‘پراجیکٹ عمران’کھڑا کرنے والے اب کس پریشانی کا شکار ہیں؟

پہلے بڑی جانفشانی کے ساتھ ‘پروجیکٹ عمران خان’ کھڑا کرنے اور پھر اسکے بری طرح ناکام ہو جانے کے بعد اتنی ہی تندہی سے اس لپیٹنے کی کوششوں میں مصروف فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت عجیب مشکل کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ کپتان کی زبان درازی ہے جو اب اسکی اصل طاقت بن چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ عمران کی فوجی قیادت پر لفظی گولہ باری نے سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ خفیہ ادارے کے سربراہ کو مجبور کر دیا کہ وہ سامنے آکر پریس کانفرنس کرے اور عوام کو تصویر کا دوسرا رخ دکھائے۔ لیکن دوسری جانب عمران اسکا جواب بھی عوامی جلسوں میں دے رہا ہے اور اوئے توئے پر اتر آیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی روز عمران نے انہیں للکار کر کہا کہ کان کھول کر سُن لو، تم آدھا سچ بول رہے ہو جب کہ پورا سچ میں اگل سکتا ہوں لیکن ادارے کی عزت کی وجہ سے خاموش ہوں۔ چنانچہ عوامی حلقوں میں اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی کو عمران کے منہ لگنے کی ضرورت تھی؟

بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں معروف مصنف اور لکھاری محمد حنیف کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس پر میں بھی پوری قوم کی طرح مبہوت ہوا کہ انہیں ایسا کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ میں نے دیکھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی رات کی تاریکی میں ہونے والی ملاقاتوں کا حال لائیو ٹی وی پر بتا رہا ہے اور اُردو کے بھاری بھر کم الفاظ استعمال کر کے سیاست دانوں اور صحافیوں کو شرمندہ کر رہا ہے۔ لیکن اگر آئی ایس آئی چیف ٹی وی پر آ کر بولے گا تو اسکو جواب بھی عوامی جلسوں میں ملے گا۔ عمران خان نے اگلے دن ہی للکارا کہ کان کھول کر سُن لو تم آدھا سچ بول رہے ہو۔ یہ باتیں سُن کر ماضی کے آئی ایس آئی کے سربراہوں کے چہرے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے آئی ایس آئی کے چیف اسد درانی ہیں۔ پہلے ہمیں بتایا گیا کہ آرمی پبلک سکول کا واقعہ محض کولیٹرل ڈیمیج تھا، پھر اسد درانی نے را کے سابقہ چیف کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس کے بعد ان کی نقل و حرکت پر کچھ پابندی لگی تو گھر بیٹھے بیٹھے ایک ناول لکھ ڈالا جو پہلے دو صفحے پڑھ کر میں نے ایک طرف رکھ دیا۔ اگر یہ ناول کسی نے پورا پڑھا ہو تو اسکا خلاصہ مجھے بتا دے۔ درانی صاحب چونکہ پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے تو ریٹائرمنٹ کے بعد ادبی تقاریب میں نظر آنے لگے۔ ایک تقریب میں میری ایک دوست مصنفہ نے پوچھا کہ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کرتے ہیں تو کہا کہ مجھے باغبانی کا شوق ہے۔ چند ماہ بعد ایک اور تقریب میں پائے گئے، میری دوست نے ان سے پھول کیاریوں کا حال پوچھا، فرمانے لگے آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے ہی کہا تھا کہ آپ کو باغبانی کا بہت شوق ہے۔ ہنس کر فرمانے لگے میں آئی ایس آئی چیف رہا ہوں آپ مجھ سے کیوں توقع کرتی ہیں کہ میں سچ بولوں گا۔

ملک بھر میں پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہرے، متعدد گرفتار

حنیف کے بقول سچ بولنا شاعروں، درویشوں اور کبھی کبھی باغی سیاستدانوں اور صحافیوں کا کام ہے۔ آپ کسی پیشہ ور جاسوس سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ وہ سچ بولے گا۔ پاکستان میں آئی ایس آئی کا چیف یا تو اتنا طاقتور ہوتا ہے یا اتنا کمزور کہ وہ کبھی سچ بول ہی نہیں سکتا بلکہ سچ بولنا شاید اس کے عہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ہمارے زندگی کے پہلے مشہور آئی ایس آئی چیف اختر عبدالرحمان تھے۔ خود اپنے آپ کو ’خاموش مجاہد‘ کا خطاب دیا، پھر افغانستان میں اپنی کامیابیوں کے حوالے سے ایک سوانح عمری لکھوائی، عنوان اس کا تھا ’فاتح‘۔ اس میں ذکر تھا کہ کیسے انھوں نے افغانستان میں سویت یونین کو شکست دی۔ روس اور افغانستان آج دونوں آزاد ہیں اور ہم اب بھی حقیقی آزادی کے لیے ایک سست رو مارچ کر رہے ہیں۔ جنرل حمید گل سے زیادہ مشہور تو کوئی آئی ایس آئی چیف نہیں رہا۔ وہ جلال آباد فتح کرنے چلے تھے لیکن رستے میں میڈیا کو انٹرویو دینے لگے اور آخری دم تک دیتے رہے۔ ان کی کمان میں ان کے آرمی چیف ضیا اور درجن بھر سینئر جنرل بظاہر ایک جہاز کو گرا کر مار دیے گئے، لیکن ان کی فاتحانہ مسکراہٹ کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ آج حال یہ ہے کہ ہم جلال آباد والوں کی داڑھی کو ہاتھ لگا کر منتیں کرتے ہیں کہ ہم آپ کے بھائی ہیں اور آپکے خدمتگار رہے ہیں لہذا ہمیں بخش دو۔

محمد حنیف کا کہنا ہے کہ جس طرح ہم سب کا اپنا پسندیدہ کرکٹر، گلوکار یا بریانی کا برانڈ ہوتا، میرے پسندیدہ آئی ایس آئی چیف جنرل جاوید ناصر رہے ہیں۔ وہ قدرے غیر معروف ہیں اور شاید اپنے زمانے میں تھوڑے نالائق بھی سمجھے جاتے تھے۔ وہ ٹرک بھر بھر کر مجاہدین کو کابل بھیجتے تھے اور ان ٹرکوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بھی بلند کرتے تھے۔ وہ شاید پاکستان کے پہلے باریش آئی ایس آئی چیف تھے اور اب تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے بوسنیا کے جہاد میں بھی حصہ ڈالا تھا، پھر وہ ریٹائر ہو گئے اور ہم بھی انھیں بھول گئے۔ لیکن ایک روز میں نے دیکھا کہ جنرل صاحب کا ٹی وی پر انٹرویو چل رہا ہے لیکن سکرین بلینک ہے۔ نہ ان کی فوٹیج نہ کوئی تصویر، صرف سکرین پر نام لکھا ہے پھر انٹرویو کے دوران اینکر نے خود ہی بتایا کہ جنرل صاحب تصویر کشی کو اسلام کی رو سے حرام سمجھتے ہیں، ٹی وی پر شکل دکھانا مکروہ ہے لیکن اپنا پیغام تو پہنچانا ہے لہٰذا وہ منہ چھپا کر قوم سے مخاطب ہیں۔ حنیف کہتے ہیں کہ ہمارے موجودہ آئی ایس آئی چیف ظاہر ہے ایک پروفیشنل سولجر ہیں، غیر سیاسی ہیں اور ظاہر ہے ان کا اپنا حلال حرام ہے۔ لہٰذا اگر چاہیں تو وہ بھی جنرل جاوید ناصر سے سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ شکل بھی نظر نہ آئے، اور انکا پیغام بھی پہنچ جائے۔

Back to top button