ایران نے گیس پائپ لائن منصوبےمیں مزید توسیع سےصاف انکار کردیا

ایران نےمتنبہ کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مدت میں مزید توسیع ممکن نہیں ہے۔

ایرانی سفیر کا  نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ  ایران گیس پائپ لائن پر کام مکمل کر چکا، آئل کمپنی پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ 7 اگست 2023 کو پاکستان نے ایران کو اربوں ڈالر کےایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے متعلق معاہدےکے تحت طےشدہ ذمہ داری کو معطل کرنے کے لیے ’فورس میجر اینڈ ایکسکیوزنگ ایونٹ‘ نوٹس جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے قابو سے باہر بیرونی عوامل کا حوالہ دیا گیا۔سادھےالفاظ میں پاکستان نےاس وقت تک منصوبہ آگے بڑھانے سے اپنی معذوری ظاہر کی ہے جب تک کہ ایران پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں یا امریکا کی جانب سے اسلام آباد کو منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے کوئی مثبت اشارہ دیا جائے۔یہ منصوبہ24 کروڑ عوام کےجنوبی ایشیائی ملک میں توانائی کی شدید قلت کے باوجود تقریباً ایک دہائی سے سرد خانے میں پڑا ہے۔24فروری 2024 کو کابینہ کی توانائی کمیٹی نے پاک ۔ ایران گیس پائپ منصوبے کےتحت 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

ایرانی سفیر نے افغانستان سےہونیوالی دہشتگردی میں کچھ اور قوتوں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کرتےہوئےکہا کہ افغانستان میں دہشتگردی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بہت دہشتگرد گروپ اور ان کےبقایا پیچھے رہ جانے والے عناصر موجود ہیں، ان کی کارروائیوں سے بچنے کے لئے بارڈر پر فینسنگ لگا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بہت بڑی تعداد میں منشیات افغانستان سے ایران میں داخل ہوتی ہے۔

چین، روس، ایران نےبھی افغانستان سےدہشتگردی کی تصدیق کردی

ایرانی سفیر نے کہا کہ میرا نہیں خیال افغانستان کےپاس اتنا پیسا ہوگا کہ وہ اس طرح دہشت گردی کی کارروائیوں پر خرچ کرے گا، میرا خیال ہے کہ یہ پیسا کہیں اور سے آرہا ہے۔ایرانی سفیر نے پیجر پھٹنے کے پیچھے امریکا کے ملوث ہونےکا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیجر کے دھماکے لبنان میں ہوئے تھے، اس حوالے سےایکسپرٹس کو وجوہات دیکھنی چاہئے، ایک امکان ہے کہ پیجر بننانے والی کمپنی نے اسرائیل کےساتھ ملکر اس میں دھماکہ خیز مواد فٹ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی ممکن ہے کہ الیکٹرانک ڈوائسز کے ذریعے ایکسپورٹ کیا جا سکے، الیکٹرانک ڈوائسز کی ذریعے دھماکا کرنے کی ٹیکنالوجی صرف امریکا کے پاس ہے، اسرائیل کی سپورٹ میں امریکا کا مؤقف بھی سب کے سامنے ہے۔

Back to top button