کیا واقعی ججوں اور جرنیلوں کو مفت بجلی نہیں ملتی؟

وزیراعظم انوارالحق کا یہ بیان حقائق پر مبنی نہیں کہ صرف واپڈا کے موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین کو بجلی ملتی ہے اور ججوں اور جرنیلوں سمیت کسی اور کیلئے ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔ سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں کیونکہ نہ صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے حاضر سروس ججوں کے یوٹیلیٹی بل بشمول بجلی کے بل حکومت ادا کرتی ہے بلکہ سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ججوں کو بھی بجلی کے دو ہزار یونٹس مفت ملتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے سابق ججوں کو ماہانہ 800؍ یونٹ بجلی مفت ملتی ہے۔صرف یہی نہیں، موجودہ صدر اور وزیراعظم بغیر کسی حد کے مفت بجلی استعمال کرتے ہیں جبکہ ریٹائرڈ صدر کو دو ہزار یونٹ ماہانہ مفت ملتے ہیں اور یہ سب رقم ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کی جاتی ہے۔ چیئرمین نیب کو بھی سپریم کورٹ کے جج جیسی سہولتیں حاصل ہیں جن میں مفت بجلی شامل ہے۔
انصار عباسی کے مطابق وزیر اعظم نے سروسز چیفس کے بارے میں جو دعویٰ کیا ہے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ دوسری جانب صدر مملکت کی تنخواہ، الاؤنس اور استحقاق ایکٹ، 1975 کے سیکشن 7 میں لکھا ہے کہ صدر مملکت کو بجلی اور گیس کی کھپت کے اصل چارجز ہر سال ادا کیے جائیں گے۔ صدر کے پنشن ایکٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں بجلی کے دو ہزار یونٹس جبکہ گیس اور پانی کی مد میں دس ایچ ایم تھری ملے گی۔
اکتوبر 2020 میں جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ نے انکم ٹیکس اور اثاثوں کی تفصیلات جاری کی تھیں جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج کے ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد میں 2000 یونٹ بجلی، 25 ایچ ایم گیس، پانی اور 300 لیٹر پٹرول ماہانہ شامل ہے جبکہ ہائی کورٹ کے ججز کے رخصت، پنشن، مراعات آرڈر 1997 میں نہ صرف حکومت کی طرف سے بجلی گیس اور پانی کی فراہمی کیلئے ادائیگی کا ذکر ہے بلکہ سیکشن 28 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ججز کو ریٹائرمنٹ اور ان کے انتقال کے بعد ان کے شریک حیات کو مخصوص مراعات حاصل ہوں گی، جس میں ماہانہ 800 یونٹ بجلی کے ساتھ ساتھ ماہانہ 25 ایچ ایم تھری گیس شامل ہیں۔ وہ تمام نیم عدالتی عوامی دفاتر یعنی جوڈیشل پبلک آفس بشمول نیب چیئرمین، وفاقی محتسب وغیرہ کے عہدے جہاں ریٹائرڈ ججز، سابق جنرلز یا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین تعینات ہوتے ہیں، ان کے رہائش کے یوٹیلیٹی بلز بھی سرکاری خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔
نیب کی ایک دستاویز کے مطابق، چیئرمین نیب جب تک عہدے پر رہیں گے سرکاری گھر میں رہیں گے اور ان سے کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا، اس گھر کی مینٹیننس سرکاری اخراجات پر ہوگی اور تمام تر یوٹیلی بلز حکومت ادا کرے گی جبکہ سرکاری رہائش کی عدم دستیابی کی صورت میں یا چیئرمین کسی نجی گھر میں رہائش اختیار کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو ایسی صورت میں گھر کا کرایہ، الاؤنس کے علاوہ دیکھ بھال اور تمام سہولیات کے اخراجات حکومت ادا کرے گی۔
خیال رہے کہ وزارتِ توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے مفت یونٹس کا استعمال کرنے والوں میں موجودہ اور سابق صدور، وزرائے اعظم، جج، اعلیٰ سول اور فوجی افسران، گورنر اور ڈپٹی گورنرز اسٹیٹ بینک، چیئرمین نیب، واپڈا کے اہلکار اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ملازمین شامل ہیں۔ملک کے صدر کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ کو بجلی کے دو ہزار یونٹس استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کو دو ہزار اور ہائی کورٹ کے ججوں کو ایک ہزار یونٹ بجلی مفت استعمال کرنے کی قانون اجازت دیتا ہے تاہم وفاقی وزرا کومفت بجلی نہیں ملتی بلکہ بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے مخصوص رقم بطور الاؤنس دی جاتی ہے۔
ایک اور سرکاری رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین سالانہ نو ارب روپے مالیت کے 34 کروڑ بجلی کے یونٹس مفت استعمال کرتے ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق گریڈ 17 سے 21 کے 15 ہزار سے ملازمین ماہانہ 70 لاکھ یونٹس مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین 33 کروڑ یونٹ ماہانہ مفت بجلی استعمال کررہے ہیں جس کی مجموعی مالیت نو ارب روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔۔
دوسری جانب سخت عوامی دبائو کے بعد لیسکو سمیت پاور سیکٹر کے تمام افسروں کی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارت پاور ڈویژن نے مفت بجلی دینے کی بجائے ماہانہ 9 ہزار سے 38 ہزار روپے ادائیگی کرنے کی سمری تیار کر لی ہے تاہم ‘مفت سپلائی کے خاتمے یا
لندن میں نواز شریف سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی ملاقات
الاؤنس میں تبدیلی کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
