حکمران اتحاد عمران خان سے مذاکرات پر تقسیم کیوں؟

عمران خان کی الزام تراشیوں، یوٹرنز اور جارحانہ طرز سیاست کی وجہ سے حکمران اتحاد پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابات کے حوالے سے مذاکرات کرنے پر منقسم دکھائی دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے جبکہ مسلم لیگ ن اور جے یو آئی عمران خان سے مذاکرات کے حق میں نہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے لیے لچک دکھانے میں ایسے وقت میں گریز کیا جارہا ہے جب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اس بات پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں کہ وہ خود نہیں لیکن ان کی پارٹی کے لوگ حکومت کے ساتھ انتخابات اور تباہ حال معیشت سمیت دیگر اہم قومی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ متنازع مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا خیال پہلے ہی مسترد کیا جاچکا ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) خود اس معاملے پر منقسم نظرآتی ہے، پارٹی رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پرزور حمایت کر رہے ہیں جبکہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اس خیال کے مخالفت ہیں۔
دوسری طرف چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کی زیرصدارت پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی رہنما فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ ’اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، اس مقصد کے لیے پارٹی نے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے معاملے پر مشترکہ پوزیشن لینے کے لیے مخلوط حکومت میں شامل تمام جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔
پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے حالیہ عدالتی فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کی بہت سی وجوہات ہیں اور عدالت کے اقلیتی فیصلے کو اکثریتی فیصلے پر ترجیح دینا واحد وجہ نہیں ہے تاہم یہ پوزیشن قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر ناقابل قبول ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی رائے ہے کہ عدلیہ کی عزت اور وقار کو کسی طور پر مجروح نہیں ہونے دیا جانا چاہیے، اس لیے ضروری یہ ہے کہ معزز عدالت کے متعدد متضاد فیصلوں کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے۔پیپلزپارٹی کا یہ بھی ماننا ہے کہ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے لیے تمام اسمبلیوں کے انتخابات آئین میں دی گئی تاریخ کے مطابق ایک ہی دن منعقد کروائے جائیں، پیپلزپارٹی اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد میں آئین کی طے کردہ مدت سے زیادہ کسی صورت تاخیر کو برداشت نہیں کرے گی۔
قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے بات چیت ضروری ہے، حکومت کو عدلیہ اور پی ٹی آئی کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جاری لڑائی ختم کردینی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئین کی پاسداری کی جائے اور انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں، سیاسی قوتوں کو باہر سے فون کال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہمیں چاہیے کہ غیر ضروری لڑائیوں میں نہ پڑیں کیونکہ اداروں کے خلاف جنگ جیتی نہیں جاسکتی’۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 90 کے تحت حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تعمیل کی پابند ہے اور آرٹیکل 68 کے تحت پارلیمنٹ میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے فرائض کی انجام دہی پر بحث کرنے پر پابندی ہے۔
حال ہی میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گی، اس مؤقف کی وزیراعظم شہباز شریف بھی توثیق کر چکے ہیں۔
علاوہ ازیں رہنما جے یو آئی (ف) مولانا اسد محمود نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اعلان کیا کہ ’ہماری جماعت کبھی بھی عمران خان کے ساتھ ایک میز پر نہیں بیٹھے گی جو قوم کا مجرم ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم عمران خان کے ساتھ مذاکرات اور انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے نہیں بیٹھیں گے، وہ مجرم ہے اور اس پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے، یہ میری پارٹی کا مؤقف ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ججز پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ عمران خان نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور آج وہ ججوں کو ہی پیارے ہوگئے ہیں‘۔
قبل ازیں 3 اپریل کو حکمران اتحاد میں شامل 6 شراکت داروں نے سول سوسائٹی کی جانب سے ثالث کا کردار ادا کرنے والے کچھ نمائندگان کے ساتھ ملاقات کے بعد تمام ’سیاسی قوتوں‘ پر زور دیا تھا کہ وہ مل بیٹھ کر موجودہ سیاسی، معاشی اور عدالتی بحران کا پُرامن حل تلاش کریں۔ تاہم بعد ازاں نہ صرف مریم نواز نے عمران خان سے مذاکرات کو مسترد کیا تھا بلکہ شہباز شریف نے مذاکرات بارے کسی بھی پیش قدمی کو عمران خان کے استعفے سے مشروط کر دیا تھا۔
