کیا عمران خان اب آرمی چیف کے پاؤں پڑنے والے ہیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی نے کہا ہے کہ ناقص حکمت عملی کی بدولت عمران خان کی سیاست بے رنگ، بے بُو، بے ذائقہ اور بے ااثر ہوچکی، اس کی سیاسی پسپائی کا بہیمانہ سفر شروع ہو چُکا ہے ۔ آج عمران خان اللہ کی بے آواز لاٹھی کی زد میں ہے اور اس کی سیاست اب بن کِھلے مرجھانے کو ہے۔ نئے آرمی چیف کی آمد کے بعد عمران خان کنفیوژن کا شکار ہےکہ ان پر دباؤ بڑھائوں یا ان کے پاؤں پکڑوں۔ ان خیالات کا اظہار حفیظ الله نیازی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ عمران خان کے ہتھے چڑھی نئی نویلی مقبول سیاست دو ستونوں پر استوار تھی، ایک یہ کہ ’’امریکہ نے میری حکومت کیخلاف سازش کی، دوسرے یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر غدار ٹولے نے امریکی سازش کو عملی جامہ پہنایا‘‘۔ پہلے مرحلے میں ہی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کو غیر معمولی پذیرائی ضرور ملی، یہ بیانیہ ہی موصوف کو انتخابی سیاست سے دور لے گیا۔ اس بیانیہ کی کامیابی نے اسٹیبلشمنٹ کا ستیاناس کرنا تھا یا بصورت ناکامی عمران خان کا ملیا میٹ ہونا تھا۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ABSOLUTELY-NOT ……’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ اور …..’’غلامی سے آزادی کا سفر‘‘ آج یہ تینوں نعرے زمیں بوس ہو کر تلاشِ گمشدہ کی بھول بُھلیوں میں گُم ہو چکے۔ ایک طرف اندھے مقلدین کو حقیقی آزادی کے حصول کا چکا چوند چکمہ دیا تو دوسری طرف امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ معافی تلافی یعنی کہ NRO کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔

مراسلہ لہرانے کے دو ماہ کے اندر سازش کا مرکزی کردار ڈونلڈ لُو کو PTI امریکہ نے اپروچ کیا، وضاحتیں دیں۔ تب سے امریکی خوشنودی کیلئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ انہی دِنوں امریکی لابنگ فرم کی 30 ہزار ڈالر ماہانہ پر خدمات پر حاصل کیں۔اگلے مرحلے میں CIA کا اثاثہ رابن رافیل بنی گالہ آ دھمکی، چند دن ملاقات چھپاتے رہے، بالآخر بتانا پڑ گیا۔ CIA کے سکہ بند ایجنٹ زلمے خلیل زادکا کودنا بھی بنتا تھا۔ عمران خان کے حق میں اس نے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی بکواس کر ڈالی۔ تب سے چل سو چل ہے ، یہودی ممبر کانگریس بریڈ شرمین اور دیگر کانگریس ممبران سے رابطے کیلئے سر توڑ کوششیں عروج پر پہنچیں ۔ PTI کا امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں سفیر تک رسائی اور تابڑ توڑ میٹنگز کرنا معمول بن چُکا ہے۔ یہ تو سامنے کے حقایق ہیں ، پس پردہ نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلے ہونگے ۔ اس ساری تگ و دو اور جستجو کے بعد عمران خان بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ سازش امریکہ نے نہیں کی، جنرل باجوہ نے پروان چڑھائی۔ امریکہ کیلئے عام معافی اور جنرل باجوہ کیلئے کورٹ مارشل کی ڈیمانڈ بنتی تھی۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اقتدار ہاتھ سے جاتے دیکھا تو جاتے جاتے وطن عزیز پر اقتصادی تباہ کاری کی بارودی سُرنگیں بچھا دیں۔IMF سے معاہدہ توڑ کرپاکستان کو دیوالیہ بنانے کی مذموم کوشش کر ڈالی۔ یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں کہ شوکت ترین نے وزیر خزانہ پنجاب اور KP کو اُکسایا کہ ریاست کیخلاف سازش پر کمر کَس لیں اس سے پاکستان تباہ ہو گا تو عمران خان کا کاروبارسیاست پروان چڑھے گا۔

شوکت ترین کی ریاست مخالف گفتگو اور IMF سے ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔ مگر پچھلے چند مہینوں سے PTI رہنما جوش و خروش سے امریکہ اور IMF سے دوبارہ رابطے کر رہے ہیں۔ اپنی وفاداری کا یقین دِلا رہے ہیں۔IMF سے اپنی وفاداری بشرطِ استواری کا کامل یقین دلارہے ہیں۔ آج امریکی مراسلہ، امریکی سازش جیسے لغو نعروں سے عمران خان اپنا پیچھا چھڑوا چکے ہیں۔ نئی نویلی مقبولیت کو دبوچے امریکہ کی مدد لینے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کو بھی راضی کرنے کیلئے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ بہتر تعلقات کی تگ و دو میں دن رات ایک کر رکھا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی مدد کے بدلے قوم، ملک، دین بیچنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کو بھی ایسے عناصر اور کرداروں کی تلاش جووطن عزیز کی فروخت میں پس و پیش سے کام نہ لیں۔

اس میں کوئی حیرت نہیں ہوگی اگر آنے والے دنوں میں امریکہ اور بھارت عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے ہمہ وقت میسراور دستیاب ہوں۔ وطن عزیز میں امریکی دلچسپی سوائے عدم استحکام اور سالمیت کو متزلزل رکھنے کے اور کچھ نہیں۔ نواز شریف کیخلاف دس والیم جو CIA کی مدد سے تیار ہوئے ، وطن عزیز کے حالات کو یہاں تک پہنچانے کا نکتہ آغاز تھا۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی آمد کے بعدعمران خان اس کنفیوژن میں ہے کہ دباؤ بڑھائوں یا پاؤں پکڑوں۔ تب سے” جمہوریت اور آئین” کی پاسداری کے نام پر دباؤ اور مِنت ترلے بیک وقت جاری ہیں۔ قومی اسمبلی کے استعفے ہوں، 25مئی کا لانگ مارچ، قاتلانہ حملہ، الیکشن کمیشن سے نااہلی،26 نومبر کا لانگ مارچ، دو اسمبلیوں کی تحلیل یاجیل بھرو تحریک، ایک موقع ایسا نہیں کہ عمران خان عوام کو ریاست کیخلاف سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ البتہ عدلیہ پر دباؤ بذریعہ ’’جتھہ انصاف کا حصول‘‘ کچھ نہ کچھ کام دِکھاتا گیا ۔ لے دے کے عدلیہ میں سہارے کو ڈھونڈ لیا ہے لیکن اس سے بڑا سانحہ کیا ہو سکتا ہے کہ آج عدلیہ بھی عمران کا ساتھ چھوڑنے کو ہے۔ اپنی ناقص حکمت عملی کی بدولت موصوف کی سیاست بے رنگ، بے بُو، بے ذائقہ اور بے اثربن چکی۔

اس میں قطعاً کوئی حیرت نہیں کہ عمران خان کی سیاسی پسپائی کا بہیمانہ سفر شروع ہو چُکا ہے،وہ مکمل گھیرے میں آ چُکا ہے۔ اس نے ساری زندگی مہرہ بن کر جھوٹ بولا اور غلط بیانی سے مستقبل سنوارا۔ آج عمران خان اللہ کی بے آواز لاٹھی کی زد میں ہے . حیف! عمران خان کی سیاست بن کِھلے مرجھانے کو ہے۔

Back to top button