بھارت، کینیڈا تنازع میں اکشے کمار کا ذکر کیوں ہونے لگا؟

خالصتان تحریک کے اہم رہنما کی کینیڈا میں ہلاکت پر بھارت اور کینیڈا کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں، کینیڈا نے بھارتی سفارتکار کو ’’را‘‘ کا سٹیشن چیف ظاہر کرتے ہوئے ملک بدر کر دیا ہے جبکہ بھارت نے بھی کینیڈین سفارتکار کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے، لیکن اس سارے تنازع میں بالی ووڈ سٹار اکشے کمار بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔خیال رہے پیر کو کینیڈین پارلیمنٹ میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کینیڈین سیکیورٹی ایجنسیاں انڈین حکومت کے ایجنٹوں اور ایک کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے درمیان ممکنہ تعلق کے قابلِ اعتبارالزامات کی تحقیقات کر رہی ہیں، کینیڈا نے انڈین حکومت سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا، کینیڈا کی سرزمین پر کینیڈین شہری کے قتل میں غیر ملکی حکومت کا ملوث ہونا ہماری خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے۔اس معاملے پر امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور تحقیقات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ایک طرف کینیڈا اور انڈیا کے درمیان سفارتی محاذ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گرم ہو رہا ہے وہیں سوشل میڈیا صارفین طنز و مزاح کا استعمال کرتے ہوئے اس معاملے میں بالی وُڈ اداکار اکشے کمار کو کھینچ لائے ہیں۔تین دہائیوں سے زائد بالی وڈ میں کام کرنے والے اکشے کمار کو رواں سال 15 اگست کو انڈین شہریت ملی، اس سے قبل اُن کے پاس کینیڈا کی شہریت تھی جو اب وہ ترک کر چکے ہیں، اس سے قبل اُن پر کینیڈا کی شہریت رکھنے پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’کینیڈا نے انڈیا پر ہردیپ سنگھ کے قتل کا الزام لگا کر احمقانہ غلطی کی، وہ اس پر بالی وُڈ فلم بننے کا انتظار کرسکتے تھے جس میں یہ اعتراف ہوتا کہ یہ اکشے کمار نے کیا ہے۔ نرُندر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اکشے کمار نے وقت پر صحیح فیصلہ کیا اور انڈین بن گئے۔ ورنہ مودی جی نے کینیڈا کو آنکھیں دکھانے کے لیے کینیڈین اداکاروں پر پابندی عائد کردینی تھی، انکِت مدھوانی نے بھی طنز و مزاح کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ’اکشے کمار خوش قسمت رہے کہ انہوں نے درست وقت پر اپنی شہریت تبدیل کرلی۔واضح رہے انڈیا میں سکھوں کی خالصتان تحریک کی حامی شاخ سے منسلک رہنے والے عہدیدار ہردیپ سنگھ نجار کو رواں سال 18 جون میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ گوردوارے کے اندر موجود تھے، ہردیپ سنگھ خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ رہے تھے۔ہردیپ سنگھ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو کم از کم چار کیسز میں مطلوب تھے، ان پر شدت پسندی اور ہندو پنڈت کے قتل کے لیے سازش کرنے کے علاوہ علیحدگی پسند سکھس فار جسٹس (ایس ایف
اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی فوری وطن واپسی روک دی؟
جے) تحریک چلانے اور دہشت گردی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے الزامات تھے۔
