لگتا ہے حمزہ کی حکومت نہیں رہے گی

تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجابب میں ضمنی الیکشن کیلئے دھاندلی کی تیاری ہو رہی ہے، حکمرانوں نے تو رہنا نہیں افسران کوئی غیر قانونی کام نہ کریں، لگ رہا ہے اب پنجاب میں حمزہ شہبازکی حکومت نہیں رہے گی۔
فوجی جوانوں کے ہاتھوں ایک اور پولیس والے کی دھلائی
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا مجھے پتہ تھا ان سے حکومت نہیں سنبھالی جانی ، معیشت کو ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ زرداری خاندان اور شریف خاندان کا جو اربوں ڈالر باہر پڑا ہے اگر اس کا آدھا بھی پاکستان لے آئیں تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا ملک میں واضح بیرونی سازش کے ذریعے ملک میں حکومت بنتی ہے اس میں 60 فیصد لوگ ضمانت پر ہیں، بڑے بڑے لوگ جو 30 سالوں سے حکومت کررہے ہیں وہ آکر لوگوں کے ضمیر خرید کر مسلط ہو جاتے ہیں، بھیڑ بکریوں کی طرح سیاستدانوں کو خریدا گیا، حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے کوئی پلان لانا تھا یا ان کو معیشت ٹھیک کرنی تھی کیونکہ یہ بڑے تجربہ کار سمجھے جاتے تھے، دو خاندان 30 سال سے ملک میں حکومت کررہے ہیں، بجائے مہنگائی کم کرنے اور معیشت ٹھیک کرنے کے انہوں نے صرف ایک کام کیا کہ 11 سو ارب روپے کے کرپشن کے کیسز این آر او دے کر معاف کروالیے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے کوئی پلان لانا تھا یا ان کو معیشت ٹھیک کرنی تھی کیونکہ یہ بڑے تجربہ کار سمجھے جاتے تھے، دو خاندان 30 سال سے ملک میں حکومت کررہے ہیں، بجائے مہنگائی کم کرنے اور معیشت ٹھیک کرنے کے انہوں نے صرف ایک کام کیا کہ 11 سو ارب روپے کے کرپشن کے کیسز این آر او دے کر معاف کروالیے،نیب، ایف آئی اے، سول سروسز و دیگر ادارے تباہ کردیے، لوگوں کو دبانے کے لیے پولیس کا استعمال کیا۔
انکا کہنا تھا انہوں نے لوگوں کو تیار کیا کہ بہت زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے، مشکل حالات ہیں، لوگ تباہ ہوگئے، اب لوگ اس لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں کہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کونسی قیامت آ گئی، ان دو مہینوں میں کیا ہو گیا کہ قیمتیں بھی آسمانوں پر چلی گئیں، معیشت ، روپیہ ، اسٹاک مارکیٹ بھی نیچے چلی گئی۔
عمران خان نےکہا صنعتی ترقی سے لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، ہم نے لوگوں کو 55 لاکھ نوکریاں دی تھیں، اس کی وجہ کنسٹرکشن سیکٹر کو اٹھانا، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں ریکارڈ ترقی ہونا، ٹیکسٹائل سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کی برآمدات میں اضافہ ہونا شامل ہے، آئی ٹی کی برآمدات میں دو سالوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا،ٓئی ایم ایف بھی کہہ رہا تھا کہ پاکستان پائیدار ترقی کررہا ہے، زراعت میں فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہو رہی تھی کیونکہ ہم نے پوری منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔
سابق وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ دو ماہ میں کونسی قیامت آگئی کہ آسمان پر مہنگائی پہنچ گئی اور معیشت نیچے آگئی، ملک میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے، لوگ اگر باہر نکل کر مظاہرے کررہے ہیں،آپ ڈنڈے کا استعمال اور تشدد کررہے ہیں، جمہوری حکومت لوگوں کو اپنے مسئلے بتاتی ہے اور عوام کے دکھ درد کو سنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کدھر گئی بجلی؟ ہمارے ساڑھے تین سالہ دور میں کیوں ایسی لوڈشیڈنگ نہیں تھی؟ ملک میں بجلی تو ہے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہی بجلی کے کارخانوں کا معاہدہ ہوا، بجلی بھی نہیں بن رہی اور ہم کپیسیٹی پیمنٹ کی مد میں پیسے بھی دے رہے ہیں، انہوں نے بجلی کے کارخانے درآمدی ایل این جی اور کوئلے کے لگائے تھے، ساہیوال جیسی جگہ پر انہوں نے کوئلے کا پلانٹ لگایا ہے، کراچی سے کوئلہ ساہیوال آتا ہے، جس نے بھی اس کارخانے کو لگایاہے اس کو جیل میں ڈالنا چاہیے کہ کیا سوچ کر بنایا تھا، ماحولیات پر اس کا علیحدہ منفی اثر ہے۔
پی ٹی آئی چہیرمین نے کہا آج ان کے پاس کوئلے اور ایل این جی کے لیے خریدنے کے پیسے نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، غداروں کے ساتھ مل کر سازش کی، آج آپ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب آپ سازش کرکے آ گئے تو اب کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا عمران خان اور پی ٹی آئی نے کیا ہے، اگر ہم نے یہ کیا ہے تو ہمیں رہنے دینا چاہیے تھا آج ہم اس کی ذمہ داری لیتے۔
انہوں نے کہا ساڑھے تین سال ہم بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھے، وہ ہمیں بھی کہہ رہا تھا کہ قیمتیں بڑھاؤ، اس وقت آئی ایم ایف کا دباؤ بھی تھا اور کورونا وائرس بھی تھا، ساری دنیا میں انرجی کی قیمتیں بھی اوپر گئیں اس کے باوجود پاکستان سب سے سستا ملک تھا، ہم نے پیٹ کاٹ کر بجلی، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھنے دی، کیونکہ ہم پتا تھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں، پتا تھا کہ بین الاقوامی عذاب آیا ہواہے، لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس استعمال کی جارہی ہے، پُرامن احتجاج کرنا عوام کا حق ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا ہم ہفتے کو 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پُرامن تاریخی احتجاج کریں گے، اس کے علاوہ ہم لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ پشاور، لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں احتجاج کریں، میں چاہتا ہوں کہ زندہ قوم بن کر سب لوگ اس احتجاج میں شامل ہوں، ہم توڑ پھوڑ نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کا ہی نقصان ہے، جمہوریت میں ہمارا یہ حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ ہماری بات سنے، ڈنڈے سے کبھی حکومت نہیں چلتی، جمہوریت جسمانی قوت سے نہیں اخلاقی قوت سے چلتی ہے، ایک دم سازش کرکے پاکستان میں سیاسی بحران پیدا کیا، اس کے بعد معاشی بحران آیا جو ان کے کنٹرول میں نہیں ہے، میں نے شوکت ترین کو کہا تھا کہ نیوٹرلز کو بتاؤ کہ ملک سیاسی بحران کی بہت بڑی قیمت ادا کرے گا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا ہمیں پتا تھا کہ یہ کس لیے آرہے ہیں، ان لوگوں نے 1100 ارب روپے معاف کروایا ہے، اگر ہم اس کی آدھی رقم یعنی 500 ارب روپے کی سبسڈی بھی دے دیں تو عوام کو مشکلات سے نکالا جاسکتا ہے، معیشت کو ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ زرداری خاندان اور شریف خاندان کا جو اربوں ڈالر باہر پڑا ہے اگر اس کا آدھا بھی پاکستان لے آئیں تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔
عمران خان نے پنجاب میں حمزہ شہباز کی غیر قانونی حکومت موجود ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے، شکر ہے عدالتوں نے پہلے الیکشن کمیشن کو بے نقاب کردیا کہ انہوں نے غیر آئینی طریقے سے ہماری 5 مخصوص نشستوں کو موقع نہیں دے رہے تھے، مجھے لگ رہا ہے کہ پنجاب میں اب حمزہ شہباز کی حکومت نہیں رہے گی، پولیس اور دیگر تنخواہ دار طبقے کے لیے مشکلات آئیں گی اگر آپ نے ہمارے خلاف غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کیے، کیونکہ جو بھی غیر قانونی کام کر رہا ہے، ہمارے پاس سب کا ریکارڈ ہے۔
