حکومت کا آئی ایم ایف کو نویں، دسویں جائزے کیلئے خط

پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈز کو نویں اور دسویں جائزے کے لیے خط تحریر کر دیا ہے، وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کی تمام پالیسیوں کو ساتھ لے کر چلے گا۔

خط میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اضافی ٹیکس عائد کرنے کیلئے اقدامات کرلیے گئے ہیں،پاکستان بجلی ا ور گیس کی قیمتیں بھی مزید بڑھانے کوتیار ہے،ایف بی آر 9 ہزار850ارب کے قریب محصولات اکٹھے کرے گا۔

حکام وزارت خزانہ کے مطابق قرضوں اور سود کی ادائیگی میں 7 ہزار 650 ارب روپے رکھنے کی تجویزہے، اسٹیٹ بینک سے 900 ارب کے قریب منافع ملنے کی توقع ہے،پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے 750 ارب روپے اکھٹے کئے جائیں گے اورمہنگائی کو کم کرکے 21 فیصد کی شرح تک لایا جائے گا،جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد تک لے کر جائیں گے۔

خط میں کہا گیا کہ ایف بی آر کا رواں مالی سال کا ریو نیو ہدف7ہزار470ارب روپے بھی حاصل کریں گے،آئی ایم ایف سے درخواست کی گئی کہ پاکستان جلد از جلد جائزہ چاہتا ہے،دونوں جائزے ایک ساتھ کرنے کی درخواست بھی کی گئی،کہا گیا کہ آئندہ بجٹ میں بھی اصلاحاتی ایجنڈا

فرح گوگی کے 117 اکاؤنٹس اور خفیہ کمپنیاں پکڑی گئیں

چلائیں گے۔

Back to top button