اتحادی حکومت کا قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے سے صاف انکار

اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکامی کا شکارہوتے دکھائی دیتے ہیں ایک طرف تحریک انصاف 14 مئی سے پہلے قومی اسمبلی کی تحلیل کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آتی دوسری طرف خواجہ آصف اور میاں جاوید لطیف جیسے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما نہ صرف مذاکرات کی کھلے عام مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کھ ساتھ مذاکراتی عمل کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔ تاہم حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت کے حوالے سے کسی دباؤ میں نہ آنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اتحادی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ قومی اسمبلی کو مدت مکمل ہونے سے قبل قطعا تحلیل نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے دو ٹوک فیصلے کے بعد حکومت کے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ کے 2 سینئر اراکین کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کی مخالفت کے بعد شاہ محمود قریشی نے حکومتی اتحاد سے ’واضح جواب‘ کا مطالبہ کر دیاساتھ ہی انہوں نے مذاکراتی عمل کے ’لاحاصل‘ رہنے کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی جبکہ عمران خان نے بھی واضح کیا ہے کہ حکومت اگر 14 مئی تک قومی اسمبلی نہیں توڑتی تو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انھوں نے یکم مئی کو اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہوں تو 14 مئی سے قبل اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ اگر ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو ہم سپریم کورٹ کو کہیں گے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے احکامات دیے جائیں اور ایسی صورت میں اگر حکومت کی جانب سے آئین شکنی کی گئی تو میں قوم کو لے کر سڑکوں پر آ جاؤں گا اور حقیقی آزادی کی تحریک چلائیں گے۔
خیال رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا حتمی مرحلہ جو ممکنہ طور پر آخری بھی ہوسکتا ہے دو مئی کے روز رات 9 بجے شروع ہونا ہے جبکہ حکومت پہلے عمران خان کے 14 مئی تک اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبے کو ’ناقابل عمل‘ قرار دے چکی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی اب تک کوئی لچک نہیں دکھائی گئی۔مذاکراتی عمل میں سہولت کاری فراہم کرنے والے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بات چیت جو صبح 11 بجے شروع ہونا تھی اب رات 9 بجے ہوگی۔
آج حکومتی اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کا حتمی راؤنڈ کے نتیجے کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس مرحلے کے آغاز سے پہلے دونوں جماعتوں کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات اس کے انجام کی طرف کچھ اشارے کر رہے ہیں۔
ایک طرف عمران خان 14 مئی سے قبل قومی اسمبلی کی تحلیل پر بضد ہیں دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے دو سینیئر وزرا نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔وزیر دفاع اور نواز شریف کے قریبی ساتھی خواجہ محمد آصف کے مطابق ’عمران خان سے بات چیت بے سود ہے۔‘قبل ازیں انہوں نے سیالکوٹ میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان جلد جلسے جلوس شروع کریں تا کہ حکومت کی مذاکرات سے جان چھوٹ جائے۔‘
ایک اور اہم وزیر اور مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خرم دستگیر خان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’عمران خان جو مرضی کہتے رہیں بجٹ ہم ہی پیش کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’جوسیاسی قیمت ادا کرنی تھی کر دی، اب بہتری کا وقت ہے، کسی دباؤ کے تحت حکومتیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔‘
تو کیا آج ہونے والا مذاکرات کا آخری راؤنڈ ناکامی پر ختم ہو گا اور یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں جائے گا؟یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب دونوں متحارب سیاسی فریقین کے اقدامات میں پنہاں ہے۔
جب پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکم پر مذاکرات کے لیے حامی بھری تو یہ اس کے سربراہ عمران خان کے پے درپے بیانات کہ وہ چوروں ڈاکوؤں کے ساتھ بات چیت کے لیے نہیں بیٹھیں گے، سے کنارہ کشی تھی۔اس کے بعد مذاکرات کے لیے بنائی گئی پی ٹی آئی کی ٹیم کے اراکین کے مثبت بیانات بھی ایک مثال تھے کیونکہ اس جماعت کی طرف سے ماضی میں کبھی اتنا مصالحانہ رویہ نہیں رکھا گیا۔
پھر مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے بعد، پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر پولیس چھاپے کے بعد جس طرح حکومتی کمیٹی کے سینیئر رکن اسحاق ڈار نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا وہ بھی ایک خوش آئند امر تھا جس سے لگ رہا تھا کہ حکومت مذاکرات کو کامیاب بنانے کی خواہاں ہےلیکن اس کے فوراً بعد خواجہ آصف اور دوسرے نون لیگی رہنماؤں کے منفی بیانات اور عمران خان کا دو ٹوک رویہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ شاید یہ عمل کامیاب نہ ہو سکے۔
اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی کی ایک رکن کشور زہرہ نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے عناصر دونوں اطراف موجود ہیں۔‘کشور زہرہ نے بھی مذاکرات کے انجام کے متعلق غیر یقینی کا اظہار کیا تھا۔
کچھ ایسے ہی تاثرات تجزیہ کار اجمل جامی کے بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’کسی بھی قسم کے سیاسی مذاکرات کے لیے آغاز اعتماد سازی کے اقدامات سے ہوتا ہے۔ ان مزاکرات سے پہلے اور دوران جو کچھ ہوا ہے وہ اعتماد سازی نہیں بلکہ ناکامی کا پیغام ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے جارحانہ اقدامات پر پی ٹی آئی اشتعال انگیزی کے بجائے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ عوام کو بتا سکیں کہ انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور مذاکرات سے وہ نہیں بلکہ حکومت بھاگی۔‘اجمل جامی کا کہنا تھا کہ تنازع 70 فیصد تک حل ہو چکا ہے کیونکہ دونوں فریقین انتخابات کے ایک روز انعقاد پر متفق ہو چکے ہیں اور اب مسئلہ صرف بجٹ سے پہلے یا بعد میں انعقاد کروانے کا ہے جس پر دونوں اطراف متفق ہوتی نظر نہیں آتیں۔’اس مسئلے پر مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور اگر یہ ناکام ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سیاستدانوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔‘
اجمل جامی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دو سوالوں کے جواب پر ہوتا ہے۔’ایک یہ کہ اعتماد سازی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور دوسرا کہ ریاستی ادارے کہاں کھڑے ہیں۔ حالیہ مذاکرات کے تناظر میں دونوں سوالوں کے جواب نفی میں ہیں۔‘
تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے سے پی ٹی آئی کا نقصان ہوگا، مذاکرات کی ناکامی الیکشن کو اکتوبر سے بھی آگے لے جائے گی،ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں چاہتی تین رکنی بنچ جبراً حکومت سے مذاکرات کروارہا ہے، مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صرف پی ٹی آئی کا نقصان ہوگا۔
