کیا فیض حمید کے بعد جنرل قمر باجوہ کی باری بھی آنے والی ہے ؟

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے فیصلے کے بعد جہاں فیض اور عمران نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے وہیں جنرل فیض کے ساتھ ساتھ جنرل باجوہ اور عمران خان کے کڑے احتساب کا مطالبہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ جہاں جنرل فیض فوجی حراست میں ہیں وہیں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق معروف، قابل ذکر اور معتبر ٹی وی اینکرز بھی اس حوالے سے جنرل (ر) فیض حمید اور جنرل باجوہ کے مابین بعض مشترکات اور مماثلت کے دعوے کر رہے ہیں اوف جنرل فیض پر عائد کردہ الزامات کو ہی جنرل باجوہ بارے دہرا رہے ہیں اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی طرح سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی جواب طلبی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ جو ان دنوں راولپنڈی میں عسکری شخصیات کے ایک محفوظ اور سخت سکیورٹی والے علاقے میں رہائش پذیر ہیں ان کی نقل وحرکت محدود اور ملاقاتوں پر اتنی سخت نگرانی ہے جس پر ملاقاتوں پر پابندی کا گمان بھی ہوتا ہے اس تاثر اور ان اطلاعات کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ملک میں ہونے کے باوجود جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ طویل عرصے سے منظرعام پر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی مصروفیات سامنے آئی ہیں۔
گرفتاری کےبعد فیض حمید کاانٹیلی جینس نیٹ ورک بکھرنے لگا
یاد رہے کہ ان کی منظر پر آنے والی آخری مصروفیت رواں سال اپریل میں لاہور میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں شرکت تھی جسے کم وبیش پانچ ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنے ہم خیال اور قابل اعتماد مخصوص ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کی وساطت سے اپنے بارے میں متنازعہ امور کی تردیدیں اور وضاحتیں کرتے رہتے تھے لیکن اب نہ صرف یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے بلکہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے رابطے میں رہنے کا دعویٰ کرنے والے ایک ذریعے نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ ایک ٹی وی اینکر نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن سکیورٹی اہلکار نے اس اینکر کو رہائش گاہ جانے کی اجازت نہیں دی تاہم مبینہ طور پر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اس اینکر کو لینے کیلئے خود وہاں پر پہنچ گئے لیکن مختصر ملاقات تو ہوئی تاہم مذکورہ اینکر کو ان کا انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مختصر ملاقات کے بعد اینکر کو واپس بھیج دیا گیا۔ جس سے لگتا ہے کہ جنرل باجوہ بھی پابندیوں کی زد میں آ چکے ہیں اور انھیں بھی خاموش رہنے کا پیغام پہنچایا جا چکا ہے۔
تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا پر جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد جنرل باجوہ اور عمران خان سمیت پراجیکٹ عمران لانچ کرنے والے پورے نیٹ ورک کے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلٹ فارم ایکس پر قمر چیمہ نے اپنی پوسٹ میں جنرل فیض حمید بارے کارروائی کو پی ٹی آئی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’آج فوج نے تحریک انصاف کا پروجیکٹ مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔‘
سوشل میڈیا صارف امجد نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ جنرل فیض تو انجام کو پہنچ چکے اب دیکھتے ہیں کہ پراجیکٹ عمران کی سرپرستی کرنے والے جنرل باجوہ سے جواب طلبی کب ہوتی ہے؟
ابصار عالم نے پوسٹ میں جنرل فیض کی گرفتاری کو نظام کی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’خوشی کی نہیں افسوس کی بات ہے کہ ہمارے نظام میں ایسے لوگ اتنی بڑی پوزیشنز پر پہنچ جاتے ہیں۔‘
اینکر عارفہ نور نے پوسٹ کی کہ ’کسی ریٹائرڈ شخص پر یہ الزام لگانا کہ وہ کسی ادارے کی پالیسی میں مداخلت کر رہا تھا اور اس پر عمل درآمد ایک چارج شیٹ ہے، جو فرد سے بہت آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ لوگوں کو ٹرائل کی کم اور اندر کی کمزوری اور نظم و ضبط کی فکر زیادہ ہونی چاہیے۔‘
خان بھائی صارف نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ سب اس فرد نے خود کیا اور یہ چیف سے زیادہ طاقت رکھتا تھا۔ یا تو یہ صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے یا پھر ادارے کا کوئی نظم و ضبط نہیں ہے۔‘
ایس رحمان نامی صارف نے ایکس پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگ رہا ہے جنرل فیض کا یہ کیس اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، بات چلے گی تو بہت دور تلک جائے گی، کرپشن کے بہت بڑے بڑے کیس کھلیں گے۔‘
حسن نامی صارف نے اس گرفتاری کو بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے پاکستان میں نئے دور کے آغاز کی امید ظاہر کی۔
آغا نامی صارف نے کہا کہ ملک میں اصل تبدیلی کا آغاز تو اس وقت ہو گا جب ملک میں عمران سازش کو رچانے والے تمام کردار نہ صرف بے نقاب ہوں گے بلکہ اپنے انجام کو بھی پہنچیں گے۔ تاہم جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد لگتا ہے کہ ایسا جلد ہو گا۔
