ایمرجنسی اور گورنر راج کے 14 روز گزر گئے، حکومت نے آئندہ کا لائحہ عمل نہیں دیا: شوکت یوسفزئی
پی ٹی آئی رہنما کا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی گنجائش دینے کا مطالبہ، بصورتِ دیگر دوبارہ پُرامن احتجاج شروع کرنے کا عندیہ

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوئے 14 دن گزر چکے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح وژن پیش نہیں کیا گیا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ حکومتی پالیسیوں کی خرابی اور نااہلی کے باعث ملک بند گلی میں پھنس چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور ملک کا نظام قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے مناسب گنجائش ملنی چاہیے، جبکہ پارٹی اس وقت مزاحمتی اور مفاہمتی سیاست کے درمیان کھڑی ہے۔
شوکت یوسفزئی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سیاسی گنجائش فراہم نہ کی تو پُرامن احتجاج دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پارٹی میں فارورڈ بلاک کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمانی پارٹی سے رابطے میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے ذریعے ہی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایمرجنسی کا نفاذ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ختم کرنے کی کوشش ہے۔
شوکت یوسفزئی نے خیبرپختونخوا میں پارٹی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے بقول ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے حکومت نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے پر آج اہم فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے بیرونِ ملک مقیم یوٹیوبرز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں اب اپنا کردار ختم کرنا چاہیے اور پارٹی کو ان کے مشوروں کی ضرورت نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کے خلاف یوٹیوبرز کی جانب سے پیش کیے جانے والے کسی بھی بیانیے کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔
