عمران خان مائنس، پی ٹی آئی ملکی سیاست سے آوٹ؟

سانحہ 9 مئی کے بعد مشکلات سے دوچار سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جہاں ایک طرف اٹک جیل میں پابند سلاسل ہیں وہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال کی سزا کے بعد 5 سال کے لیے نااہل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ جس کے بعد جہاں عمران خان کی سیاست پر فل سٹاپ لگ گیا ہے وہیں مائنس عمران خان ہونے کے بعد پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہو چکا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیشنز جج اسلام آباد کی جانب سے 5 اگست 2023 کو سنائے گئے فیصلے کے پیش نظر عمران خان کو پانچ سال کے لیے نااہل کیا جا رہا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 (1) (ایچ) کے تحت نااہل ہو گئے ہیں اسی لیے انہیں 5 سال کے لیے نااہل کیا جاتا ہے۔اس پابندی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو این اے۔45 کرم 1 کی نشست سے بطور امیدوار ڈی نوٹیفائی کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے توشہ خانہ کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ عمران خان کے پابند سلاسل ہونے کے بعد پارٹی کا نظام کس طرح چل رہا ہے اور مشاورت کے لیے رہنما کیسے آپس میں رابطے کر رہے ہیں؟اس کے علاوہ دیگر سوالات بھی جنم لے چکے ہیں۔ جیسے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ان حالات میں کس طرح انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جائیں گے؟ متبادل پارٹی قیادت کس طرح رہنماؤں اور کارکنوں کو منظم کرے گی؟ تحریک انصاف کس طرح آئندہ عام انتخابات میں اپنی پوزیشن بہتر کرے گی؟یہ وہ سوال ہیں جو ان دنوں ہر ایک کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن پرعزم ہیں کہ عمران خان کی رہائی تک پارٹی کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے گا۔ وہ ان مشکل حالات کے باوجود ’عمران خان کی مقبولیت میں اضافے‘ کی وجہ سے مد مقابل سیاسی جماعتوں پر اپنی جماعت کو حاوی سمجھتے ہیں۔ روف حسن کے مطابو عمران خان کو جیل میں بند کرنے سے ان کی شہرت کو کم نہیں کیا جاسکتا نہ ہی پارٹی کو توڑا جا سکتا ہے۔ دباؤ ڈال کر چند رہنماؤں کو علیحدہ کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔‘

دوسری جانب پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا: ’پارٹی کے قائد صرف عمران خان ہیں، وہی رہیں گے ان کی قیادت میں ہم سب مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔‘ شاہ محمود قریشی کے بقول: ’جو ٹکٹ واپس کرے گا وہاں سے وکلا کو ٹکٹ جاری ہوں گے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کو جتنی بھی شہرت حاصل ہو یا موجودہ مہنگائی کی وجہ سے حکمران جماعتوں کو جنتی بھی عوامی مخالفت کا سامنا ہو لیکن انتخاب کا میدان سجنے تک کسی کی کامیابی حتمی تسلیم نہیں کی جاسکتی۔البتہ پی ٹی آئی جن مشکلات سے دوچار ہے اگر ماضی کی مثالیں دیکھی جائیں تو ان کے مطابق اب پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ ’ماضی کو دیکھیں تو پاکستان میں کسی پارٹی قیادت کے جانے سے پارٹی کی شہرت کم نہیں کی جاسکی۔ بھٹو کو پھانسی دی گی، بے نظیر جلا وطن ہوئیں ان کا قتل ہوا لیکن پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکا۔‘انہوں نے کہا کہ اسی طرح نواز شریف کو بار بار جیل میں ڈالا گیا، جلا وطن کیا گیا مگر ان کی پارٹی کو بھی ختم نہیں کیا جاسکا۔ اب تحریک انصاف کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے عمران خان کو عدالت سے سزا ہوچکی نااہل ہوگئے جیل بھیج دیا گیا۔ اس سے ان کی پارٹی کو تو ختم نہیں کیا جاسکتا البتہ نو مئی کے جو واقعات پیش آئے ان لے بعد تحریک انصاف کو ماضی کی نسبت زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

سلمان غنی کا مزید کہنا تھا کہ ’بے شک سیاسی قوتوں کو طاقت کے ذریعے نہیں مٹایا جا سکتا لیکن عمران خان کی طرز سیاست نے انہیں زیادہ مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پہلے اسمبلی سے استعفے، پھر صوبائی حکومتوں کی تحلیل اس کے بعد فوجی تنصیبات پر حملے کسی صورت ان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان معاملات کا خمیازہ تو انہیں اور ان کی پارٹی کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ حالات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں تو تحریک انصاف کو کھلا میدان نہیں مل سکے گا۔‘سلمان غنی کے بقول: ’ہمارے ہاں سیاسی روایات ہی ایسی ہیں کہ کسی لیڈر کی زندگی میں اس کا متبادل اس کی پارٹی میں کوئی اور نہیں بن سکتا۔ جس طرح نواز شریف کا متبادل ہمیشہ مرکز شریف ہی رہے ہیں اسی طرح عمران خان کا متبادل بھی وہی رہیں گے چاہے جیل میں ہی بند کیوں نہ ہوں۔ البتہ پارٹی امور چلانے کے لیے عارضی طور پر کسی کو بھی ذمہ داری دے کر کام چلایا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مگر تحریک انصاف کو اس معاملے میں بھی الگ ہی مشکل کا سامنا ہے کہ عمران خان نے اپنے علاوہ کسی کو اتنا اختیار دیا ہی نہیں کہ کوئی ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کو متحد رکھ سکے اور معاملات چلا سکے۔’جس طرح نواز شریف کی غیر موجودگی میں شہباز شریف اور مریم نواز موجود تھے۔‘

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف کا مطلب صرف عمران خان ہے، ان کے جیل میں بند رہنے اور نااہل ہونے سے پارٹی چلانا مشکل ہوگا۔ جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں ہیں کہ عمران کی غیر موجودگی میں شاہ محمود قریشی یا کوئی اور پارٹی چلا سکتا ہے تو یہ دعویٰ غلط ہے۔ عمران خان جب نو مئی کو گرفتار ہوئے اس کے بعد جو ردعمل آیا انہیں یقین ہوگیا کہ انہیں گرفتار کرنا ممکن نہیں ہر بار ایسا ہی ردعمل آئے گا لیکن جب انہیں چند دن پہلے گرفتار کیا گیا تو کوئی ردعمل نہیں آیا۔ لہذا یہ کہنا کہ عمران خان کی پوزیشن ابھی بھی مضبوط ہے درست نہیں ہے۔‘

سینئر تجزیہ کار مرتضٰی سولنگی کے مطابق پی ٹی آئی اب مین سٹریم کی پارٹی نہیں رہے گی اور چھوٹا سا کلٹ بن کے رہے گی۔ عمران خان کے بعد آنے والے دنوں میں شاہ محمود قریشی کے خلاف بھی ایک بغاوت ہونے جا رہی ہے۔ عمران خان کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی جانب سے کسی قسم کا غیر معمولی ریلیف بھی ملتا دکھائی نہیں دے رہا، اب لگتا ہت کہ عمران

آرمی چیف کا جہلم فیلڈ رینج کا دورہ، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پر عزم

خان لمبا عرصہ جیل میں ہی رہیں گے۔

Back to top button