کرپشن میں اضافہ، پاکستان پہلے سے زیادہ کرپٹ قرار

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے سال 2022 میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے پوائنٹس میں مزید کمی آئی ہے یعنی شہباز شریف اور عمران خان کے مشترکہ دورِ حکومت میں پاکستان پہلے سے زیادہ کرپٹ ملک بن کر سامنے آیا ہے۔پاکستان کو اُن 10؍ ممالک میں شامل کیا گیا ہے جن کا سی پی اسکور زوال پذیر ہے۔سی پی آئی رپورٹ شہباز شریف کی زیر قیادت پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ عمران خان کی گزشتہ حکومت کیلئے بھی ایک چارج شیٹ ہے جس میں پاکستان کا سی پی آئی اسکور زوال کا شکار ہوا اور 2012ء کے مقابلے میں اسکور کم ترین سطح پر ہے۔ 2022ء میں پاکستان کا سی پی آئی اسکور 27؍ ہے اور 2021ء میں یہ اسکور 28ء تھا۔ تاہم، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 180؍ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 140؍ ہے۔

 

خیال رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اپنی رپورٹ کی تیاری میں مختلف بین الاقوامی اداروں کے سرویز کا سہارا لیتا ہے اور ان اعداد و شمار کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کی تیاری میں پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی دونوں کے دورِ حکومت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ایشیا پیسفک رپورٹ میں عمران خان حکومت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان نے اعداد وشمار کے حوالے سے رواں سال زوال کا رجحان جاری رکھا ہے اور 2012ء کے مقابلے میں اس سال مزید گراوٹ دیکھی گئی ہے اور جاری سیاسی بحران کے دوران اس کے پوائنٹس 27؍ ہیں۔سابق وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آئے تھے تو وعدے کیے تھے کہ بھرپور کرپشن کو روکیں گے اور سماجی و معاشی اصلاحات کو فروغ دیں گے لیکن 2018ء میں جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے لیکر ان دونوں محاذوں پر بہت کم کارکردگی ہی دکھائی گئی۔

 

اس موقع پر چیئرمین ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ بہت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ قانون کی بالادستی  یعنی روُل آف لاء انڈیکس میں پاکستان کا اسکور صرف ایک پوائنٹ بہتر ہوا ہے۔ یہ انڈیکس اُن سات انڈیکسز میں سے ایک ہے جن کا جائزہ پاکستان کا اسکور معلوم کرنے کیلئے لیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر سی پی آئی 2022ء میں پاکستان کا اسکور کم ہو کر 100 میں سے 27 ہوگیا ہے جبکہ 2021ء میں یہ اسکور 100 میں سے 28 تھا۔ دونوں برسوں میں پاکستان کا نمبر 180 میں سے 140 ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام شعبہ جات سے کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے۔

 

واضح رہے کہ سی پی آئی میں 180 ممالک کی رینکنگ کی جاتی ہے اور اس مقصد کیلئے سرکاری شعبہ جات میں کرپشن کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے جس میں صفر اسکور کا مطلب انتہائی کرپٹ جبکہ 100 اسکور کا مطلب ہے شفاف۔ سی پی آئی گلوبل اوسط مسلسل گیارہویں سال تک تبدیل نہیں ہوئی اور یہ اسکور 43 ہے اور دو تہائی سے زیادہ ممالک میں کرپشن ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہاں کا اسکور 50 سے کم ہے۔رواں سال کے انڈیکس میں ڈنمارک سب سے اوپر اور اس کا اسکور 90 ہے جس کے بعد فن لینڈ اور نیوزی لینڈ کا نمبر ہے اور دونوں کا اسکور 87 ہے۔ گلوبل پیِس انڈیکس کے مطابق، مضبوط جمہوری اداروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی وجہ سے بھی یہ ممالک دنیا کے پر امن ترین ممالک میں شمار کیے گئے ہیں۔

 

کرپٹ ممالک کی فہرست میں جنوبی سوڈان 13، شام 13 اور صومالیہ کا اسکور 12 ہے اور یہ تینوں ممالک شدید تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں اور سی پی آئی فہرست میں نیچے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی کے مطابق، 26؍ ممالک رواں سال تاریخ میں نچلی سطح پر ہیں جن میں قطر کا اسکور 58، گوئٹے مالا 24 اور برطانیہ 73 ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کیخلاف مقدمہ درج

Back to top button