ایران، ہرمز اور ایٹمی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے خطرناک موڑ پر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست، جنگی حکمتِ عملی اور معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور سفارتی تعلقات کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی حدود بڑھانے، امریکی جنگی جہاز کا راستہ موڑنے اور حملے کی صورت میں یورینیم افزودگی 90 فیصد تک لے جانے کے اعلان نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یا تو ایران مکمل طور پر یورینیم افزودگی روک دے گا یا پھر سنگین نتائج کا سامنا کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا دنیا ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے یا پسِ پردہ کوئی نیا معاہدہ تشکیل پا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ایرانی قیادت کے مطابق اگر ملک پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران 90 فیصد یورینیم افزودگی کی جانب جا سکتا ہے، جسے ماہرین ایٹمی ہتھیار سازی کے قریب ترین مرحلہ قرار دیتے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فوجی مشقیں اور آبنائے ہرمز میں جارحانہ حکمتِ عملی اس بات کا اشارہ ہیں کہ تہران کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کیلئے خود کو تیار کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی راستے پر دباؤ بڑھانے کے بعد خلیجی ممالک، یورپی یونین اور عالمی طاقتیں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ قطر نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہرمز کو سیاسی بلیک میلنگ کیلئے استعمال نہ کرے جبکہ فرانس اور برطانیہ نے اس حساس راستے کی بحالی کیلئے مشترکہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایران جنگ پر اب تک 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر کے مطابق اگر آج بھی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے تو عالمی منڈی کو معمول پر آنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اسلام آباد کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کردار کی تعریف کی۔ ترکیہ نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ جنگ سے پہلے والی صورتحال بحال کی جائے تاکہ خطہ مزید تباہی سے بچ سکے۔

عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری یہ کشیدگی صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی استحکام کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں، معیشت اور سلامتی کی صورتحال کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔

Back to top button