کیا عمران پر حملہ کرنے والے کا تعلق تحریک لبیک سے ہے؟

وزیرآباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے ملزم نوید احمد نے تفتیش کے دوران اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ اس نے سابق وزیراعظم کو مارنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ وہ اپنا موازنہ نبی پاک سے کرتا تھا لہٰذا فائرنگ شروع کرنے سے پہلے بھی میں نے لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگایا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تحریک لبیک کے مرحوم سربراہ خادم حسین رضوی اور ان کے بیٹے سعد رضوی سے متاثر ہے جن کی ویڈیو تقاریر وہ اکثر سنتا رہتا تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوید نشے کا عادی ہے اور چوری کے الزام میں ایک بار حوالات بھی جا چکا ہے۔
عمران سیاسی مخالف،دشمن نہیں،حملہ مذہبی انتہا پسندی ہے
یاد رہے کہ 2018 کی الیکشن مہم کے دوران جس شخص نے نارووال میں لیگی رہنما احسن اقبال پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا تھا، اس کا تعلق بھی تحریک لبیک سے تھا۔ تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری نے عمران پر حملے کے بعد بتایا ہے کہ وہ پارٹی قیادت کو وزیر آباد میں ممکنہ حملے کے حوالے سے پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انہیں وزیر آباد میں تحریک لبیک کے شدت پسندوں کی موجودگی کا علم تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں اعجاز چوہدری کا تعلق جماعت اسلامی سے رہا ہے اور انہیں اب بھی مذہبی حلقوں کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔
اعجاز چوہدری عمران دور حکومت میں تحریک لبیک کے دھرنے کے دوران مولانا سعد رضوی کو منانے کے لیے ان سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ جب عمران خان حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر عائد پابندی ہٹانے کے بعد سعد رضوی کو رہا کیا گیا تھا تو اعجاز ہی انہیں مبارکباد دینے ٹی ایل پی کے لاہور ہیڈ کوارٹر پہنچے تھے اور انکے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے تھے۔ لہذا خیال کیا جاتا ہے کہ اعجاز چوہدری کو اپنے لبیک کنکشن کی وجہ سے پہلے ہی یہ اندازہ تھا کہ کوئی عاشق رسول عمران پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 3 نومبر کو لانگ مارچ کے دوران عمران خان کے کنٹینر پر وزیر آباد کے قریب اللہ والا چوک میں فائرنگ کی گئی تھی جسکے فوراً بعد ایلیٹ فورس کے جوانوں نے نوید احمد نامی شخص کو گرفتار کیا تھا۔ گجرات کے تھانہ کنجاہ کی پولیس کی حراست سے جاری ہونے والے ویڈیو بیانات میں ملزم نوید احمد کا کہنا ہے کہ چونکہ عمران خود کو پیغمبر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا چنانچہ میں نے اسے مارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا کہ نبی کی شان کی خاطر میں نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے بیوی بچوں کو بھی قربان کر سکتا ہوں۔ نوید کا کہنا تھا کہ عمران اکثر اپنی تقریروں میں کہتا ہے کہ میں بھی نبی پاک کی طرح اپنی قوم کے لئے پیغام لے کر نکلا ہوں، حالانکہ وہ 22 کروڑ عوام کو گمراہ کر رہا ہے، اس نے کہا کہ عمران خان کا اپنا موازنہ نبی پاک کی ذات پاک سے کرنا ناقابل برداشت ہے، لہٰذا میں نے اس گستاخ شخص کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ملزم سے ابتدائی تفتیش کے مطابق وہ کئی برس سعودی عرب میں گزارنے کے بعد چھ ماہ پہلے ہی پاکستان واپس آیا تھا۔ نوید سوہدرہ کے محلہ مسلم آباد کی مسجد رضا والی گلی میں ایک چار مرلے پر محیط مکان کا رہائشی ہے، جو اندر اور باہر سے پلستر کے بغیر ہے۔ اس کی سیمنٹ سے محض چُنائی ہوئی ہے، گویا گھر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔ نوید اس مکان میں اپنے دو ننھے بیٹوں، بوڑھی والدہ اور اہلیہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھا لیکن عمران پر حملے کے بعد اس کا سارا خاندان ایجنسیاں اٹھا کر لے گئیں۔ سوہدرہ کا علاقہ دریائے چناب کے کنارے پر آباد ہے اور گنجان آبادی والا قصبہ ہے۔ اس قصبے میں قریب ہر خاندان کا ایک فرد ملک سے باہر روزگار کی خاطر مقیم ہے۔
نوید احمد کا بڑا بیٹا ڈیڑھ برس کا ہے جبکہ چھوٹا بیٹا محض دس دن پہلے پیدا ہوا تھا۔ یہ خاندان جس گھر میں رہائش پذیر ہیں، وہ اُن کے والدہ کا وراثتی گھر ہے جو نوید کے حصے میں آیا۔ ملزم نوید نے سعودی عرب میں محنت مزدوری سے جو پیسہ کمایا اس میں سے بھائیوں کو حصہ دے کر یہ گھر اپنے نام کروا لیا تھا۔ نوید احمد کے والد محمد بشیر کی 15 سال پہلے وفات ہوگئی تھی۔ نوید احمد آرائیں فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے والد پلمبر تھے اور بورنگ اور کباڑ کا کام کرتے تھے۔ اس کے باقی بھائی بھی اپنے والد والا ہی کام کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نوید احمد چار سال سعودی عرب میں محنت مزدوری کرنے کے بعد چند ماہ قبل ہی واپس آیا تھا اور تحریک لبّیک پاکستان سے متاثر تھا۔ اسکے گھر کے پاس واقع مسجد رضا والی میں اکثر تحریک لبیک کے اجتماع ہوتے ہیں جن میں نوید شریک ہوتا تھا۔ ملزم کے ہمسائے عبداللہ کے مطابق وہ سعودی عرب سے واپس آ کر کوئی خاص کام نہیں کر رہا تھا۔ البتہ اپنے بھائی کے ساتھ بورنگ کے کام میں ہاتھ بٹاتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ کاٹھ کباڑ کا کام بھی کر لیتا تھا۔
عبداللہ نے بتایا ہے کہ ’نوید احمد سنی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی کبھار مسجد میں نماز پڑھتا ہوا پایا جاتا تھا۔ تحریک لبیک بھی سنی بریلوی مذہبی سیاسی جماعت ہے جس کے موجودہ سربراہ سعد رضوی ہیں۔ ملزم نوید احمد کے ایک محلے دار خالد مجید نے بتایا کہ اسکا مذہبی رجحان تحریک لبیک کی طرف محسوس ہوتا تھا اور وہ مقامی مسجد میں ہونے والے مذہبی اجتماعات میں بھی شرکت کرتا رہتا تھا۔
اس نے بتایا کہ چند روز پہلے ملزم نوید احمد کے گھر کے قریب ایک سکول میں کوئی تقریب ہو رہی تھی جس میں موسیقی شروع ہوئی تو وہ سیخ پا ہو گیا اور سکول انتظامیہ سے سخت تلخ کلامی بھی کی۔
