آئی ایم ایف پروگرام کی فوری بحالی کے امکانات ختم؟

وقت تیزی کے ساتھ گزرتا چلا جا رہا ہے اور پاکستان کو رواں مالی سال یعنی 30 جون سے قبل خود کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچانے کے لیے لگ بھگ پانچ ارب ڈالر کی فوری ادائیگیاں کرنی ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں ہی معاہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف تاحال پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہیں اور شرح سود کو 21 فیصد سے بھی بڑھانے سمیت نئی سے نئی شرائط عائد کر رہا ہے۔ یہ پروگرام آف ٹریک ہو چکا ہے اور اب محض اعلان ہونا باقی ہے۔دونوں فریقین کا ایک دوسرے پر اعتبار بہت کم ہو چکا ہے، خاص طور پر آئی ایم ایف کا ٹرسٹ ختم ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے تازہ مینڈیٹ والی حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے معیشت کا گلا دبا کر کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس حاصل کیا ہے اور فی الحال وہ کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس میں ہی چلانا چاہ رہی ہے۔ حکومت کو یہ بھی لگ رہا ہے کہ ایسی حالت میں ہم آئی ایم ایف کے بغیر بھی چل سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ نو فروری کو آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد کا دورہ مکمل کر کے روانہ ہوا تو وزیر خزانہ کو امید تھی کہ "چند روز” میں ابتدائی معاہدہ یعنی اسٹاف لیول ایگریمنٹ طے پاجائے گا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یعنی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد تقریباً 1.1 ارب ڈالر کا اجرا ہوجائے گا۔ مگر چند روز اب کئی مہینوں میں بدل چکے ہیں اور پروگرام بحالی کے کوئی اثرات نظر نہیں آ رہے۔ایک جانب پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کی تلوار لٹک رہی ہے تو دوسری جانب ملک سیاسی افرا تفری کے سیاہ بادلوں سے اب تک نکل نہیں پایا اور ایسے میں سالانہ بجٹ پیش کرنے کا مہینہ آنے والا ہے۔
کئی معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اب آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی بھی بظاہر اس بات سے مشروط دکھائی دیتی ہے کہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی گئی ہیں یا نہیں۔ماہرین کے مطابق ایسے میں بجٹ کی تیاری کا عمل جہاں متاثر ہو رہا ہے وہیں مسلسل غیر یقینی کی صورتِ حال بھی برقرار ہے۔ حکومت نے بجٹ کا بنیادی خاکہ طے کرنے کے لیے اب تک قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی طلب نہیں کیا۔
ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ یہ انتخابات کا سال ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہو گی کہ وہ ایک ایسا بجٹ پیش کرے جس میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ رعایت جائے۔ حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی کے برخلاف بجٹ منظور کرانا پاکستان کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔اُن کے بقول ایسا کرنے سے نہ صرف موجودہ آئی ایم ایف پروگرام بلکہ نئے آئی ایم ایف پروگرام کی راہیں بھی مسدود ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر پاشا کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے پاکستان نے ایک ہی سادہ اور ٹھیک مطالبہ کیا ہے کہ اگر پاکستان کو معاشی استحکام کی جانب جانا ہے تو بجٹ میں پروگریسو ٹیکسیشن کرنا ہو گی اور غریب ترین طبقے کو رعایت دینا ہو گی۔خیال رہے کہ پروگریسو ٹیکسیشن یا ٹیکس عائد کرنے میں ترقی پسندانہ سوچ کا معیشت میں سادہ مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آمدن کے حساب سے ٹیکس لاگُو کرنے کا انداز اپنایا جائے۔ یعنی ٹیکس نظام ایسا ترتیب دیا جائے جس میں زائد آمدن والے پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ اور کم آمدنی والے طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم رکھا جائے۔اس سے کسی بھی معاشرے میں آمدنی میں پائی جانے والی عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور امیر طبقات سے حاصل کیے گئے ٹیکس سے غریب طبقات کی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر ضروریات زندگی پوری کی جاتی ہیں۔
معاشی ماہرین کے بقول آئی ایم ایف کے مطالبے کا دوسرا حصہ معاشرے کے ضرورت مند طبقات کو ہدف بناکر ان کی مدد کرنا شامل ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ صرف اسی طبقے کو سبسڈیز فراہم کی جائیں جو اس کا حق دار ہے۔ اگر بجلی، گیس، تیل، زمین یا کسی بھی جنس کی قیمت بہت زیادہ ہے تو سبسڈیز ہر کسی کے بجائے صرف اُسی کو ملے جس کی قوتِ خرید انتہائی کم ہے۔کئی معاشی ماہرین کے بقول پاکستان کے معاشی نظام میں ایسے زیادہ تر فوائد بااثر افراد اٹھاتے ہیں جو ٹیکس استثنیٰ اور مراعات حاصل کرتے ہیں جبکہ غریب ترین افراد کے ساتھ متوسط طبقے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے جو کہ ناانصافی پر مبنی معاشی نظام کی علامت ہے۔
آئی ایم ایف اور پاکستان کے تعلقات پر نظر رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنیادی طور پر پروگرام بحالی کے امکانات اس وقت تک کم رہیں گےجب تک پاکستان بیرونی مالی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے مزید تین ارب ڈالر کا نہ صرف انتظام مکمل کرے بلکہ اس کی تحریری ضمانت بھی حاصل کر کے فنڈ کو فراہم کرے۔
دوسری جانب پاکستان کی فنڈ پروگرام بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہوتی نظر آرہی ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور اینڈریو شوفر سے ملاقات کی جس میں ترجمان وزارتِ خزانہ کے مطابق دو طرفہ معاشی، تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری سے متعلق تبادلۂ خیال ہوا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے پر جلد ہی دستخط ہوجائیں گے جس کے بعد فنڈ کے نویں جائزے کی منظوری مل جائے گی۔معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ ملاقات کا بنیادی مقصد آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے امریکی تعاون حاصل کرنا ہے۔
