کیا پاکستان میں مہنگے آٹے کی فروخت انتظامی مسئلہ ہے؟

ملک میں آٹے کی قلت اور قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے محکمہ خوراک نے حکومت کو 19 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، 10 لاکھ ٹن ٹریڈنگ کارپوریشن جبکہ 9 لاکھ ٹن پرائیویٹ سیکٹر کو گندم کی درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب افتخار احمد مٹو نے کہا ہے کہ رواں برس ملک میں گندم کی بمپر پیداوار میں کوئی شک نہیں، جس نے گزشتہ چند سالوں کے ریکارڈ توڑے ہیں مگر ملک میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منافع خور مافیا کو گندم دی گئی جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ سب محکمہ خوراک کی غلط پالیسیوں کی بنا پر ہوا، جس کی وجہ سے رواں برس فلور ملز کو 10 لاکھ ٹن گندم کم ملی۔افتخار مٹو کے مطابق گندم درآمد کرنے کے فیصلے کی جلد منظوری کی صورت میں آٹے کی قیمت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اور منظوری کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ حکومت گندم روس سے درآمد کرے گی یا پھر اوپن بڈنگ کے ذریعے درآمد کی جائے گی۔پاکستان گزشتہ چند برسوں سے گندم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 22 سے 23 لاکھ ٹن سالانہ گندم درآمد کرتا رہا ہے، گندم کا ذخیرہ صرف دو شعبوں کے لیے ممکن ہے، ایک تو حکومت اور دوسرا فلور انڈسٹری، یا پھر گاؤں اور دیہات کے وہ لوگ جو سالانہ اپنی خوراک کا ذخیرہ کرتے ہیں مگر انہیں بھی 25 من سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے۔ ’اس بار ہر دوسرے شخص نے گندم کا ذخیرہ کیا ہے، چاہے وہ جس مرضی شعبے سے تعلق رکھتا ہو اس کے پاس گندم موجود ہے۔افتخار مٹو کے مطابق حکومت 40 کلو گندم 3900 روپے میں خرید کر آگے ہمیں اگر 3400 روپے میں دیتی ہے تو آٹے کی قیمتوں میں کمی ہوگی اگر وہی گندم ہمیں 4600 میں ملتی ہے تو ظاہری سی بات ہے کہ آٹے کہ قیمت مزید بڑھے گی، ورنہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔اسلام آباد کے رہائشی محمد سہیل نے آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ہرچیز کی قیمت میں دن بہ دن پھر اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اگر ایک چیز ایک دن سستی ہوتی ہے تو چند دنوں بعد اس کی قیمت میں دگنا اضافہ ہو جاتا ہے۔روسی تیل کی برآمد پر بھی کہا جاتا رہا کہ عوام کو ریلیف ملے گا۔ 15 روز قبل وزیر خزانہ نے 9 روپے پیٹرول سستا کیا اور اب دوگنا سے بھی زائد اضافہ کردیا ہے۔ 9 روپے کمی کر کے 19 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی ہے، عجیب ڈرامہ ہے۔محمد سہیل کے مطابق آٹے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، اول تو قیمتوں میں کمی مشکل ہے اور اگر ہو بھی گئی تو وہ بھی ہمارے لیے کسی بوجھ سے کم نہیں ہوگی کیونکہ اب ہم جانتے ہیں جتنے روپے
جسٹس بندیال نظام عدل کیلئے کلنک کا ٹیکہ کیسے ثابت ہوئے؟
سستا ہوگا اس کے چند دن بعد دوگنا مہنگا ہو جائے گا۔
