عمران حکومت نے IMF اہداف اوروعدوں سے انحراف کیا

عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف ) نے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیوں کا پھانڈہ پھوڑتے پوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سابقہ عمران حکومت نے ادارے سے معاہدے کے اہداف اوروعدوں سے انحراف کیا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق اپنی کنٹری رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان حکومت نے قرض پروگرام میں طے کیے گئے اہداف اور وعدوں سے انحراف کیا جس سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے وعدہ خلافی کرکے پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں کمی کی، جب کہ ٹیکس چھوٹ دینے سے مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے ميں اضافہ ہوا، اور زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر گرنے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی۔

آئی ایم ایف کی کنٹری رپورٹ ميں شہباز شريف حکومت کی تعريف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے قرض پروگرام دوبارہ ٹريک پر لانے کیلئے ٹھوس پالیسی اقدامات کیے ہيں۔

300 یونٹ تک بجلی بلز پرفیول ایڈجسٹمنٹ ختم کرنیکا نوٹیفکیشن جاری

کنٹری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نئی مخلوط حکومت نے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جب کہ جی ایس ٹی بحال کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

رپورٹ میں آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے تحت بجلی اور گیس ٹیرف میں بروقت اضافے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گردشی قرضے میں کمی اور ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے تحت بجلی اور گیس ٹیرف میں بروقت اضافے پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گردشی قرضے میں کمی اور ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔

رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اس سال معاشی شرح نمو 3.5 فیصد جبکہ مہنگائی 20 فیصد تک رہے گی۔ اصلاحات کے باوجود قرض پروگرام کیلئے خطرات برقرار ہیں۔

Back to top button