کیا اسحاق ڈار واقعی نگران وزیراعظم بننے والے ہیں؟

مسلم لیگ ن نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نگران وزیر اعظم کے لیے اگرچہ مسلم لیگ ن کے حلقوں میں سینیٹر اسحاق ڈار کا نام زیر غور ہے تاہم ان کے علاوہ دیگر سینیئر سیاستدان بھی نگران وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل ہیں۔‘ذرائع کے مطابق نگران وزیراعظم کے لیے مشاورتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ دبئی میں نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں بھی اس پر مشاورت ہو گی، نگراں وزیراعظم کو معاشی فیصلے کرنے کا اختیار دینے کے لیے حکومت الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت نگراں وزیراعظم کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق ’الیکشن ایکٹ کی شق 230 میں ترمیم کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی جس کے تحت نگراں وزیراعظم کو مزید بااختیار بنایا جائے گا۔‘ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 230 میں نگران وزیر اعظم کو صرف روز مرّہ امور نمٹانے کا اختیار حاصل ہے، حکومت اب مذکورہ ایکٹ میں ترمیم کرکے نگران وزیر اعظم کو اہم معاملات پر فیصلہ سازی کا اختیار دینے پر غور کر رہی ہے۔‘ذرائع نے بتایا ہے کہ مجوزہ تجاویز پر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں میں لیا جائے گا۔
دوسری جانب اسحاق ڈار کی بطور وزیر اعظم نامزدگی سے مختلف سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا اسحاق ڈار نگراں وزیراعظم بن سکتے ہیں؟ کیا اسحاق ڈار کے نگراں وزیراعظم بننے پر پیپلز پارٹی یا اتحادیوں کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟ وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے نام کے بطور نگراں وزیر اعظم غور شروع کرنے کی خبر کہاں سے آئی ہے؟ یہ بڑی سنجیدہ نوعیت کی بات ہے، تاہم اس خبر کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خبر کی تصدیق کے بغیر اس پر تبصرہ بھی نہیں کرنا چاہیے، میڈیا بغیر کسی دلیل اور تصدیق کے سنسنی پھیلا رہا ہے جبکہ اس خبر کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس خبر کا کسی کے پاس کوئی سورس نہیں ہے، اگر ن لیگ نے اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم نامزد کرنے کا اعلان کیا پھر پیپلز پارٹی اس پر اپنا ردعمل دے گی۔
اسحاق ڈار کے ممکنہ طور پر نگراں وزیراعظم بننے کے سوال پر سینیئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اسحاق ڈار نگراں وزیراعظم ہوں گے کیونکہ نگراں وزیراعظم عام طور نیوٹرل ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی مسلم لیگ ن کے ساتھ واضح جانبداری ہے، وہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے رشتے دار بھی ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ بھی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی خواہش ہو سکتی ہے اسحاق ڈار نگراں وزیراعظم ہوں، ن لیگ کے لیے اچھا بھی ہے لیکن دیگر اتحادیوں کو اس پر اعتراض ہو گا۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسحاق ڈار کو اگر نگراں وزیراعظم بنایا گیا تو یہ خلاف معمول ہو گا کیونکہ تاریخ میں بھی کسی سینیئر وزیر یا سینیئر سیاستدان کے نگراں وزیراعظم کی مثال نہیں ملتی۔
دوسری طرف سینیئر صحافی و تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا کہ میڈیا کے مطابق اسحاق ڈار کا نام بطور نگراں وزیراعظم زیر غور ہے لیکن میرے خیال میں ایسا ہونے والا نہیں ہے، ابھی اسحاق ڈار کی طرح اور بھی بہت سے ناموں پر غور ہو رہا ہے، لیکن فیصلہ کیا ہوگا اس پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کا شریف خاندان سے گہرا تعلق ہے اور اس گہرے تعلق کی وجہ سے اسحاق ڈار متنازع نگراں وزیراعظم ہوں گے۔اسحاق ڈار کی نگراں وزیراعظم کی نامزدگی سے عمران خان کے بیانیہ کو بھی تقویت ملے گی کہ ن لیگ کی سیاست ان کے خاندان میں ہی گھومتی رہتی ہے۔
انصار عباسی نے کہا کہ اسحاق ڈار کے نگراں وزیراعظم کی نامزدگی پر فوج کا ردعمل بھی دیکھنا ہو گا، میرے خیال میں ایسا مشکل ہو گا کہ فوج نیوٹرل وزیراعظم کی جگہ ایک ہی پارٹی کے سینیئر رہنما اسحاق ڈار کی حمایت کرے، فوج کی کوشش ہو گی کہ اگر کوئی سیاسی نگراں وزیراعظم بنے تو وہ ایسا ہو جو نیوٹرل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اور اگر کسی معاشی ماہر نے نگراں وزیراعظم بننا ہے تو بھی ایسا ہو کہ جو نیوٹرل ہو اور کسی بھی ایک
نگران وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی اپنا نام تجویز کرے گی
پارٹی کے بہت قریب نہ ہو۔
