بزدار کپتان اور پنکی پیرنی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار

عمران خان کے وسیم اکرم پلس اور پنجاب میں تحریک انصاف کی پہلی حکومت کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کرپشن کی داستانوں اور نیب میں گرفتاری کے خوف سے مسلسل روپوش ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور جلد وہ بھی عمران خان کیخلاف وعدہ معاف گواہ کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔  تاہم اس کے ساتھ اپنے کرتوتوں کی وجہ ست بزدار کو اپنی گرفتاری کا ڈر بھی ہے۔ نیب کی جانب سے گرفتاری کے خدشات کے پیش نظر عثمان بزدار نے گرفتاری کے ڈر سے آبائی علاقہ چھوڑ دیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت انتہائی ضرورت محسوس ہوئی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا یا پھر ممکنہ طور پر وہ خود ہی منظر عام پر آجائیں گے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے اب تک سردار عثمان بزدار کو نیب میں 17 بار طلب کیا جا چکا ہے لیکن وہ نیب کے سامنے مسلسل پیش ہونے سے گریزاں ہیں۔ بزدار کو اس وقت آمدنی سے زائد اثاثہ جات، من پسند افراد کو ٹھیکہ جات دینے ، میرٹ نظر انداز کرنے ، بیرون ملک گندم بھجوانے اور مبینہ طور پر تقر ر وتبادلوں میں رشوت خوری جیسے الزامات کا سامنا ہے لیکن وہ ان کی وضاحت کے لئے نیب میں پیش نہیں ہور ہے اور نہ ہی ریکارڈ فراہم کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عثمان بزدار کے بارے میں پہلے روز سے ہی یہ اطلاعات آنا شروع ہوگئی تھیں کہ ان کے دور میں تقر ر وتبادلوں میں ماہانہ بنیاد پر اور روزانہ کی بنیاد پر کمیشن لی جاتی ہے تاہم اس وقت کے وزیر اعظم عمران کان خود ان کی وکالت کرتے تھے۔

اور زیادہ تر اوقات میں عمران خان خود تقر ر وتبادلوں کے زبانی احکامات دیا کرتے تھے۔لیکن اس کے بارے میں پبلک میں یہ داستانیں فرح گوگی کا کردار میڈیا کے ذریعے سامنے آنے پر ہوا اور یہ بات زبان زدعام ہوئی کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی طنابیں درحقیقت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اوران کی دوست فرح گوگی کے ہاتھوں میں تھیں۔خیال رہے کہ فرح گوگی کو پنکی پیرنی کی فرنٹ پرسن بھی قرار دیا جاتا ہے۔

عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ سے علیحدگی کے بعد جب مقدمات کی تفتیش شروع ہوئی تو ان داستانوں پر بھی بحث شروع ہوئی جو اس وقت سیاسی حلقوں میں زبان زد عام تھیں۔ تاہم 9 مئی کے بعد عثمان بزدار کا کردار اچانک پراسرار ہو گیا اور نیب میں ضمانت کے بعد سے وہ روپوش ہو گئے۔ اسی دوران بزدار اچانک پنجاب کے بجائے کوئٹہ پریس کلب میں نمودار ہوئے اور 9 مئی کے واقعات میں اپنی پوزیشن واضح کی اور ساتھ ہی ان واقعات کو فاشزم بھی قراردیا اور اس کے علاوہ انھوں نےپی ٹی آئی سے راستے جدا کئے اورعارضی طور پر سیاسی عمل سے باہر رہنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے بعد وہ مسلسل روپوش رہے ہیں اور ابھی بھی روپوش ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے قریبی ذرائع بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات دینے سے قاصر ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے ان کے بارے میں انہی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب حکومت کی دسترس سے باہر صوبہ بلوچستان میں ہیں، تاہم اب یہی اطلاعات فراہم کرنے والے عثمان بزدار کے ٹھکانے بارے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ عثمان بزدارکا نام پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کی فہرست میں بھی شامل تھا جن کے خلاف جماعت کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا ایکشن لیا گیا تھا، لیکن اب پی ٹی آئی کے بچھے کھچے رہنما بتاتے ہیں کہ سردار عثمان بزدار پی ٹی آئی کے لئے بھی پراسرار ہیں۔ ان کے بارے میں جو انضباطی کارروائی کی خبریں آئی تھیں وہ اپنی جگہ پر درست تھیں لیکن خود ان کی طرف سے وضاحت نہیں آئی کہ وہ پی ٹی آئی کا حصہ ہیں یا نہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بزدار کسی موقع کی تلاش میں ہیں، جس روز انہیں موقع ملے گا وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے ان کی کسی کے ساتھ کوئی کمٹمنٹ نہیں۔ وہ اپنے والد کی طرح مفاد کے تحت سیاسی وفاداری بدلنے کی سیاست والی سوچ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کو عمران خان خود پارٹی میں نہیں لائے تھے لیکن انھیں وزیر اعلیٰ خود عمران خان نے ہی بنایا تھا، جس کی وجو ہات کا کسی کو کچھ علم نہیں۔ گمان ہے کہ جو انہیں پارٹی میں لائے تھے وہی ان کو سامنے بھی لائیں گے۔ عثمان بزدار کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے سیاسی حلیف گروپ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں رکھتے۔ البتہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی چیئر مین کیخلاف کسی وقت زبان کھول سکتے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کا مجموعی رو پہ عثمان بزدار ے کے بارے میں نرم دکھائی دیتا ہے اور لگتا ہے کہ نیب شاید اپنے ملزم کو گرفتار نہیں کرنا چاہتی ورنہ جدیددور میں بزدار کی گرفتاری کوئی خاص معنی نہیں رکھتی ۔  ذرائع کے مطابق ماضی میں نیب نے کسی ملزم کے ساتھ ایسا نرم رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی نیب حکام اس ضمن میں کسی سے بات کرتے ہیں۔ ان کی گرفتاری اور روپوشی کے حوالے سے مجموعی صورتحال ایک مخمصہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن نیب کے تفتیش کا ر اس ضمن میں صرف یہی موقف اختیار کرتے ہیں کہ ملزم رو پوش ہے اور پتا نہیں چل رہا کہ وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں عثمان بزدارجہاں بھی ہیں کسی محفوظ پناہ گاہ میں ہیں۔ دریں اثنا سابق وزیر اعلیٰ کے آبائی علاقے بارتھی سے بھی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایک عرصے سے بزدار کو یہاں نہیں دیکھا گیا۔ اس کی تائید ضلع ڈی جی خان کے انٹیلی جنس ذرائع نے بھی ایک سے زائد بار کی ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ پنجاب سے باہر بلوچستان کی حدود میں ہو سکتے ہیں یا پھر آبائی علاقے کے بالائی مقامات پر پہاڑوں میں بھی ہو سکتے ہیں، بزدار گرفتاری سے شدید خوفزدہ ہیں اسی لئے

پیٹرول کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ

روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

Back to top button