کیا صوبائی خود مختاری کی ضامن 18 ویں ترمیم ختم ہونے والی ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے عدالتی، مالیاتی اور انتظامی نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لانے کے منصوبے نے سیاسی و سماجی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومتی تیاریوں سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں صوبائی خودمختاری کی محافظ 18ویں آئینی ترمیم کا جڑ سے خاتمہ ہونے والا ہے،تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت نے 18ویں ترمیم کے بنیادی ڈھانچے کو چھیڑا تو نہ صرف صوبائی خودمختاری بلکہ جمہوری استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ حکومتی حلقوں میں گزشتہ کافی عرصے سے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت جاری ہے، مگر پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا اچانک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بیان حکومتی ذمہ داران کے ساتھ ساتھ پارٹی رہنماؤں کے لیے غیر متوقع ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے ذریعے ایسے کئی حساس معاملات میں ردوبدل تجویز کیا جا رہا ہے جو براہِ راست وفاق اور صوبوں کے اختیارات سے متعلق ہیں جن میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام، انتظامی مجسٹریسی نظام کی بحالی، ہائی کورٹ ججوں کی تقرری و تبادلے کے طریقۂ کار میں تبدیلی، صوبوں کے مالیاتی حصے کے آئینی تحفظ کا خاتمہ، آرٹیکل 243 میں ترامیم، اور تعلیم و آبادی کے محکموں کو دوبارہ مرکز کے ماتحت لانا شامل ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم میں شامل تمام نکات مجموعی طور پر اس خدشے کو جنم دے رہے ہیں کہ شاید حکومت صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے والی 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے
سندھی پس منظر رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ کئی حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم ایک سیاسی سودے کا حصہ ہے جس کے بدلے پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت دی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے خود مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کو مختلف سطحوں پر رعایتیں دینے کے اشارے دے چکی ہے، جن میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام سرِفہرست ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت سیاسی جماعتوں میں عدم اتفاق کی وجہ سے الگ آئینی عدالت کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی تھی تاہم اب 27ویں آئینی ترمیم میں پیپلزپارٹی کے الگ آئینی عدالت کے قیام کے مطالبے کو بھی پورا کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی جمعرات کو مجوزہ ترمیم پر فیصلہ کرے گی۔ تاہم پارٹی کے اندر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کیلئے 27ویں آئینی نترمیم کی حمایت کا فیصلہ کسی صورت آسان نہیں ہوگا۔ ایک سینئر پیپلز پارٹی رہنماکے مطابق 27ویں آئینی ترمیم بنیادی طور پر 18ویں ترمیم کے مکمل خاتمے کا نقطہ آغاز ہے۔ پارٹی کے لیے اسے قبول کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ہماری بنیادی سیاسی شناخت کے خلاف ہے۔ اگر صوبوں کے مالی حصے کا تحفظ ختم کیا گیا تو ہم وہیں واپس چلے جائیں گے جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔”
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے لیے 18ویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ پر سمجھوتہ ممکن نہیں کیونکہ “صوبائی خودمختاری ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی ستون رہی ہے۔ یہ ایم آر ڈی کے منشور سے لے کر میثاقِ جمہوریت تک پارٹی کے نظریے کا حصہ ہے۔”تاہم وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور آرٹیکل 243 میں تبدیلیوں پر راضی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں نکات بھی میثاقِ جمہوریت میں شامل تھے۔تاہم بعض دیگر مبصرین کے بقول اگر پیپلز پارٹی نے صوبائی خودمختاری کے اصول سے پسپائی اختیار کی تو یہ اس کی سیاسی خودکشی ہوگی۔“سندھ میں قوم پرست قوتیں پہلے ہی وفاقی پالیسیوں سے خائف ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی نے این ایف سی یا تعلیم و آبادی جیسے اختیارات مرکز کے حوالے کیے تو سندھ میں اس کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔”ان کے مطابق آئینی عدالت کا قیام بظاہر اچھا خیال ہے، مگر موجودہ حالات میں اسے عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھا جائے گا۔
تاہم معاشی ماہرین کے مطابق مجوزہ آئینی ترامیم کے پیچھے اصل محرک وفاق کی مالی مشکلات ہیں کیونکہ وفاقی حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ دفاعی اخراجات اور قرضوں کے سود میں چلا جاتا ہے، جبکہ محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہے۔“چونکہ موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت وفاق صوبوں کے حصے کو کم نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے پیٹرولیم لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کا سہارا لیا۔ اب وہ آئینی ترمیم کے ذریعے اپنا حصہ قانونی طور پر بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ لیویز ختم نہیں ہوں گی، یعنی عوام پر دوہرا بوجھ پڑے گا۔”ان کے مطابق چھوٹے صوبے اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کی آمدنی پہلے ہی ناکافی ہے۔سندھ اور پنجاب اگرچہ کچھ حد تک ٹیکس بڑھا سکتے ہیں، مگر مجموعی طور پر عوامی خدمات جیسے صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے۔
کیا ملک میں آئندہ الیکشن عدالتی نگرانی میں ہونگے؟
دوسری جانب آئینی ماہرین کے مطابق 27ویں ترمیم کے تحت مجوزہ تبدیلیاں نہ صرف عدلیہ بلکہ جمہوری توازن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے بقول 27ویں آئینی ترمیم حقیقت میں اختیارات کو پارلیمان اور انتظامیہ کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کی کوشش ہیں۔ انتظامی مجسٹریسی نظام کی بحالی سے ریاستی مشینری کو عوامی احتجاج دبانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں اپوزیشن کا کردار کم کر کے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔” اگر یہ ترامیم منظور ہو گئیں تو “یہ پارلیمان کے ہاتھوں جمہوریت کے اندر سے آمریت کے دروازے کھولنے کے مترادف ہوگا۔”
