جسٹس فائز عیسٰی کا آئین شکنوں کی سرکوبی کا فیصلہ؟

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے آئین شکنی کرنے والوں کی سرکوبی کا آغاز کر دیا ہے اور چار سال سے زیر التواء فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ 2018 میں تحریک لبیک نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر حکومت کو ناکام کرنے کیلئے اسلام آباد میں دھرنا دے کر نظام زندگی کو مفلوج کردیا تھا تاہم بعد ازاں اس وقت کے ڈی جی سی جنرل فیض حمید کی گارنٹی پر تحریک لبیک نے دھرنا ختم کر دیا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس حوالے سے از خود نوٹس لے کر دھرنے کیخلاف فیصلہ دیا تھا حکومت پاکستان، وزارت دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان کو اپنے حلف سے رو گردانی کرنے کے مرتکب ’اپنے اپنے ماتحت افسران‘ کو سزا دینے اور فوجی قیادت کو سیاست میں ملوث اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔فیصلے کیخلاف جہاں نظر ثانی اپیلیں دائر کی گئی تھیں وہیں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کی وجہ سے انتقامی کارروائی کے طور پر جسٹس قاضی فائز عیسی کو برطرفی کے ریفرنس کاسامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم اب سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پاکستان تحریک انصاف، وزارت دفاع، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور دیگر کی نظر ثانی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو 28 ستمبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا

سپریم کورٹ سے جاری کاز لسٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں پر 28 ستمبر کو سماعت کرے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2018 میں فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا اور اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فروری 2019 میں تفصیلی فیصلہ سنایا تھا۔

بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپریل 2019 میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے وزارت دفاع توسط سے، انٹیلی جینس بیورو یعنی آئی بی ، انٹروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی، پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پی ٹی آئی، متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم پاکستان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور اعجاز الحق کی جانب سے سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظرثانی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا تھا کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔دو رکنی بینچ نے 43 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی شخص جو فتویٰ جاری کرے جس سے ’ کسی دوسرے کو نقصان یا اس کے راستے میں مشکل ہو’ تو پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور/ یا پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ایسے شخص کے خلاف ضرور مجرمانہ مقدمہ چلایا جائے۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اجتماع اور احتجاج کرنے کی حد اس وقت تک دائرے میں ہے جب تک وہ کسی دوسرے کے بنیادی حقوق، اس کی آزادانہ نقل و حرکت اور املاک کو نقصان نہ پہنچائے۔فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ ’ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی پھیلانے والوں کی نگرانی کی جائے اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے’۔

عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹر سروسز پبلک ریلیشن کو ’اپنے متعلقہ مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے‘۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’بہتر ہوگا کہ ان قوانین کا اطلاق کیا جائے جو خفیہ اداروں کے متعلقہ دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوں تاکہ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو اچھے طریقے سے یقینی بنایا جاسکے‘۔

عدالت نے کہا تھا کہ ’آئین مسلح فورسز کے افراد کو کسی طرح کی بھی سیاسی سرگرمی، جس میں سیاسی جماعت، گروہ یا فرد کی حمایت ہو اس سے منع کرتا ہے، حکومت پاکستان کو وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے متعلقہ سربراہان کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ حلف کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں‘۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے خلاف آبزرویشنز بھی دی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ سانحہ12 مئی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے تشدد کے ذریعے ایجنڈے کے حصول کی حوصلہ افزائی ہوئی اور قتل، اقدام قتل میں ملوث حکومت میں شامل بڑے افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے بری مثال قائم ہوئی ہے اور تشدد کے ذریعے ایجنڈے کے حصول کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، عدالت نے قرار دیا تھا کہ ریاست کو غیرجانبدار اور منصفانہ ہونا چاہئے، قانون کا اطلاق یکساں طور پر سب پر لاگو ہونا چاہئے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا ریاستی اداروں میں، اور آزادانہ طور پر اپنے فرائض منصبی نبھانے چاہئیں،

واضح رہے کہ ’فیض آباد دھرنا کیس‘ کے فیصلے کے اجراء کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو حکومت انتقامی کارروائیاں بھی بھگتنا پڑی تھیں۔ اس وقت کی پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے وزیراعظم عمران خان نے پراسرار طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے خاندان کی جاسوسی کرواکے ان کے اثاثوں سے متعلق ایک مبینہ جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس صدر عارف علوی کو بھجوایا تھا جسے انہوں نے جائزہ لئے بغیر ہی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوادیا تھا۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو اپنی اہلیہ سمیت سپریم کورٹ اور ایف بی آر میں متعدد پیشیاں بھگتنا پڑی تھیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت تحریک لبیک نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا۔حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔اس حوالے سے حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے مابین جو معاہدہ طے پایا تھا اس پر اس وقت کے ڈی جی سی جنرل فیض حمید کے بطور گارنٹر دستخط موجود تھے۔ جس پر کافی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس

نواز شریف کی واپسی کے پلان کو حتمی شکل دیدی

پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔

Back to top button