عمران خان کو جلاوطن ہونے پر کون راضی کر سکتا ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے عمران خان کے قریبی ساتھیوں اور گھر میں ایجنسیوں کے کئی موثر اثاثے موجود ہیں ۔ اُن کے ذریعے عمران خان کو راضی جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اور پاکستان کی بھلائی کے لیے نواز شریف کی طرح دس پندرہ سال کیلئے جلا وطن ہو جائیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے مگر ناممکن نہیں ۔ اس سے پہلے نواز شریف کو منا کر جیل سے علاج کیلئے لندن بھیجا گیا تھا ۔ اگرا للہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی حکم آیا تو’’ عمران خان مان بھی جائیگا‘‘۔ سانپ مارنے کے چکر میں لاٹھی ٹوٹی تو ملک کا نقصان ہو گا ۔ عمران خان کیلئے ایسا فارمولا ایک بن مانگی نعمتِ ہے کیوں کہ ’’جان ہے تو جہان ہے‘ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ سانحہ 16 دسمبر 1971ء بیت چُکا ہے مگر وطنِ عزیز 1971ءجیسے حالات کی طرف دوبارہ گامزن ہے ۔ آج پاکستان جہاں کھڑا ہے اس کے وجود کے بارے میں خدشات ہیں اور ہر صاحبِ بصیرت پر کپکپاہٹ طاری ہے ۔ ملکی سلامتی اور افواجِ پاکستان لازم و ملزوم ہیں یہی قومی سلامتی کا ضامن ادارہ ہے ۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی تعمیر میں اک صورت خرابی کی ہے ، سانحہ جب تک رونما نہ ہو جائے ،یہاں ’’سب اچھا‘‘ کی آوازگونجتی رہتی ہے ۔ 2014 کا پروجیکٹ’’ سیاست نہیں ریاست بچاؤ ‘‘ ہو یا 2016 سے نواز شریف کو قومی سلامتی کیلئےخطرہ گرداننا، یہ اسٹیبلشمنٹ ہی کے تو کارنامے ہیں۔

قومی سلامتی کے نام پر نواز شریف سے حکومت چھینی گئی۔ عمران خان کو مسندِ اقتدار پر بٹھانے کی وجہ بھی اِسی قومی سلامتی کی ترویج و زیبائش تھی ۔ مگر ان کے وہم و گمان میں نہ ہوگا کہ عمران خان کا اقتدار قومی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا ۔ آج مملکت جس آگ میں جل رہی ہے ، پچھلے 18 مہینوں نے اس ضمن میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ۔ اسکی کُلی ذمہ داری نہ شہباز شریف پر اورنہ ہی عمران کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت پر ڈالی جا سکتی ہے ۔ سارے ادوار میں مجرم جنرل باجوہ اور ان کےچند حواری جو مملکت کو گمبھیر سیاسی عدم استحکام کی عمیق دلدل میں دھکیل گئے ۔ آج اگر عسکری قیادت شدومد سے ملکی نظم و نسق اور انتظام ایک بار پھراپنے ہاتھ میں لے چُکی ہے،تو اسکی وجہ موجودہ آرمی چیف کا ذاتی مفاد یا اپنی طاقت کے جوہر دِکھانا نہیں تھا ۔ جنرل عاصم منیر کے گلے میں یہ گھنٹی عمران نے شب و روز کی محنتِ شاقہ سے باندھی ہے ۔عمران خان کا دسمبر 2022 میں یہ عزمِ صمیم ہر ذی شعور کو دم بخود کرگیا کہ ’’میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی بطور چیف تعیناتی رُکوانے کیلئے راولپنڈی لانگ مارچ کروں گا ‘‘۔

حفیظ االله نیازی کے مطابق جنرل باجوہ کو اپنے مجرمانہ پروجیکٹ کیلئے ایک ایسا احمق اورغبی چاہیے تھا جو عوام الناس میں بھی قدرو منزلت رکھتا ہو ۔ بد قسمتی سے عمران کے کوائف باجوہ کی مجرمانہ سوچ کے عین مطابق تھے۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک سیاستدان ممکنہ آرمی چیف کا نوٹیفکیشن رُکوانے کیلئے لانگ مارچ کر رہا تھایا ڈاکٹر علوی کیساتھ ملکر نوٹیفکیشن سے کھیلنا تھا ۔ 29 نومبر کے بعد عمران خان نے جنرل عاصم منیر کو دیوار کیساتھ لگانےکیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، 9 مئی کا واقعہ ملکی سالمیت کی چولیں ہلا گیا ۔اس بحث میں جائے بغیر کہ تحریک انصاف خود کتنی ملوث تھی اور کس قدر’’ بھائی لوگوں‘‘کے زیرِ استعمال رہی۔ عمران خان نے بے حواس سیاست کرتے رہے ان کے بقول ’’جمہوری حکومت گرانیوالا ، سازش کرنیوالا ، غداری کرنیوالا ، تمام بیماریوں کا سبب جنرل باجوہ ہی تھا مگر وہ جلسے ، جلوس ، دونوں لانگ مارچ ، اسمبلیوں کی تحلیل ، جیل بھرو تحریک ، سب کچھ اُسی کی ایما پر ہوا ، پھر ، صدر ہاؤس میں ملاقاتیں ، مدتِ ملازمت میں غیر معینہ توسیع کی پیش کش ، ایسی دو عملی کا متحمل عمران خان ہی ہو سکتا ہے۔

9 مئی کو فوجی تنصیبات اور علامات پر جتھوں کی چڑھائی کا ذمہ دار عمران خان ہی ہے کیوں کہ اس نے ہی سارا سال یہ بیانیہ کو پروان چڑھایا۔ حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کیلئے چوائس چھوڑی کیا ہے؟ جب عمران خان کا بیانیہ ہی یہ رہا کہ’’میں نہیں یا فوج نہیں‘‘تو کیسے توقع رکھیں کہ سانحہ 9 مئی کے بعد جنرل عاصم منیر اپنے آ پ کو اور فوج کو بچانے کیلئے ہر حد نہیں ٹاپیں گے ۔ لمحہ فکریہ مگر یہ ہے کہ اس دھینگا مشتی میں مملکت ہلکان ہونے کو ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی مشکلات ہیں ، اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رائے عامہ ہے ، جس کو نظر انداز کرنا عاقبت نااندیشی ہو گی ۔ ماضی میں اسکا خمیازہ بھگت چُکے ہیں ۔ پچھلے 18 ماہ عمران خان سے نبٹنے کے جتنے طریقے بروئےکار لائے گئے عمران خان کو اُسکا فائدہ پہنچا ۔ ۔ خدشہ ہے کہ ملک تباہی کے گڑھے میں گرنے کو ہے۔ ۔ اس سے پہلے کہ چڑیاں سب کچھ چُگ جائیں ، کھلیان کی فکر

رجنی کانت کیلئے 100 کروڑ روپے اور مہنگی گاڑی کا تحفہ

آج ہی کرنا ہو گی وگرنہ کچھ نہیں بچے گا۔

Back to top button