کیا عمران کے ممکنہ قتل کا تھریٹ الرٹ فیس سیونگ ہے

حکومتی حلقوں نے دعوی ٰکیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی ہی خیبرپختونخوا پولیس سے اپنے ہی ممکنہ قتل بارے تھریٹ الرٹ جاری کروانے کا بنیادی مقصد عوام میں اپنے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا اور خود کو ایک اور ناکام لانگ مارچ سے بچنے کے لیے فیس سیونگ فراہم کرنا ہے۔
عوام کمر کس لیں تا کہ ہم ’چس‘ لیں
یاد رہے کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے عمران خان کے قتل بارے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ دہشتگردوں نے افغانستان کے ایک قاتل کی خدمات حاصل کی ہیں جو ممکنہ طور پر حملہ کرسکتا ہے۔ سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے تھریٹ الرٹ میں کہا ہے کہ دہشتگرد عمران خان کے قتل کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے ساکھ کے بحران کا شکار کپتان کے 2 قریبی ساتھی بابر اعوان اور فیاض چوہان بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ عمران کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے تھریٹ کا کوئی سر پیر نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھلا عمران خان سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ عمران طالبان کے لئے اور طالبان ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس لئے عمران کے دور حکومت میں جنرل فیض حمید کی سربراہی میں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے تھے جو ابھی تک جاری ہیں۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تھریٹ الرٹ کا بنیادی مقصد اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ سے راہ فرار اختیار کرنے والے عمران کو فیس سیونگ فراہم کرنا ہے۔ خیبرپختونخوا کے سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔ تھریٹ الرٹ کے مطابق دہشتگردوں نے افغانستان کے ایک کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کی ہیں جو ممکنہ طور پر عمران پر حملہ کر سکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کے بعد سے کئی مرتبہ پی ٹی آئی کے مختلف رہنما ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ انہیں قتل کرنے کے لیے ایک ٹارگٹ کلر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی کے تھریٹ الرٹ کے متن کا اشتراک مختلف فورمز پر کیا گیا ہے جس کے مطابق افغانستان کے ایک قاتل کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ عمران خان کو ٹارگٹ کرے جب کہ قاتل نے یہ ذمہ داری دوسروں کے سپرد کی تھی۔ کے پی حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تھریٹ الرٹ کے تناظر میں سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
خیبر پختونخوا کے ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ سی ٹی ڈی نے تھریٹ الرٹ 18 جون کو جاری کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے خفیہ رکھا جائے اور سوشل میڈیا پر اسے لیک نہ کیا جائے۔ لیکن اس کے بعد اسے خود ہی حکومت کی جانب سے لیک کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے نئی ترجمان فیاض الحسن چوہان نے ٹوئٹ کی تھی کہ ایک دہشتگرد کو عمران خان کو ٹارگٹ کرنے کے لیے سپاری بھی دے دی گئی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے جس کا مقصد عمران خان کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا اور خود کو ایک اور ناکام لانگ مارچ سے بچنے کے لیے فیس سیونگ فراہم کرنا ہے۔
