کاکروچ پارٹی احتجاج: نئی دہلی میں کریک ڈاؤن، سینکڑوں مظاہرین گرفتار

 

 

 

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی اصلاحات کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کو روکنے کےلیے سخت سکیورٹی اقدامات کیےگئے ہیں، جس کے باعث 250  سے زائد ٹرینیں منسوخ، دہلی میٹرو کے 57  سٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے بند اور سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نئی دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج سے قبل پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے، جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں نقل و حرکت محدود کرنے کےلیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

بھارتی حکومت نے احتجاج روکنے کےلیے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت ڈِپکے، پارٹی رہنماؤں سوروو داس اور آشوتوش سمیت سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کا نام بھی شامل ہے۔

ریلوے بورڈ کے فیصلے کے تحت9  اکتوبر کو دوپہر2  بجے کے بعد اپنے ابتدائی سٹیشنوں سے روانہ ہونے والی مسافر ٹرینیں منسوخ کردی گئیں، جب کہ 10  اکتوبر کو صبح 4  بجے سے دوپہر 2  بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین ریلوے سٹیشن پہنچنے والی ٹرینیں بھی منسوخ رہیں گی۔

دوسری جانب دہلی میٹرو کے 57  سٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے ہیں، جب کہ احتجاج کے مرکزی مقام جنتر منتر کی جانب جانے والی سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد نئی دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی، جب کہ 20  ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

 

خیال رہے کہ مظاہرین انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم بھارتی الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ گیانیش کمار نے اپنے استعفے کے مطالبے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر احتجاج کے باعث بڑی تعداد میں ٹرینوں کی منسوخی پر ہزاروں مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ریلوے کے سابق عہدیداروں، مسافروں کی تنظیموں اور ملازمین کی یونینوں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

 

Back to top button