خالق ناز خیالوی ایسے شاعر جن پر اترنے والے الفاظ ناز کرتے؟

کارخانہ قدرت کا نظام اپنا ہی ہے اور وہ نظام کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ سکتا، وہ جس انسان کو نوازنا چاہتا ہے، اس میں ایسی خوبیاں روز اول سے پیدا کر دیتا ہے جو اس انسان کی شخصیت کا ماضی بتانے کیلئے ضرورت بن جاتی ہیں، آج ایک ایسی ہی شخصیت کا تذکرہ زیر قلم لایا جا رہا ہے، جن پر خدا کی عطا ایسی تھی کہ انہیں شاعر بنا کر دنیا میں ممتاز کر دیا۔
ان پہ اترنے والے الفاظ و خیالات ان پہ ناز کیا کرتے تھے۔ شاہد یہی وجہ تھی کہ جب مزدور شاعر احسان دانش کی دوراندیش نگاہ ان پر پڑی تو انہوں نے قدرت کی اس خاص عطا کو پہچان لیا اور اس شاعر کو ’ناز‘ کا تخلص بخشا پھر وہ شاعری کے کاندھے پر سوار ہو کر ناز خیالوی کے نام سے ممتاز ہوگئے۔
ناز خیالوی کا اصل نام محمد صدیق تھا۔ وہ چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ 1947 میں تاندلیاں والہ کے گاؤں چک نمبر 394 گ۔ب میں پیدا ہوئے۔اس گاؤں میں صوفی ازم پہ یقین رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ’جھوک خیالی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی گاؤں سے نسبت کو اپنے نام کا حصہ بنا کر وہ صدیق خیالوی کہلاتے رہے۔ان کے سگے بھتیجے شاہد خیالوی، جو ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں، بتاتے ہیں کہ ’چچا گھر میں سب سے چھوٹے تھے اور گھر میں انہیں ناز و نعم سے پالا گیا۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی لیکن روحانی علوم سے وابستگی کے باعث انہیں عالم فاضل بھی کہا جاتا تھا۔انہوں نے احسان دانش کی شاگردی اختیار کر لی اور ان کے حکم پر اپنا ادبی نام صدیق خیالوی سے بدل کر’ناز خیالوی‘ رکھ لیا، ناز خیالوی کے بارے میں معروف محقق تنویر شاہد محمد زئی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ’ناز خیالوی زندگی کی محرومیوں سے ابھرنے والے شاعر تھے۔ بچپن میں والد کی سختی اور والد کی وفات کے بعد کچھ بھائیوں کی نظر اندازی نے ان کے اندر احساس محرومی پیدا کر دیا تھا اور وہ بھائیوں کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتے تھے۔ناز خیالوی کی طبعیت روحانی علوم کی طرف زیادہ مائل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ چلہ کشی بھی کرتے رہے، ان کے روحانی عقیدت مند انہیں ناز خیالوی قلندری صابری بھی پکارتے تھے اور یہ نام ان کی آخری آرام گاہ کے مرقد پہ لکھا ہوا ہے۔ناز صاحب، صاحب علم، صاحب زبان شاعر تھے، رات گئے تک دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، دینی، شرعی، تصوف، لطائف وغیرہ پہ گفتگو ہوتی رہتی اور محفل کے سامعین ہمہ تن گوش ہوکر سنتے رہتے۔ناز خیالوی کے بارے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شادی نہیں کی۔ ان کے بھتیجے شاہد خیالوی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے والد نور محمد نے خاندان میں ناز خیالوی کی شادی کی مگر شادی کے چند ماہ بعد ناز صاحب نے بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ناز خیالوی صاحب کی شاعری میں موسیقیت غالب نظر آتی ہے، اردو کے فلو کے ساتھ بہنے کی بے بہا صلاحیت موجود ہے۔ اس کی ایک وجہ ان کا ریڈیو سے وابستہ ہونا بھی ہے۔انہوں نے غالباً 1982 میں ریڈیو پاکستان فیصل آباد سے وابستگی اختیار کی اور کنٹریکٹ پر بطور پروگرام کمپیئر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی میزبانی میں شروع ہونے والے پنجابی زبان کے پروگرام ’ساندل دھرتی‘ میں کسانوں کے مسائل پر بات چیت ہوتی اور موسیقی پیش کی جاتی ۔وہ اس قدر مقبول پروگرام تھا کہ انہیں 2000 میں ایکسی لینس ریڈیو کمپیئرنگ ایوارڈ دیا گیا۔ یہی پروگرام ان کا زیادہ تر معاش کا ذریعہ رہا۔آپ ناز خیالوی کی شاعری کو پڑھیں یا سنیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کیسے کیسے مضامین اس نابغہ روزگار شخصیت کے دماغ پر اترے۔آپ ان کی اردو نظم ’تم اک گورکھ دھندہ ہو ‘ کو ہی سن لیں۔ اس نظم کی شاعری آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی۔ اقبال کا شکوہ جواب شکوہ اپنی جگہ مگر اس نظم میں موجود اپنے رب سے کلامی اس سے بھی آگے کی بات لگے گی۔اسی نظم نے ناز خیالوی کو بام عروج بخشا اور نصرت فتح علی خان کی گائیکی کو بھی چار چاند لگا دیے۔ناز خیالوی کی شاعری میں تصوف اور مزاحمت کا رنگ نمایاں رہا۔ ان کی زندگی میں پنجابی کلام پر مبنی کتاب ’سائیاں وے‘ شائع ہوئی، پھر ان کی اردو شاعری کی کتاب ’لہو کے پھول‘ شائع ہوئی۔ان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے شاہد اور شاگرد جاوید اقبال زاہد نے ان کا غیر مطبوعہ کلام شائع کرایا، جس کا نام ’تم اک گورکھ دھندہ ہو‘ تھا۔ناز خیالوی 12 دسمبر، 2010 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے نام پر قائم کی گئی بزم ناز خیالوی کے زیر اہتمام ہر سال ان کی برسی پر
توشہ خانہ کیس کے فیصلے سے کئی ارکان اسمبلی کے مستقبل کو خطرہ
محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
