پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، عوام چیخ اٹھے

نگراں حکومت نے آتے ہی یوم آزادی کے ایک دن بعد عوام کو مہنگائی کا بڑا تحفہ دے دیا۔ ابھی نگران حکومت کو آئے محض 2 ہی دن گزرے ہیں اور اس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے تک کے اضافے کا اعلان کر عوام کی زندگی مزید عذاب میں مبتلا کر دی ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد مہنگائی میں بھی مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔وزارتِ خزانہ نے پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں 17 روپے 50 پیسے اضافہ کیا ہے جس کے بعد ایک لٹر پیٹرول کی نئی قیمت 290 روپے 45 پیسے ہو گئی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل, قیمت میں 20 روپے اضافے کے بعد 293 روپے 40 پیسے فی لٹرپر دستیاب ہے۔

خیال رہے کہ وزارتِ خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ کے عہدہ سنبھالنے کے ایک روز بعد کیا ہے۔اس سے قبل سابق حکومت نے یکم اگست کو پیٹرول کی قیمت میں 19 روپے 95 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا تھا۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور کھانے پینے کی اشیا میں اضافہ متوقع ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے پر عوام سراپا احتجاج ہیں اور سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جہاں صارفین مزید مشکل معاشی حالات کا نہ صرف خدشہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ انہیں فکر ہے کہ مہنگائی کی صورت میں ان کی گزر بسر کیسے ہو گی۔

عادل جیلانی نامی ایکس صارف کہتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ پہلے سے مشکل صورتِ حال کا سامنے کرنے والے لاکھوں غریبوں اور متوسط طبقے پر بم گرانے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کی موجودہ شرح 40 فی صد کی نئی بلندی پر پہنچ جائے گی۔

حماد رفیق نامی صارف لکھتے ہیں کہ نگراں حکومت کا عوام کو پہلا تحفہ۔ پیٹرول 17 روپے 50 پیسے اور ڈیزل 20 روپے مزید مہنگا کر دیا گیا۔

وسیم ملک نامی صارف نے وزارتِ خزانہ کے نوٹی فکیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہمارا کوئی وزیرِ خزانہ نہیں تو اس سمری پر دستخط کس نے کیے ہیں؟

ذیشان نامی صارف نے لکھا ک تشویش مڈل کلاس کے لئے ہے جسے اس بری طرح کچلا جا رہا ہے اور وہ جبری طور پر فاقہ کشی کی حالت میں ہے۔

ایک صارف نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا ٹی وی اسکرین شارٹ شیئر کرتے ہوئے اس پر تبصرہ کیا کہ ” کس کا شکریہ ادا کریں یہ تو بتا دو۔”

ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان میں اکثریت کی زندگی مزید مشکل ہونے جا رہی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آخری نہیں کیونکہ ڈالر بھی کنٹرول سے باہر ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ایک اور دن اور قیمتوں میں ایک اور اضافہ۔ لگتا ہے کہ یہ عمران خان کی حمایت کرنے کا عوام سے بدلہ لے رہے ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر جہاں صارفین خدشات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اس حوالے سے کئی میمز بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

دانش قمر نے ایک میم شیئر کی جس میں لکھا تھا "سبجیکٹ کو جتنی مرضی تکلیف دے دو، کبھی ری ایکٹ نہیں کرتا۔”

ایک صارف نے میم شیئر کی اور اس پر تبصرہ کیا کہ چلیں اب پیٹرول فری کار پر منتقل ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ 15 دنوں میں ہی یہ قیمتوں میں دوسرا بڑا اضافہ ہے کیونکہ یکم اگست کو ہی اتحادی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ پیٹرول کی قیمت میں 19 روپے 95 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 272 روپے 95 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 273 روپے 40 پیسے تک پہنچ گئی تھی۔اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ آئی ایم ایف معاہدہ اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافہ بتایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں

سونف کھانا پسند کرتے ہیں؟ توفوائد بھی جان لیں

ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

Back to top button