اسحاق ڈار کے گھر سے قیمتی اشیا کون لوگ لے اُڑے؟

وزیر خزانہ اسحاق ڈار گزشتہ دور حکومت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام  پربننے والے مقدمات کی پیری کے دوران علاج کی غرض سے انگلینڈ روانہ ہوئے تو ان کے گلبرگ میں واقع گھر کو نیب نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ تاہم وطن واپسی پر جب   مسلم لیگی رہنما نے عدالت کے ذریعے اپنے گھر کا قبضہ واپس لیا تو دیکھا کہ کچن سے لیکر بیڈ روم تک، سارا گھر خالی ہو چکا تھا۔ بیڈ رومز کی الماریوں میں پڑے ہوئے کپڑے، کچن کی کراکری، واش بیسن اور دیگر قیمتی اشیا کو بے دردی سے لوٹ لیا گیا لیکن کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ لوٹ مار کا یہ

بازار آخر کس نے گرم کیا۔ یاد رہے کہ لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع اسحاق ڈار کے گھر کا نام ہجویری ہاؤس ہے جو کہ انہیں تباہ شدہ حالت میں واپس ملا ہے۔

عمران خان کو سلو پوائزن سے مارنے کی کوشش کی جارہی ہے

اسحاق ڈار کے گھر کو نیب نے تب اپنے قبضے میں لے لیا تھا جب وہ عدالت میں پیش ہونے کی بجائے علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے، ان کی غیر موجودگی میں نیب عدالت میں کیس چلایا گیا اور عدم پیشی پر ان کی جائیداد کو ضبط کر کے نیلام کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے تھے حالانکہ عموماً ایسا فیصلہ نہیں سنایا جاتا، نیب نے جائیداد ضبط کرنے کے بعد اسحاق ڈار کے گھر کو ضلعی حکومت کے حوالے کر دیا تھا جہاں پہلے تو عمران خان کی خواہش پر بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ بنائی گئی اور پھر اسے نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اسحاق ڈار کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر سے کروڑوں روپے کا سامان چوری کر لیا گیا ہے۔ تمام ایئرکنڈیشنر غائب کر لیے گیے ہیں، اور گھر میں ایک بھی فانوس موجود نہیں۔ تمام فرنیچر بھی غائب کر دیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے گھر کا قبضہ لینے کے بعد اسے کھولا تو ایسے لگا کسی جنگل میں آ گئے ہیں۔ بہت بے دردی سے گھر کی ہر شے کو لوٹا گیا، انہوں نے بتایا کہ ہجویری ہاؤس کے کچن میں موجود کراکری کا سامان اور واش بیسن تک غائب کر دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ الماریوں میں موجود کپڑے اور دیگر قیمتی اشیا بھی غائب ہیں۔

یاد رہے کہ سابق دور حکومت میں اسحاق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا مقدمہ بنایا گیا تھا۔ گزشتہ مہینے عدالتی حکم پر نیب نے اسحاق ڈار کو ان کا گھر واپس کر دیا جبکہ ضلعی حکومت کا عملہ بھی گھر سے ہٹا لیا گیا، لیکن اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں مل پایا کہ اسحاق ڈار کے گھر کا قیمتی سامان کہاں غائب ہو گیا۔ جب اس حوالے سے لاہور کی ضلعی حکومت کے ترجمان محمد عمران سے رابطہ کیا گیا تو وہ اس بارے لاعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات تو میرے لیے بھی بالکل نئی ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہمارے علم میں لائی گئی تو اس کی انکوائری بھی ہوگی۔ ابھی اس معاملے پر ضلعی حکومت کا کوئی موقف نہیں ہے، پہلے ہمیں چھان بین کرنے دیں، اسحاق ڈار کے گھر کے نگران افراد کا کہنا ہے کہ ’گھر کے باہر عام افراد کے لیے لگایا گیا ٹھنڈے پانی کا کولر بھی غائب کر دیا گیا ہے، جنریٹر کے پرزے بھی نکال لیے گئے ہیں، اور الیکٹرانکس کا سارا سامان غائب ہے۔ یاد رہے کہ اسحاق ڈار کے اس گھر کو 1999 کے مارشل لا کے دور میں بھی قبضے میں لیا گیا تھا اور نیلام بھی کر دیا گیا تھا، تاہم عدالتی حکم پر انہیں یہ گھر واپس مل گیا تھا۔

Back to top button