پاکستانی معیشت کیلئے گیم چینجر”SIFC”لمبے عرصے سے خاموش کیوں؟

ملکی معیشت کو سہارا دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور ریاستی اداروں کے درمیان تیز رفتار ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے قائم کی جانے والی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل یعنی ایس آئی ایف سیSIFC ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب اس پلیٹ فارم کو پاکستان کی معاشی بحالی کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اس کی اعلیٰ ترین اپیکس کمیٹی گزشتہ سولہ ماہ سے خاموش دکھائی دے رہی ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2 جنوری 2025ء کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے 11ویں اجلاس کے بعد سے نہ کوئی نمایاں اپیکس اجلاس سامنے آیا اور نہ ہی کوئی ایسی پیش رفت دکھائی دی جس سے یہ تاثر ملے کہ ایس آئی ایف سیSIFC پہلے کی طرح متحرک انداز میں کام کر رہی ہے۔ اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ ایک اجلاس خاموشی سے منعقد ہوا، لیکن اس کی تفصیلات، فیصلے اور نتائج منظرِ عام پر نہیں لائے گئے، جس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایس آئی ایف سیSIFC کو 2023ء میں ایک ایسے ’’ون ونڈو‘‘ پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد دفاع، زراعت، معدنیات، توانائی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو تیز رفتاری سے پاکستان لانا تھا۔ خلیجی ممالک، چین اور یورپی سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ سرپرستی کو اس ادارے کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا گیا۔

ابتدائی مہینوں میں ایس آئی ایف سیSIFC نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ متعدد بین الاقوامی وفود پاکستان آئے، کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے دعوے کیے گئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سوال اٹھنے لگا کہ ان اعلانات میں سے کتنے عملی منصوبوں میں تبدیل ہوئے؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا اصل مسئلہ صرف اعلانات نہیں بلکہ پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام، سکیورٹی صورتحال اور بیوروکریسی کی پیچیدگیاں ہیں۔ یہی وہ رکاوٹیں ہیں جنہوں نے ماضی میں بھی بڑے معاشی منصوبوں کو سست روی کا شکار کیا اور اب ایس آئی ایف سیSIFC بھی انہی چیلنجز سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔

انصار عباسی کے بقول اگرچہ ایس آئی ایف سیSIFC سیکریٹریٹ اور عملدرآمد کمیٹیاں فعال بتائی جا رہی ہیں، لیکن ناقدین کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بڑے معاشی پلیٹ فارم کی اصل طاقت اس کی اعلیٰ سطحی قیادت اور فیصلہ سازی ہوتی ہے۔ اپیکس اور ایگزیکٹو کمیٹیوں کے مسلسل اجلاس نہ ہونے سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ SIFC کی رفتار سست پڑ چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ، بیرونی قرضوں، کمزور صنعتی ترقی اور محدود برآمدات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جا رہا تھا، لیکن اگر ایس آئی ایف سیSIFC جیسے اہم پلیٹ فارم کی سرگرمیاں ہی غیر واضح ہو جائیں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونا فطری بات ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی ایس آئی ایف سیSIFC کو پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے والا منصوبہ بنانا چاہتی ہے تو اسے دوبارہ فعال، شفاف اور نتیجہ خیز انداز میں سامنے آنا ہوگا۔ بصورت دیگر خدشہ یہی ہے کہ یہ ادارہ بھی ماضی کے کئی بڑے منصوبوں کی طرح صرف دعووں اور پریزنٹیشنز تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

Back to top button