وائٹ ہائوس سمیت نامور شخصیات نے ٹوئیٹر کو نہ کر دی

چیف ٹوئیٹ ایلون مسک کی جانب سے صارفین سے تصدیقی بلیو ٹک کے لیے ماہانہ فیس کا مطالبہ کیے جانے کے بعد کئی نامور شخصیات نے فیس ادائیگی سے انکار کر دیا ہے۔
ایلون مسک کی جانب سے یکم اپریل کو صارفین کے اکاؤنٹس سے بلیو ٹِک ہٹائے جانے کے اعلان کے بعد کئی نامور شخصیات نے اپنے ویریفائیڈ اکاؤنٹ کے لیے ماہانہ 8 ڈالر ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں ٹوئٹر کی جانب سے سبسکرپشن سروس ٹوئٹر بلیو کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں متعارف کرا دیا گیا تھا جہاں صارفین اب ماہانہ فیس کے عوض ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بلیو ٹِک حاصل کر سکتے ہیں جو صارفین ٹوئٹر بلیو ٹک کی سبسکرپشن حاصل نہیں کریں گے انہیں یکم اپریل سے بلیو ٹکس کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
مائیکرو بلاگنگ سائٹ کے سی ای او ایلون مسک کے مطابق گزشتہ روز ٹوئٹر سے 42 ہزار صارفین بلیو ٹک ہٹا لیے گئے ہیں، کینیڈین اداکار ولیم شیٹنر، نامور امریکی باسکٹ بال کھلاڑی لیبرون جیمز سمیت متعدد شخصیات نے بلیو ٹک کی سبسکرپشن حاصل نہ کرنے کہ فیصلہ کرتے ہوئے ٹوئٹس کیں۔
ایک ویب سائٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس بھی بلیو ٹک کی سبسکرپشن حاصل نہیں کرے گا، وائٹ ہاوس اور جو بائیڈن جیسے سرکاری اکاؤنٹس میں اب بھی سرمئی (گرے) رنگ کے چیک مارک موجود ہیں، خیال رہے کہ گرے بیجز پر کوئی سبسکرپشن فیس نہیں ہے۔
نیو یارک ٹائمز، دی واشنگٹن پوسٹ، اور دی لاس اینجلس ٹائمز جیسے اہم ذرائع ابلاغ اور یہاں کام کرنے والے ملازمین نے بھی بلیو ٹک کی سبسکرپشن حاصل نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
چیف ٹوئیٹ ایلون مسک نے صارفین کو یہ باور کرایا تھا کہ وہ ٹوئیٹر کی سروسز کو مزید بہتر بنانے اور نئے ٹولز کے اضافے کے لیے ماہانہ فیس وصول کر رہے ہیں لیکن نامور شخصیات سمیت وائٹ ہائوس کے انکار نے ٹوئیٹر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ اگر اتنا بڑا ادارہ اور شخصیات بلیو ٹک کے بغیر سروسز استعمال کریں گے تو عام صارفین یقینی طور پر بلیو ٹک کو اہمیت نہیں دیں گے۔
ایلون مسک کی جانب سے ٹوئیٹر کو خریدے جانے کے بعد سے اس کی مالیت پہلے ہی 44 ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف 22 ارب ڈالر رہ گئی ہے جبکہ سبسکرپشن سروسز کے ختم ہونے سے ٹوئیٹر کو مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ، اسلام آباد میں دہشتگردی کا مقدمہ بھی درج

Back to top button