عمران کا اسلامی ٹچ ان کے اپنے گلے پڑ گیا

وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم سے تفتیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بظاہر نوید احمد ایک مذہبی جنونی معلوم ہوتا ہے جس نے اپنے طور پر سابق وزیر اعظم کو نبی پاک ؐ بارے قابل اعتراض گفتگو کرنے کی وجہ سے نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس واقعے میں کسی سازش کا پہلو نظر نہیں آتا۔ ملزم سے تفتیش کرنے والے کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ نوید احمد کے موبائل فون سے نہ صرف عمران خان کی تقاریر کی ویڈیوز ملی ہیں بلکہ خادم حسین رضوی اور علامہ سعد رضوی کی تقاریر بھی ملی ہیں۔ اس نے بتایا ہے کہ وہ سنی بریلوی فرقے سے تعلق رکھتا ہے جسے عمران خان کی جانب سے نبی پاکؐ سے اپنا موازنہ کرنا قبول نہیں اسی لئے اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔
عمران خان پر فائرنگ کرنے والے ملزم کا ایک نیا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے جس میں نوید کا کہنا ہے کہ میں نے کنٹینر پرعمران کو ٹارگٹ کیا ہوا تھا اور اسکے علاوہ کوئی اور شخص میرا ٹارگٹ نہیں تھا کیونکہ عمران لوگوں کو گمراہ کررہا تھا، مجھ سے یہ چیز دیکھی نہیں گئی، اور میں نے اسے مارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا کہ عمران خان جس دن سے لاہورسے چلامیں نےاس دن فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے مار دوں گا۔ نوید نےپولیس کو بتایا کہ میرے پیچھے کوئی نہیں، میرے ساتھ بھی کوئی نہیں تھا، میں نے عمران پر حملے کا فیصلہ خود کیا، جب میں گھر سے چلا تو اکیلا تھا اور موٹر سائیکل اپنے ماموں کی دکان پر کھڑی کر دی تھی۔ اس نے تسلیم کیا کہ وہ علامہ خادم حسین رضوی اور تحریک لبیک سے متاثر ہے کیونکہ وہ بھی عاشق رسول ہے۔ نوید نے کہا کہ اپنی تقاریر میں عمران خان اپنا کا موازنہ نبی پاک ؐسے کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اللہ کے بنی کی طرح وہ بھی پیغام پھیلانے نکلا ہے، ایسی گفتگو کوئی شاتم رسول ہی کر سکتا ہے۔ عمران کے مطابق جِس طرح نبی پاکؐ نے لوگوں کو تبلیغ کی دعوت دی، اُسی طرح میں بھی اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا رہا ہوں۔ نوید احمد کے مطابق عمران کے اِس بیان سے لگتا تھا کہ وہ چودہویں صدی کا نبی ہونے کا دعویدار ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ چیز اچھی نہیں لگی۔حضور ؐخاتم النبین ہیں۔مدینہ کی ریاست ایک ہی ہے جو نبی ؐپاک نے بنائی اور وہ سعودی عرب میں ہے۔ ہمیں دوسری ریاستِ مدینہ نہیں چاہیے۔ ایسے میں عمران خان کیسے ریاستِ مدینہ بنانے کا دعوی ٰکرسکتا ہے؟ کیا وہ خود کو پیغمبر سمجھتا ہے؟
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس قرار دیا ہے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہم عمران کو سیاسی مخالف سمجھتے ہیں، دشمن نہیں لیکن عمران ہمیں دشمن سمجھتے ہیں۔
ملزم نے عمران کو چھت کی بجائے زمین سے نشانہ کیوں بنایا؟
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی تحویل میں موجود حملے کے ملزم نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ وہ عمران خان کی قابل اعتراض گفتگو کی وجہ سے مشتعل ہوا اور حملے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عمران خان جو مذہب کارڈ ہمارے رہنماؤں کیخلاف استعمال کیا کرتے تھے اب وہ ان کے گلے پڑ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کا ملزم پرویز الٰہی کی ماتحت پنجاب پولیس نے گرفتار کیا ہے، گجرات کے ہی تھانے میں ملزم کا بیان ریکارڈ ہوا، اس واقعے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور مرضی کا پرچہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملزم کے بیان کی ایک قسط پہلے روز جاری ہوئی تھی، جس میں اس نے حملے کی دو وجوہات بیان کیں، ملزم کے بیان کے بعد پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب نے تھانےکے عملے کو معطل کر دیا، لیکن اس کے بعد ملزم کے بیان کی دوسری قسط جاری ہوئی، جس میں عمران پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یقیناً ملزم کے بیان کی دوسری ویڈیو عمران نے بھی دیکھی ہو گی۔ ملزم جو الزام لگا رہا ہے وہ انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہیں،رانا ثنا کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ہم بھگت رہے ہیں، اب سیاسی انتہا پسندی کا بیج بھی بویا جا رہا ہے، یہ سیدھا سیدھا مذہبی انتہا پسندی کا کیس ہے لیکن عمران خان نے اس معاملے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے الزام شریف برادران اور آئی ایس آئی کے سینئر افسر پر لگا دیا ہے جو افسوسناک ہے۔
