا گیا اور پروگرام نامکمل ختم ہوا۔انہوں نے کہا کہ قلیل مدتی پروگرام میں مزید سخت شرائط رکھی جائیں گی جن میں بجلی کے نرخ میں اضافہ، مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ اور دیگر شرائط شامل ہوں گی لیکن پاکستان کے پاس اس مشکل وقت میں ان پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے علاوہ کوئی آپشن بھی موجود نہیں ہے۔ساجد امین کہتے ہیں کہ نئے معاہدے سے روپے پر دباؤ میں کمی ائے گی اور پاکستان کو دوست ممالک سے مدد ملنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
کیا معاہدے سے ڈالر ریٹ نیچے آ سکتا ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ناصر اقبال نے بتایا کہ ڈالر ریٹ نیچے تو نہیں آئے گا بلکہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ برآمدات و درآمدات بڑھیں گے تو ڈالر ریٹ پر اثر ضرور پڑے گا اور آئی ایم ایف معاہدے میں یہ واضح ہے کہ ڈالر ریٹ مارکیٹ کے مطابق ہو گا اور اس میں حکومت کی جانب سے کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔اسی طرح پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’پیٹرول کی قیمتوں کا بھی اس معاہدے کے ساتھ تعلق نہیں اور اس کا تعلق عالمی مارکیٹ اور ڈالر ریٹ سے ہے تو اگر ڈالر ریٹ روپے کے مقابلے میں کم ہوگا، تو پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی۔‘’اب بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ انتخابات سے قبل اس پر موجودہ حکومت کتنا عمل کرے گی اور اس سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ انتخابات کے بعد جو حکومت بنے گی، تو وہ اس معاہدے پر کتنا عمل کرتی ہے۔
خیال رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے حالیہ معاہدے کے تحت 3 ارب ڈالر کے قرضوں کی وصولی کے بعد پاکستان آئی ایم ایف سے قرض لینے والا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ 46ارب ڈالر کے ساتھ ارجنٹینا پہلے ،مصر 18ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 31 مارچ 2023 کو پاکستان کا شمار آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرض لینے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر کیا گیا تھا۔تاہم اسٹینڈ بائے اریجمنٹ کے تحت آئندہ 9ماہ میں مزید 3ارب ڈالر کا قرض وصول کرنے کے بعد پاکستان ان ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ جائے گا۔
