عمران خان، مریم سمیت اہم شخصیات کے ٹوئیٹر فالوورز کم کیوں ہوگئے؟

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن سمیت اہم شخصیات کے ٹوئیٹر فالورز کی تعداد میں اچانک کمی نے صارفین کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔
یہ رجحان نہ صرف عام صارفین کے اکاؤنٹس میں دیکھا گیا بلکہ معروف شخصیات کے لاکھوں فالوورز والے اکاؤنٹ بھی اس سے نہ بچ سکے اور ہر کسی نے ٹوئٹر پر اپنے ’پیروکاروں‘ میں کٹوتی کا سامنا کیا۔
پاکستان میں ٹوئٹر پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے افراد میں سابق وزیر اعظم عمران خان، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز اور سابق کرکٹ کپتان وسیم اکرم ان صارفین میں شامل ہیں جن کے فالوورز میں جمعے کو معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق تجزیاتی کمپنی ’سوشل بلیڈ‘ کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ جمعے کے روز ٹوئٹر صارفین کے فالوورز میں یقینی طور پر کچھ نہ کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
اس حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا سوشل بلیڈ پر جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ ایک کروڑ 19 لاکھ سے زائد فالورز رکھنے والے عمران خان کے فالوورز میں جمعے کی شام 11 ہزار آٹھ سو سے زائد فالوورز کی کمی دیکھنے میں آئی۔
موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، جن کے ٹوئٹر پر 66 لاکھ فالوورز ہیں، نے جمعے اور سنیچر کو آٹھ ہزار سے زیادہ فالوورز کھو دیے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز جن کے فالوورز 80 لاکھ سے زیادہ ہیں، جمعے کی شام ان کے 14 ہزار چھ سو کے قریب فالوورز مٹ گئے۔
وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے فالوورز جمعے کو 3534 فالوورز کم ہوئے تو ہفتے کی صبح تک مزید 2900 سے زیادہ مزید کم ہوگئے۔کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم کے بھی تین ہزار آٹھ سوسے زیادہ فالوورز کی تعداد محض ایک ہی روز میں کم ہوئی۔تین ملین فالوورز رکھنے والی پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کے فالوورز بھی ڈھائی ہزار کے قریب کی کمی آئی۔
فالوورزمیں کمی کا شکوہ سب سے زیادہ صحافیوں اور اینکرز کی جانب سے کیا گیا۔ٹی وی اینکر پارس جہانزیب نے لکھا کہ ’اب تک چار، پانچ ہزار فالوورز کم ہو گئے ہیں۔ کوئی رہنمائی کرے گا پلیز کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔
بہت سے صارفین نے ہزاروں کی تعداد میں فالوورز میں کمی کا شکوہ کیا تو کئی ایسے بھی تھے جو انگلی پر گن لیے جانے والے فالوررز کے اُڑ جانے بھی اپنا غم بانٹنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔
نوشین یوسف نامی صحافی نے لکھا ’تقریبا دو ہزار فالوورز ساتھ چھوڑ گئے ۔ پہلے بلیو ٹک گیا اور اب یہ۔کئی ایسے صارفین جن کے فالوورز کی تعداد پہلے ہی گویا آٹے میں نمک کے برابر تھی، انھیں اپنے گنتی کے فالوورز کی کمی بھی خوب محسوس ہوئی۔
نجیب نامی صارف نے لکھا میرے بھی دو اڑ گئے، پہلے ہی صرف ایک سو چالیس تھے۔بعض صارفین نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے لکھا کہ ہم تھوڑے فالوورز والوں کو پرواہ ہی نہیں دس پانچ کم بھی ہو گئے تو کیا۔‘
یکم دسمبر2022 میں ایلون مسک نے اپنی ایک ٹویٹ میں سپیم اکاؤنٹس کی چھانٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس عمل سے صارفین اپنے فالوورز کی تعداد میں کمی دیکھ سکتے ہیں۔
ٹوئٹر پر فالوورز کم ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے ہم نے ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کے کنٹری ڈائریکٹر شہزاد احمد سے بات کی۔ انھوں نے اس کی وجہ بوٹس (یا فیک اکاؤنٹ) اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کو قرار دیا ہے۔
شہزاد احمد کے مطابق ’بہت سارے گھوسٹ اکاؤنٹ ہوتے ہیں جن کو ایس سی او کمپنیاں استعمال کرتی ہیں، یہ بتانے اور دکھانے کے لیے کہ ان کی کمپنی کے فالوورز کتنے زیادہ ہیں۔شہزاد کے مطابق مطابق ’الگورتھم میں تبدیلیاں اور گھوسٹ اکاؤنٹ کا خاتمہ فالوورز کی بڑی تعداد میں کمی کی اصل وجوہات ہیں۔ جبکہ بلیو ٹک کے خاتمے نے بھی فالوونگ کم کرنے میں ایک کردار ادا کیا ہے۔
اپریل کے اوائل میں ایلون مسک نے بی بی سی کے ساتھ ایک براہ راست انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ٹوئٹر چلانا ’کافی تکلیف دہ‘ رہا ہے۔ارب پتی کاروباری نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی صحیح شخص نظر آیا تو وہ اُسے ٹوئٹر کمپنی فروخت کر دیں گے۔
مسک نے، جو کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور راکٹ فرم ’سپیس ایکس‘ (SpaceX) بھی چلاتے ہیں، گذشتہ سال اکتوبر میں ٹویٹر کو 44 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔بی بی سی کو انٹریو کے دوران انھوں نے کمپنی کو چلانے کے لیے اپنی پالیسیوں کا بھی دفاع کیا۔
