غزہ پر اسرائیلی جارحیت ،شہید فلسطینیوں کی تعداد 2800سے تجاوز

غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے ، بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 2 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی۔غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے، معصوم اور نہتے فلسطینی شہریوں کے پاس اسرائیلی حملوں سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں بچی۔7اکتوبرسے اسرائيل کی غزہ پر جارحیت جاری ہے، مسلسل بمباری میں 2 ہزار 800 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، شہیدوں میں ایک ہزار سے زائد بچے اور 400 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک 10 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں جبکہ اسرائیلی بمباری سے تباہ عمارتوں کے ملبے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کی لاشیں دبی ہونے کا خدشہ ہے۔اس کے علاوہ فلسطین جرنلسٹ سینڈیکیٹ نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے اب تک 11 صحافیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطین جرنلسٹ سینڈیکیٹ نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں شروع ہونے والے اسرائیلی بربریت میں اب تک 11 صحافی بھی جان سے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ غزہ میں پانی بھی ختم ہوگيا ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینیوں کے پیاس سے مرنے کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ۔اس کے علاوہ اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کے 4 اسپتالوں میں علاج بند کردیا گیاہے جبکہ اسرائیل نے مزید 21 اسپتال خالی کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گراؤنڈ آپریشن کے پیشِ نظر غزہ پٹی کے شمالی حصے کو خالی کر کے جنوبی حصے کی طرف چلے جائیں، غزہ پٹی میں 23 لاکھ فسلطینی رہتے ہیں، یہ پٹی دنیا کے گنجان آباد مقامات میں سے ہے۔ غزہ پٹی شمال اور مشرق میں اسرائیل اور جنوب میں مصر کے درمیان محصور ہے، اس لیے ان فلسطینیوں کے پاس غزہ پٹی سے باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران غزہ پٹی کی تقریباً نصف آبادی نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا ہے اور وہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں، اسپتالوں اور مقامی ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، اِن
انسداد سموگ مہم،بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ پبلک ٹرانسپورٹ پرپابندی عائد
میں سے بھی بیشتر عمارتیں اسرائیلی بمباری کی زد میں آچکی ہیںv۔
